کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: بعض حضرات بیت اللہ کے لیے ھدیہ کو ناپسند کرتے ہیں اور اس کی جگہ صدقہ کو اختیار کیا ہے
حدیث نمبر: 12755
١٢٧٥٥ - حدثنا وكيع عن إسماعيل عن قيس أن امرأة قالت: كنت عند عائشة أم المؤمنين فأتتها امرأة (بحلي) (١) فقالت: إني جئت (بهذا) (٢) هدية إلى الكعبة فقالت لها عائشة: لو أعطيته في سبيل اللَّه واليتامى والمساكين، إن هذا البيت يعطى وينفق عليه (٣) (من مال اللَّه) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس فرماتے ہیں کہ ایک عورت کہتی ہے کہ میں ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھی تو ایک عورت اپنا زیور لے کر آئی اور عرض کیا میں یہ بیت اللہ کے لیے ھدیہ لے کر آئی ہوں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس سے فرمایا : اگر تو اس کو اللہ کے راستے میں دے دیتی یتیموں اور مسکینوں کو، (تو یہ بہتر تھا) بیشک اس گھر کے لیے اللہ کے خزانوں سے عطا اور خرچ کیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 12756
١٢٧٥٦ - حدثنا وكيع عن مسعر (عن) (١) أبي (العنبس) (٢) عن القاسم عن عائشة (قالت) (٣): لئن أتصدق بخاتمي هذا أحب إليّ من أن أهدي إلى الكعبة ألفًا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں اپنی یہ انگوٹھی صدقہ کر دوں یہ مجھے اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ میں کعبہ کے لیے ایک ہزار ھدیہ کروں۔
حدیث نمبر: 12757
١٢٧٥٧ - حدثنا عباد بن العوام عن هشام عن القاسم بن محمد قال: سمعته يقول: (لئن) (١) أتصدق بدرهم أحب إليَّ من أن أهدي إلى (بيت اللَّه) (٢) مائة ألف درهم، ولو (سال) (٣) علي وادي مال ما أهديت إلى البيت منها درهمًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ میں ایک درھم اللہ کی راہ میں صدقہ کروں یہ مجھے اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ میں بیت اللہ کے لیے ایک لاکھ درھم ھدیہ کروں، اگر میری طرف پوری وادی مال کی بہے (مجھے ملے) تو میں اس میں سے ایک درھم بھی بیت اللہ کے لیے ھدیہ نہ کروں۔
حدیث نمبر: 12758
١٢٧٥٨ - حدثنا أبو بكر قال حدثنا محبوب القواريري عن (١) مالك عن حبيب عن سالم قال: سأله رجل عن هدية الكعبة، فقال: إن الكعبة لغنية عن هديتك، أعطها إنسانا فقيرا أو مسكينا فأطعمه كسرة.