حدیث نمبر: 12706
١٢٧٠٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن حصين عن أبي مالك قال: يمين لا تكفر، الرجل (يحلف) (١) على الكذب يتعمده، فذلك إلى اللَّه، إن شاء عذبه وإن شاء غفر له.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مالک فرماتے ہیں کہ وہ قسم جس پر کفارہ نہیں ہے، کوئی شخص دانستہ جھوٹ پر قسم اٹھائے تو وہ اللہ پر ہے اگر چاہے تو اس کو عذاب دے اور اگر چاہے تو معاف کر دے۔
حدیث نمبر: 12707
١٢٧٠٧ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن شعبة عن الحكم وحماد في الرجل يحلف على الشيء يتعمده قال حماد: ليس لهذا كفارة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر کسی چیز پر قسم اٹھائے تو حضرت حماد فرماتے ہیں اس پر کفارہ نہیں ہے اور حضرت حکم فرماتے ہیں کہ کفارہ ادا کرنا بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 12708
١٢٧٠٨ - وقال الحكم: الكفارة خير.
حدیث نمبر: 12709
١٢٧٠٩ - حدثنا حفص عن الحجاج عن الحكم عن إبراهيم في الرجل يحلف على الشيء عنده، ولا يدري (ثم يدري) (١) أنه عنده، قال: يكفر (٢) يمينه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کسی چیز کے بارے میں قسم اٹھائے کہ وہ اس کے پاس ہے اور اس کو معلوم نہ ہو، پھر اس کو معلوم ہوجائے کہ وہ اس کے پاس ہے، فرماتے ہیں یمین کا کفارہ ادا کرے، اور حضرت عطاء اور حضرت حکم فرماتے ہیں اس کے متعلق جس میں کفارہ ادا نہ کیا جاتا ہو، فرماتے ہیں کفارہ ادا کرے۔
حدیث نمبر: 12710
١٢٧١٠ - قال: وقال عطاء والحكم في (الذي لا يكفر) (١): كفر.
حدیث نمبر: 12711
١٢٧١١ - حدثنا حفص عن ليث عن حماد عن إبراهيم قال: الأيمان أربعة، ⦗٣٠٧⦘ فيمينان يكفران (ويمينان لا يكفران) (١) واللَّه لأفعل واللَّه (لا أفعل) (٢) قال: فهما يكفران، وواللَّه (٣) فعلت وواللَّه (ما فعلته) (٤)، (وقد فعل) (٥) فلا يكفران.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ یمین کی چار قسمیں ہیں دو قسموں کا کفارہ ہے اور دو کا کفارہ نہیں ہے، اللہ کی قسم نہیں کروں گا یا اللہ کی قسم ضرور کروں گا ان دونوں میں کفارہ ہے، اور اللہ کی قسم میں نے نہیں کیا، اور اللہ کی قسم میں کرچکا ان میں کفارہ نہیں ہے۔