حدیث نمبر: 12661
١٢٦٦١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سفيان بن عيينة عن الزهري عن سالم عن أبيه قال سمع النبي ﷺ عمر (١) (يقول) (٢): وأبي (وأبي) (٣) فقال رسول اللَّه ﷺ: "إن اللَّه ينهاكم أن تحلفوا بآبائكم"، فقال عمر: واللَّه لا حلفت بها لا ذاكرًا ولا آثرًا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سنا کہ حضرت عمر اپنے والد کی قسم کھا رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہیں اپنے آباؤ اجداد کی قسمیں کھانے سے روکا ہے، حضرت عمر فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم میں نے جان بوجھ کر اور نہ ہی بھول کر آباء و اجداد کی قسم کھائی۔
حدیث نمبر: 12662
١٢٦٦٢ - حدثنا ابن علية عن إسماعيل بن أمية عن نافع عن ابن عمر قال: أدرك النبي ﷺ عمر في بعض أسفاره، وهو يقول: وأبي، وأبي فقال: كان اللَّه ينهاكم أن تحلفوا بآبائكم، من حلف فليحلف باللَّه أو ليسكت" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر کو پایا کہ وہ اپنے باپ کی قسم کھا رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے تمہیں آباء کی قسمیں اٹھانے سے منع فرمایا ہے، جس نے قسم اٹھانی ہے وہ اللہ کی قسم اٹھائے یا خاموش ہوجائے۔
حدیث نمبر: 12663
١٢٦٦٣ - حدثنا (عبد الأعلى) (١) عن هشام عن الحسن عن عبد الرحمن بن سمرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا تحلفوا بآبائكم ولا (بالطواغي) (٢) " (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن سمرہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اپنے آباؤ اجداد اور شیطانوں کی قسم مت اٹھاؤ۔
حدیث نمبر: 12664
١٢٦٦٤ - حدثنا أبو الأحوص عن سماك عن عكرمة قال: قال عمر: (حدثت) (١) قومًا حديثًا، فقلت: لا؛ وأبي، فقال رجل من خلفي: " (لا تحلفوا) (٢) بآبائكم"، (قال) (٣): فالتفت (فإذا) (٤) رسول اللَّه ﷺ فقال: "لو أن أحدكم حلف بالمسيح لهلك، والمسيح خير من آبائكم" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر فرماتے ہیں کہ میں نے ایک قوم سے کوئی بات کی پھر میں نے کہا نہیں میرے باپ کی قسم، ایک شخص نے میرے پیچھے سے کہا : اپنے آباؤ اجداد کی قسم مت اٹھاؤ، جب میں اس کی طرف متوجہ ہوا تو میں نے دیکھا وہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگر کوئی شخص حضرت مسیح کی قسم اٹھائے تو وہ ھلاک ہوگیا حالانکہ حضرت مسیح تمہارے آباء سے افضل اور بہتر تھے۔
حدیث نمبر: 12665
١٢٦٦٥ - حدثنا (عمرو) (١) بن طلحة عن أسباط بن نصر (عن) (٢) سماك عن عكرمة عن ابن عباس عن عمر أنه قال: حلفت بأبي، وإذا رجل من خلفي يقول: "لا تحلفوا بآبائكم"، فالتفت فإذا هو رسول اللَّه ﷺ (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کی قسم اٹھائی میرے پیچھے سے ایک شخص نے کہا اپنے آباؤ اجداد کی قسم مت اٹھاؤ، جب میں اس کی طرف متوجہ ہوا تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے۔
حدیث نمبر: 12666
١٢٦٦٦ - حدثنا وكيع عن الأعمش عن (سعد) (١) بن عبيدة قال: كنا مع (ابن) (٢) عمر في حلقة فسمع رجلًا يقول: لا وأبي. فرماه بالحصا، وقال: إنها ⦗٢٩٧⦘ كانت (يمين عمر) (٣)، (فنهاه) (٤) النبي ﷺ عنها وقال: "إنها شرك" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد بن عبیدہ فرماتے ہیں کہ ہم حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ ایک حلقہ (مجلس) میں تھے، آپ نے سنا ایک شخص اپنے باپ کی قسم اٹھا رہا تھا، آپ نے اس کو کنکر مارا اور فرمایا یہ حضرت عمر کی قسم تھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اس سے روکا اور فرمایا یہ شرک ہے۔
حدیث نمبر: 12667
١٢٦٦٧ - (حدثنا وكيع عن مسعر) (١) عن عبد الملك بن ميسرة (عن الحسين بن محمد قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "ليس منا من حلف بغير اللَّه أو قال بغير الإسلام) (٢) " (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن بن محمد سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو غیر اللہ یا غیر اسلام کی قسم اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں۔
حدیث نمبر: 12668
١٢٦٦٨ - (حدثنا وكيع عن مسعر) (١) (عن وبرة) (٢) قال: قال عبد اللَّه: لأن أحلف باللَّه كاذبا أحب إلي من (أن) (٣) أحلف بغيره وأنا صادق (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ میں اللہ پر جھوٹی قسم اٹھاؤں یہ مجھے زیادہ پسند ہے کہ اس بات سے کہ میں غیر اللہ کی قسم اٹھاؤں اور میں سچا ہوں۔
حدیث نمبر: 12669
١٢٦٦٩ - حدثنا يزيد بن هارون عن هشام عن الحسن قال: مر عمر بالزبير وهو يقول: لا والكعبة، فرفع عليه الدرة وقال: الكعبة -لا أم لك- تطعمك وتسقيك (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ حضرت عمر حضرت زبیر کے پاس سے گزرے وہ کعبہ کی قسم اٹھا رہے تھے، حضرت عمر نے اپنا درہ ان پر بلند کیا اور فرمایا : کعبہ ! تیری ماں نہ ہو، وہ تجھے کھلاتا ہے اور پلاتا ہے ؟۔
حدیث نمبر: 12670
١٢٦٧٠ - حدثنا ابن فضيل عن العلاء بن المسيب عن أبيه قال: (قال) (١) كعب: إنكم تشركون، قالوا: (وكيف) (٢) يا أبا إسحاق؟ قال: يحلف الرجل: لا وأبي، لا وأبيك، لا لعمري، لا وحياتك، لا وحرمة المسجد، لا والإسلام وأشباهه من القول (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کعب نے فرمایا بیشک تم لوگ شرک کرتے ہو، لوگوں نے عرض کیا اے ابو اسحاق ! کیسے ؟ آپ نے فرمایا : لوگ قسمیں اٹھاتے ہیں میرے باپ کی قسم، تیرے باپ کی قسم، میری زندگی اور عمر کی قسم، تیری زندگی کی قسم، مسجد کی حرمت کی قسم، اسلام کی قسم اور اس کے مشابہہ دوسری قسمیں (یہ سب شرک ہی تو ہے) ۔
حدیث نمبر: 12671
١٢٦٧١ - حدثنا ابن فضيل عن أشعث عن الحسن قال: لقد أدركت الناس، ولو أن رجلًا ركب راحلته (لأنضاها) (١) قبل أن يسمع رجلا يحلف بغير اللَّه.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ میں نے لوگوں کو پایا کہ اگر ان میں سے کوئی سواری پر سوار ہوتا تو وہ فوراً اس سے پہلے کہ کوئی غیر اللہ کی قسم کھائے اپنی سواری دوڑا دیتا تھا۔ (یعنی غیر اللہ کی قسم سے وہ لوگ اتنا ڈرتے تھے) ۔
حدیث نمبر: 12672
١٢٦٧٢ - [حدثنا يزيد بن هارون عن ابن عون عن (القاسم) (١) قال: لا تحلفوا بآبائكم ولا (بالطواغيت) (٢)] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اپنے آباؤ اجداد اور طاغوت کی قسم مت اٹھاؤ۔
حدیث نمبر: 12673
١٢٦٧٣ - حدثنا ابن مهدي عن أبي عوانة عن إسماعيل بن هشام (عن) (١) القاسم بن مخيمرة قال: ما أبالي حلفت بحياة رجل أو (بالصليب) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم بن مخیمرہ فرماتے ہیں کہ میں پروا نہیں کرتا کہ میں کسی شخص کی زندگی کی قسم اٹھاؤں یا صلیب کی قسم اٹھاؤں، (دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے) ۔
حدیث نمبر: 12674
١٢٦٧٤ - حدثنا حفص عن الأعمش عن إبراهيم أنه كره أن يقول: لا وحياتك.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ کوئی شخص زندگی کی قسم اٹھائے۔
حدیث نمبر: 12675
١٢٦٧٥ - حدثنا كثير بن هشام عن جعفر بن برقان عن ميمون قال: سمعته يقول: إن اللَّه تعالى يقسم (بما شاء من خلقه، وليس لأحد أن يقسم إلا) (١) باللَّه ومن أقسم (باللَّه) (٢) فلا يكذب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت میمون فرماتے ہیں کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں جو چاہا تقسیم کیا اور کسی شخص کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ غیر اللہ کی قسم اٹھائے، اور جو اللہ کی قسم اٹھائے وہ جھوٹی قسم نہ اٹھائے۔
حدیث نمبر: 12676
١٢٦٧٦ - حدثنا خالد بن مخلد قال: حدثنا عبد اللَّه بن جعفر عن أم بكر بنت المسور أن السور سمع أبنا له وهو يقول: أشركت باللَّه، أو كفرت باللَّه (فضربه) (١) ثم قال: قل: أستغفر اللَّه، آمنت باللَّه ثلاثًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام بکر بنت مسور فرماتی ہیں کہ حضرت مسور نے اپنے بیٹے سے سنا وہ کہہ رہا تھا میں نے اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرایا یا میں نے اللہ کے ساتھ کفر کیا، آپ نے اس کو مارا اور فرمایا اَسْتَغْفِرُ اللَّہَ کہہ اور آمَنْت بِاللَّہِ کہہ، تین بار یہی فرمایا۔
حدیث نمبر: 12677
١٢٦٧٧ - حدثنا (عبيد اللَّه) (١) قال أنبانا إسرائيل عن أبي إسحاق عن مصعب بن (سعد) (٢) عن أبيه أنه قال: حلفت باللات والعزى، فأتيت النبي ﷺ فقلت: إني حلفت باللات والعزى، قال: "قل لا إله إلا اللَّه ثلاثًا وانفث عن شمالك ثلاثًا وتعوذ باللَّه من الشيطان ثم لا تعد" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مصعب بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے لات وعزیٰ کی قسم اٹھائی، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا، میں نے لات وعزیٰ کی قسم اٹھائی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تین بار لا الہ الا اللہ کہہ، اور اپنی بائیں جانب تین بار تھوک دے اور اللہ سے شیطان کی پناہ مانگ پھر دوبارہ ایسا نہ کہنا۔