کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: میت پر رونے کی ممانعت
حدیث نمبر: 12490
١٢٤٩٠ - حدثنا علي بن مسهر عن الشياني عن أبي بردة عن أبيه قال: لما ⦗٢٥٣⦘ أصيب عمر جعل صهيب يقول: واأخاه، قال: فقال له عمر: يا صهيب أما علمت أن النبي ﷺ قال: "إن الميت ليعذب ببكاء الحي" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو بردہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت عمر کو زخم لگا تو حضرت صھیب ہائے ہمارے بھائی (کہہ کر رونے لگے) حضرت عمر نے فرمایا : اے صھیب ! کیا تجھے نہیں معلوم کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے : بیشک زندوں کے رونے کی وجہ سے میت کو عذاب ہوتا ہے ؟
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12490
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه مسلم (٩٢٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12490، ترقيم محمد عوامة 12241)
حدیث نمبر: 12491
١٢٤٩١ - حدثنا محمد بن (بشر) (١) حدثنا (عبيد اللَّه) (٢) بن (عمر عن) (٣) نافع عن (عبد اللَّه أن) (٤) حفصة بكت على عمر فقال (لها) (٥): مهلا يا بنية ألم تعلمي أن النبي ﷺ قال: "إن الميت ليعذب ببكاء أهله عليه" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب حضرت عمر زخمی ہوئے تو حضرت حفصہ نے رونا شروع کردیا تو حضرت عمر نے فرمایا : اے بیٹی ! رونا چھوڑ دے کیا تو نہیں جانتی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بیشک میت کو عذاب دیا جاتا ہے اس کے اھل کے اس پر رونے کی وجہ سے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12491
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه مسلم (٩٢٧)، وأحمد (٢٤٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12491، ترقيم محمد عوامة 12242)
حدیث نمبر: 12492
١٢٤٩٢ - حدثنا غندر عن شعبة قال: سمعت عبد اللَّه بن صبيح قال: سمعت محمد بن سيرين قال: ذكروا عند عمران بن الحصين [النوح (فقال) (١): إن] (٢) الميت يعذب ببكاء الحي قالوا: وكيف يعذب ببكاء الحي قال: قد قاله رسول اللَّه ﷺ (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت عمران بن حصین کے سامنے ذکر کیا کہ میت کو عذاب ہوتا ہے زندوں کے رونے کی وجہ سے، لوگوں نے پوچھا کیسے عذاب ہوتا ہے زندہ کے رونے کی وجہ سے ؟ آپ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12492
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عبد اللَّه بن صبيح صدوق، أخرجه أحمد (١٩٩١٨)، والنسائي ٤/ ١٥، وابن حبان (٣١٣٤)، والطيالسي (٨٥٥)، والطبراني ١٨/ ٤٤٠، وابن عدي ٢/ ٧٣٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12492، ترقيم محمد عوامة 12243)
حدیث نمبر: 12493
١٢٤٩٣ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي صالح عن ابن عمر قال: قال رسول اللَّه ﷺ (١): "إن الميت ليعذب ببكاء الحي" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیشک میت کو زندہ کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12493
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه مسلم (٩٢٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12493، ترقيم محمد عوامة 12244)
حدیث نمبر: 12494
١٢٤٩٤ - حدثنا ابن عيينة عن ابن (أبي نجيح) (١) عن أبيه عن عبيد بن عمير قال: قالت أم سلمة: لما مات أبو سلمة قلت: (غريبة) (٢) وفي أرض (غربة) (٣) (لأبكينه) (٤) بكاء يتحدث عنه، فكنت قد تهيأت للبكاء إذ أقبلت امرأة من (الصعيد) (٥) تريد أن تسعدني فاستقبلها رسول اللَّه ﷺ فقال: (تريدين) (٦) أن (تدخلي) (٧) الشيطان (بيتًا) (٨) أخرجه اللَّه (منه) (٩) مرتين"، (قالت) (١٠): فسكت عن البكاء فلم أبك (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ جب حضرت ابو سلمہ کا انتقال ہوا تو میں نے کہا میں مسافرہ ہوں، اجنبی زمین میں ہوں، میں ان کے لیے ایسا روؤں گی جو اس سے بیان کیا جائے گا، جب میں نے رونے کا (نوحہ) ارادہ کیا تو ایک عورت اونچی زمین سے میرے پاس آئی جو میری مدد کرنا چاہتی تھی رونے میں، بس حضور اقدس متوجہ ہوئے اور فرمایا : کیا تم دونوں چاہتی ہو شیطان کو اس گھر میں داخل کردو جس سے اللہ تعالیٰ نے اس کو نکالا ہے ؟ دو بار یہی ارشاد فرمایا، فرماتی ہیں میں رونے سے خاموش ہوگئی پھر میں نہ روئی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12494
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه مسلم (٩٢٢) وأحمد (٢٦٤٧٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12494، ترقيم محمد عوامة 12245)
حدیث نمبر: 12495
١٢٤٩٥ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير ثنا محمد بن إسحاق عن عبد الرحمن بن القاسم عن أبيه عن عائشة قالت: لما أتت (وفاة) (١) جعفر عرفنا في وجه رسول اللَّه ﷺ الحزن، فدخل عليه رجل فقال: يا رسول اللَّه إن النساء يبكين، قال: "فارجع ⦗٢٥٥⦘ (إليهن) (٢) فأسكتهن، فإن أبين (فاحث) (٣) في وجوههن (٤) التراب"، (قال) (٥) قالت عائشة: فقلت في نفسي: واللَّه (لا) (٦) تركت نفسك و (لا) (٧) أنت مطيع رسول اللَّه ﷺ (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب حضرت جعفر کی وفات کی اطلاع آئی تو میں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرہ انور پر غم کے اثرات دیکھے، ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! عورتیں رو رہی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ان کی طرف جاؤ ان کو چپ کر اؤ اگر خاموش ہونے سے انکار کردیں تو ان کے چہروں پر مٹی ڈال دو ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اپنے دل میں کہا خدا کی قسم تو نے اپنے نفس کو نہ چھوڑا اور نہ ہی تو رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مطیع ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12495
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ ابن إسحاق صدوق وصرح بالسماع عند أحمد وغيره، والحديث أخرجه البخاري (١٢٩٩)، ومسلم (٩٣٥)، وأحمد (٢٦٣٦٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12495، ترقيم محمد عوامة 12246)
حدیث نمبر: 12496
١٢٤٩٦ - حدثنا ابن نمير ثنا هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة (أنها) (١) قيل لها: (إن) (٢) ابن عمر يرفع إلى النبي ﷺ: "إن الميت يعذب ببكاء الحي"، (فقالت) (٣): وَهَلَ أبو عبد الرحمن إنما قال: "إن أهل الميت يبكون عليه وإنه ليعذب بجرمه" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ان سے کہا گیا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مرفوعا روایت کرتے ہیں کہ میت کو قبر میں عذاب دیا جاتا ہے زندہ کے رونے کی وجہ سے فرماتی ہیں کہ حضرت ابو عبد الرحمن کا گمان یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں فرمایا : میت کے گھر والے اس پر رو رہے ہوتے ہیں اور اس کو اپنے جرموں کی وجہ سے عذاب ہو رہا ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12496
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (٣٩٧٨) ومسلم (٩٣١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12496، ترقيم محمد عوامة 12247)
حدیث نمبر: 12497
١٢٤٩٧ - حدثنا محمد بن (بشر) (١) حدثنا مسعر عن الهجري عن ابن أبي أوفى قال: رأى النساء (يترثين) (٢) فقال: لا تترثين فإن رسول اللَّه ﷺ ⦗٢٥٦⦘ (نهانا أن نتراثى) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت الھجری سے مروی ہے کہ حضرت ابن ابی اوفیٰ نے عورتوں کو میت پر (واویلا مچا کر) روتے ہوئے دیکھا تو فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نوحے کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12497
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف الهجري، أخرجه أحمد (١٩١٤٠)، والحاكم ١/ ٣٥٩، وعبد الرزاق (٦٤٠٤)، والحميدي (٧١٨)، وأبو نعيم في الحلية ٧/ ٣٢٣، وابن ماجه (١٥٠٣)، والطيالسي (٨٢٥)، والطحاوي ١/ ٤٩٥، وابن عدي ١/ ٢١٥، والبيهقي ٤/ ٣٦، والطبراني في الصغير (٢٦٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12497، ترقيم محمد عوامة 12248)
حدیث نمبر: 12498
١٢٤٩٨ - حدثنا الفضل (بن دكين) (١) ثنا إسرائيل (عن) (٢) عبد اللَّه (بن عيسى) (٣) عن (جبر) (٤) بن عتيك عن عمه قال: دخلت مع النبي ﷺ على رجل من الأنصار وأهله (يبكون فقلت: أ) (٥) تبكون عليه وهذا رسول اللَّه ﷺ فقال رسول اللَّه ﷺ: "دعهن يبكين ما دام عندهن، فإذا وجب (٦) (فلا يبكين) (٧) " (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جبر بن عتیک اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک انصاری شخص (کے جنازے پر) حاضر ہوا اس کے گھر والے اس پر رو رہے تھے، میں نے کہا کیا تم روتے ہو یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (تم میں) موجود ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا چھوڑ دو ان کو رونے دو ، جب اس پر واجب ہوجائے گا (قبر میں اتار دیا جائے گا تو) یہ نہیں روئیں گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12498
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12498، ترقيم محمد عوامة 12249)