حدیث نمبر: 12472
١٢٤٧٢ - حدثنا أسود بن عامر ثنا شعبة عن قتادة عن سعيد بن المسيب عن ابن عمر (عن عمر) (١) عن النبي ﷺ قال: "الميت يعذب في قبره بالنياحة" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیشک قبر میں میت کو عذاب دیا جاتا ہے (ان کے رشتہ داروں کے) نوحہ کرنے کی وجہ سے۔
حدیث نمبر: 12473
١٢٤٧٣ - حدثنا وكيع (ثنا) (١) سعيد بن عبيد ومحمد بن قيس الأسدي (٢) (سمعاه) (٣) من علي بن ربيعة الوالبي قال: أول من نيح عليه بالكوفة (قرظة) (٤) ⦗٢٤٨⦘ بن كعب الأنصاري فقام المغيرة بن شعبة فقال: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "من نيح عليه فإنه يعذب في قبره بما نيح عليه" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن عبید اور حضرت محمد بن قیس فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ربیعہ الوالبی سے سنا کہ کوفہ میں سب سے پہلے مرنے والے پر نوحہ قرظہ بن کعب الانصاری نے کیا، حضرت مغیرہ بن شعبہ کھڑے ہوگئے اور فرمایا : میں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہیں ہوئے سنا کہ : جو شخص مرنے والے پر نوحہ کرتا ہے تو اس نوحہ کی وجہ سے اس کو قبر میں عذاب دیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 12474
١٢٤٧٤ - حدثنا وكيع عن سعيد بن عبيد عن عبادة بن الوليد بن عبادة عن ابن عمر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من نيح عليه فإنه يعذب بما نيح عليه يوم القيامة" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو مرنے والے پر نوحہ کرتا ہے تو اس نوحہ کی وجہ سے اس کو قبر میں عذاب دیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 12475
١٢٤٧٥ - حدثنا أبو معاوية عن عاصم (عن) (١) حفصة عن أم عطية قالت: لما نزلت: ﴿إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ﴾ إلى قوله: ﴿وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ فَبَايِعْهُنَّ﴾ [الممتحنة: ١٢]، (قالت: كانت منه النياحة) (٢)، [فقلت: يا رسول اللَّه إلا آل (٣) فلان فإنهم كانوا قد أسعدوني في الجاهلية فقال: إلا آل (٤) فلان] (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام عطیہ فرماتی ہیں کہ جب قرآن پاک کی آیت { اِِذَا جَائَکَ الْمُؤْمِنَاتُ یُبَایِعْنَکَ } سے لے کر { وَلاَ یَعْصِیْنَکَ فِیْ مَعْرُوفٍ } تک نازل ہوئیں تو اس میں نوحہ نہ کرنا بھی شامل تھا، میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! سوائے فلان کی آل کے، بیشک انہوں نے زمانہ جاہلیت میں میری مدد کی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : سوائے فلان کے آل کے۔
حدیث نمبر: 12476
١٢٤٧٦ - [حدثنا وكيع عن يزيد بن عبد اللَّه مولى الصهباء عن (شهر) (١) بن حوشب عن أم سلمة عن النبي ﷺ ﴿وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ﴾، (قالت) (٢): ⦗٢٤٩⦘ النوح] (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : قرآن کی آیت { وَلاَ یَعْصِیْنَکَ فِیْ مَعْرُوفٍ } میں نوحہ نہ کرنا بھی شامل ہے۔
حدیث نمبر: 12477
١٢٤٧٧ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن (أبي) (١) صالح عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: (٢) "إن مما بالناس (كفرا) (٣) النياحة والطعن في الأنساب" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیشک لوگوں میں دو کفر کی (علامتیں) موجود ہیں، نوحہ کرنا اور نسب میں طعن کرنا۔
حدیث نمبر: 12478
١٢٤٧٨ - [حدثنا عفان حدثنا أبان العطار ثنا يحيى بن أبي (١) كثير عن زيد (عن) (٢) أبي سلام عن (أبي) (٣) مالك (الأشعري) (٤) أن النبي ﷺ قال: "أربع في أمتي من الجاهلية لا يتركونهن: (الفخرُ) (٥) في الأحساب] (٦)، (والطعن في الأنساب) (٧)، والاستسقاء بالنجوم، (والنياحة) (٨) والنائحة (إذا) (٩) ⦗٢٥٠⦘ لم تتب (١٠) قبل موتها (تقام) (١١) يوم القيامة عليها سربال من قطران ودرع من جرب" (١٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مالک اشعری سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میری امت میں زمانہ جاہلتو کی چار باتیں موجود ہیں انہوں نے ان کو ترک نہ کیا، حسب پر فخر کرنا، نسب میں طعن کرنا، ستاروں سے پانی طلب کرنا اور نوحہ کرنا اور نوحہ کرنے والی اگر توبہ کرنے سے قبل فوت ہوجائے تو اس کو قیامت کے دن کھڑا کیا جائے گا اور اس پر تارکول کی قمیص اور خارش زدہ چادر ہوگی۔
حدیث نمبر: 12479
١٢٤٧٩ - حدثنا وكيع عن (ابن) (١) أبي خالد عن الشعبي عن الحارث عن علي قال: نهى عن النوح (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ نوحہ کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 12480
١٢٤٨٠ - حدثنا ابن نمير عن (مجالد) (١) عن الشعبي عن (عبد) (٢) اللَّه عن على (عن) (٣) النبي ﷺ أنه نهى عن النوح (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نوحہ کرنے سے منع فرمایا۔
حدیث نمبر: 12481
١٢٤٨١ - [حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن سالم: ﴿وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ﴾ قال: النوح] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم فرماتے ہیں کہ قرآن پاک کی آیت { وَلاَ یَعْصِیْنَکَ فِیْ مَعْرُوفٍ } سے مراد نوحہ نہ کرنا ہے۔
حدیث نمبر: 12482
١٢٤٨٢ - حدثنا وكيع عن سفيان عن هلال بن خباب عن أبي (البختري) (١) قال: النوح على الميت من أمر الجاهلية.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو البختری فرماتے ہیں کہ میت پر نوحہ جاہلیت کے کاموں میں سے ہے۔
حدیث نمبر: 12483
١٢٤٨٣ - حدثنا وكيع (ثنا) (١) إسحاق بن عثمان (الكلابي) (٢) عن إسماعيل بن عبد الرحمن بن عطية الأنصاري عن أمه قال: قلت لها: ما المعروف الذي نهيتن عنه (قالت) (٣): النياحة (٤).
حدیث نمبر: 12484
١٢٤٨٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن زيد بن أسلم ﴿وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ﴾ قال: لا يشققن جيبًا ولا يخمشن وجهًا ولا (ينشرن) (١) شعرًا ولا يدعون ويلًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن اسلم فرماتے ہیں کہ قرآن پاک کی آیت { وَلاَ یَعْصِیْنَکَ فِیْ مَعْرُوفٍ } سے مراد، عورتیں اپنے گریبان چاک نہیں کریں گی، چہروں پر نہیں ماریں گی، بالوں کو نہیں پھیلائے (بکھیریں) گی اور آہ آہ (مصیبت کے وقت چیخنا اور نوحہ کرنا) نہیں پکا ریں گی۔
حدیث نمبر: 12485
١٢٤٨٥ - حدثنا وكيع عن أبي جعفر الرازي عن الربيع عن أبي العالية ﴿وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ﴾ قال: (النوح قال: ففي) (١) كل أمر وافق (للَّه) (٢) طاعة فلم يرض لنبيه (ﷺ) أن يطاع في (معصية اللَّه) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو العالیہ فرماتے ہیں کہ { وَلاَ یَعْصِیْنَکَ فِیْ مَعْرُوفٍ } میں معروف سے مراد ہر وہ کام ہے جو اللہ کی اطاعت کے موافق ہو، اور اس کا نبی راضی نہ ہوگا کہ اللہ کی معصیت میں اس کی اطاعت کی جائے۔
حدیث نمبر: 12486
١٢٤٨٦ - حدثنا وكيع عن قاسم (الجعفي) (١) قال: سمعت الشعبي يقول: لعنت النائحة والممسكة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ نوحہ کرنے والی اور نوحہ سننے والی پر لعنت کی گئی ہے۔
حدیث نمبر: 12487
١٢٤٨٧ - حدثنا علي بن (هاشم) (١) ووكيع عن (ابن) (٢) أبي ليلى عن عطاء عن جابر أن النبي ﷺ قال: " (إنما) (٣) نهيت عن النوح" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نوحہ کرنے سے منع فرمایا۔