کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: میت کو دفنانے کے بعد اس کی نماز جنازہ ادا کرنا، کس نے اس طرح کیا ہے؟
حدیث نمبر: 12293
١٢٢٩٣ - حدثنا هشيم وحفص عن الشيباني عن الشعبي عن ابن عباس قال: صلى النبي ﷺ على قبر (بعد) (١) ما دفن (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میت کو دفنانے کی بعد اس کی قبر پر نماز جنازہ ادا فرمائی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12293
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (١٣٢١) ومسلم (٩٥٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12293، ترقيم محمد عوامة 12053)
حدیث نمبر: 12294
١٢٢٩٤ - [حدثنا عبدة بن سليمان عن سعيد عن قتادة عن سعيد بن المسيب أن أم سعد بن عبادة ماتت وهو غائب فلما قدم النبي ﷺ فقال (لرسول اللَّه) (١) ﷺ: إني ⦗١٧٦⦘ أحب أن تصلي على أم سعد، فأتى النبي ﷺ قبرها فصلى عليها] (٢) (٣).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12294
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12294، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 12295
١٢٢٩٥ - [حدثنا هشيم أخبرنا عثمان بن حكيم أخبرنا خارجة بن زيد عن عمه يزيد بن ثابت وكان أكبر من زيد قال: خرجنا مع رسول اللَّه ﷺ فلما وردنا البقيع إذا هو بقبر جديد (فسأل) (١) عنه فقالوا: فلانة، فعرفها فأتى القبر وصففنا خلفه فكبر عليها أربعًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خارجہ بن زید اپنے چچا حضرت یزید بن ثابت سے روایت کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک بار نکلے جب ہم جنت البقیع میں آئے تو وہاں ایک نئی قبر تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں دریافت فرمایا ؟ صحابہ کرام نے عرض کیا فلاں خاتون کی قبر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو پہچانا اور اس کی قبر کے پاس آئے ہم نے آپ کے پیچھے صفیں بنائیں اور آپ نے اس پر چار تکبیریں پڑھیں، (نماز جنازہ ادا فرمائی) ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12295
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12295، ترقيم محمد عوامة 12054)
حدیث نمبر: 12296
١٢٢٩٦ - حدثنا إسماعيل بن علية عن أيوب عن حميد بن هلال أن البراء بن (معرور) (١) توفي (في صفر) (٢) قبل قدوم رسول اللَّه ﷺ المدينة (بشهر) (٣) فلما قدم صلى عليه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمید بن ھلال فرماتے ہیں کہ حضرت البراء بن معرور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مدینہ تشریف لانے سے پہلے ہی وفات پاچکے تھے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ ادا فرمائی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12296
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12296، ترقيم محمد عوامة 12055)
حدیث نمبر: 12297
١٢٢٩٧ - حدثنا يحيى بن آدم (حدثنا) (١) (سفيان عن) (٢) أبي سنان عن عبد اللَّه ابن الحارث عن ابن عباس أن النبي ﷺ صلى على ميت بعد ما دفن (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میت کو دفنانے کے بعد اس کی نماز جنازہ ادا فرمائی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12297
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12297، ترقيم محمد عوامة 12056)
حدیث نمبر: 12298
١٢٢٩٨ - حدثنا عبدة بن سليمان عن سعيد عن قتادة عن سعيد بن المسيب أن أم سعد بن عبادة ماتت وهو غائب فلما قدم أتى النبي ﷺ فقال: يا رسول اللَّه إني أحب أن تصلي على أم سعد، فأتى النبي ﷺ قبرها فصلى عليها] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب فرماتے ہیں کہ حضرت ام سعد بن عبادہ کا انتقال ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم موجود نہ تھے، جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میں چاہتا ہوں کہ آپ ام سعد کی نماز جنازہ ادا فرمائیں، چناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی قبر پر تشریف لائے اور نماز جنازہ ادا فرمائی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12298
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ سعيد بن المسيب تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12298، ترقيم محمد عوامة 12057)
حدیث نمبر: 12299
١٢٢٩٩ - حدثنا هشيم عن يحيى بن سعيد عن القاسم أن النبي ﷺ أتى البقيع فرأى قبرًا جديدًا فقال: "ما هذا القبر؟ " فقيل: فلانة مولاة بني غنم التي كانت (تقم) (١) المسجد، فصلى عليها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنت البقیع میں تشریف لائے اور آپ نے وہاں ایک نئی قبر دیکھی تو دریافت فرمایا یہ کس کی قبر ہے ؟ عرض کیا گیا فلاں خاتون کی جو بنو غنم کی باندی تھی اور مسجد کی صفائی کیا کرتی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ ادا فرمائی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12299
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل، القاسم تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12299، ترقيم محمد عوامة 12058)
حدیث نمبر: 12300
١٢٣٠٠ - حدثنا هشيم (أنا) (١) أشعث عن الشعبي قال: جاء قرظة بن كعب في رهط (معه) (٢) وقد صلى عليٌّ على ابن حنيف ودفن (٣) فأمره علي أن يصلي هو وأصحابه على القبر ففعل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کرم اللہ وجہہ حضرت ابن حنیف کی نماز جنازہ ادا کر کے ان کو دفنا چکے تھے، اتنے میں قرظہ بن کعب چند رفقاء کے ساتھ تشریف لے آئے، حضرت علی رضی اللہ عنہ کرم اللہ وجہہ نے ان کو حکم فرمایا کہ وہ اور ان کے ساتھی ان کی قبر پر جا کر نماز جنازہ ادا کریں، چناچہ انہوں نے اسی طرح کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12300
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12300، ترقيم محمد عوامة 12059)
حدیث نمبر: 12301
١٢٣٠١ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن أبيه عن الحكم قال: جاء سلمان بن ربيعة وقد صلى (عبد اللَّه) (١) على جنازة فقال له عبد اللَّه: تقدم فصل على أخيك بأصحابك (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ حضرت سلمان بن ربیعہ تشریف لائے اس وقت حضرت عبد اللہ نماز جنازہ ادا کرچکے تھے، حضرت عبد اللہ نے ان سے فرمایا : آگے بڑھو اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ اپنے بھائی کی نماز جنازہ ادا کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12301
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12301، ترقيم محمد عوامة 12060)
حدیث نمبر: 12302
١٢٣٠٢ - حدثنا يحيى بن سعيد عن أبان العطار عن يحيى بن أبي [كثير أنه بلغه أن أنسًا صلى على جنازة بعد أن صلي عليها (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن ابی سعید فرماتے ہیں کہ حضرت انس نے نماز جنازہ ادا کیے جانے بعد اس کی نماز جنازہ ادا فرمائی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12302
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12302، ترقيم محمد عوامة 12061)
حدیث نمبر: 12303
١٢٣٠٣ - حدثنا إسماعيل بن علية عن أيوب عن ابن أبي] (١) مليكة قال: توفي عبد الرحمن بن أبي بكر في منزل كان فيه، (فحملناه) (٢) على رقابنا ستة أميال إلى مكة وعائشة غائبة، (فقدمت) (٣) بعد ذلك (فقالت) (٤): أروني (قبره) (٥)، فأروها، فصلت عليه (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر کا ا انتقال ہوگیا جہاں وہ تھے، تو ان کے ساتھیوں نے ان کے جنازے کو اٹھا کر چھ میل سفر کر کے مکہ لائے اور دفن کردیا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا موجود نہ تھیں، جب آپ تشریف لائیں تو فرمایا مجھے قبر دکھلاؤ، جب آپ کو قبر دکھائی تو آپ نے ان کی نماز جنازہ ادا فرمائی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12303
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12303، ترقيم محمد عوامة 12062)
حدیث نمبر: 12304
١٢٣٠٤ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن نافع قال: توفي عاصم بن عمر، وابن عمر غائب فقدم بعد ذلك -قال أيوب: أحسبه قال: بثلاث- قال: فقال: أروني قبر أخي، فاروه فصلى عليه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عاصم بن عمر کا انتقال ہوا تو حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما حاضر نہ تھے، پھر بعد میں جب آپ تشریف لائے، ایوب راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے تین دن بعد آئے، تو فرمایا مجھے بھائی کی قبر دکھلاؤ، آپ کو دکھائی گئی تو آپ نے اس پر نماز ادا فرمائی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12304
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12304، ترقيم محمد عوامة 12063)
حدیث نمبر: 12305
١٢٣٠٥ - [حدثنا هشيم أنا أبو حرة عن ابن سيرين أنه كان يقول: إذا سبق الرجل بالجنازة فليصل على القبر] (١).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12305
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12305، ترقيم محمد عوامة 12064)
حدیث نمبر: 12306
١٢٣٠٦ - حدثنا هشيم (قال) (١): (أخبرنا) (٢) ابن عون قال: كنت مع ابن سيرين ونحن نريد جنازة (فسُبقنا بها) (٣) حتى دفنت، قال: فقال ابن سيرين: تعال حتى (نصنع) (٤) كما صنعوا قال: فكبر على القبر أربعًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن سیرین کے پاس تھا اور ہم جنازے کا انتظار کر رہے تھے وہ ہم سے پہلے ہی ادا کرلیا گیا اور دفن کردیا گیا۔ حضرت ابن سیرین نے فرمایا آ جاؤ ہم وہی کرتے ہیں جو انہوں نے کیا پھر آپ نے قبر پر چار تکبیریں کہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12306
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12306، ترقيم محمد عوامة 12065)
حدیث نمبر: 12307
١٢٣٠٧ - حدثنا يحيى بن آدم (قال) (١) (حدثنا) (٢) شريك عن محمد بن عبد اللَّه المرادي عن عمرو (بن) (٣) مرة عن خيثمة أن أبا موسى صلى على الحارث بن قيس بعد ما صلي عليه، أدركهم في الجبانة فصلى عليه بعد ما صلي عليه، قال يحيى: وقال شريك مرة: أم أبو موسى عليه واستغفر له (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خیثمہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ نے حضرت حارث بن قیس کی نماز جنازہ ادا ہوجانے کے بعد ان کی نماز جنازہ ادا فرمائی ان کو جنگل میں پایا اور نماز جنازہ ادا ہوجانے کے بعد نماز جنازہ ادا فرمائی، یحییٰ راوی کہتے ہیں کہ ایک بار حضرت شریک نے فرمایا : حضرت ابو موسیٰ نے امامت کروائی اور ان کے لیے استغفار کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12307
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ المرادي صدوق، وكذا شريك، أخرجه البخاري في التاريخ ٢/ ٢٧٩، والأوسط ١/ ٩٢، وابن سعد ٦/ ١٦٧.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12307، ترقيم محمد عوامة 12066)
حدیث نمبر: 12308
١٢٣٠٨ - حدثنا أبو داود عن (المثنى) (١) بن سعيد عن قتادة أن بشير بن كعب انتهى (إلى) (٢) (جنازة) (٣) وقد صلي عليها فصلى.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ حضرت بشیر بن کعب جب جنازے کے پاس پہنچے تو نماز جنازہ ہوچکی تھی، آپ نے پھر نماز جنازہ پڑھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12308
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12308، ترقيم محمد عوامة 12067)
حدیث نمبر: 12309
١٢٣٠٩ - حدثنا (سعيد) (١) بن يحيى عن سفيان (بن) (٢) حسين عن الزهري عن أبي أمامة بن سهل عن أبيه قال: كان رسول اللَّه ﷺ يعود فقراء أهل المدينة ويشهد جنائزهم إذا ماتوا، قال: فتوفيت امرأة من أهل العوالي فدفناها، قال: فمشى رسول اللَّه ﷺ إلى قبرها فصلى عليها فكبر أربعًا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو امامہ بن سھل اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فقرائے اھل مدینہ کی عیادت فرماتے اور ان کے مرنے پر ان کی نماز جنازہ ادا فرماتے ، فرماتے ہیں اھل عوالی میں سے ایک خاتون کا انتقال ہوا تو اس کو دفن کردیا گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی قبر پر تشریف لائے اور اس کی نماز جنازہ ادا فرمائی اور چار تکبیریں پڑھیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12309
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ رواية سفيان عن الزهري ضعيفة، أخرجه الطحاوي ١/ ٤٩٤، والطبراني (٥٥٨٦)، والخطيب في التاريخ ٩/ ٧٥، والحارث كما في المطالب (٨٧٨)، والبيهقي ٤/ ٤٨، وابن عبد البر في التمهيد ٦/ ٢٦٣، وأخرجه مرسلًا مالك في الموطأ ص ٢٢٦، والشافعي في الأم ١/ ٢٧٠، والنسائي ٤/ ٤٠، وعبد الرزاق (٦٥٤٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12309، ترقيم محمد عوامة 12068)
حدیث نمبر: 12310
١٢٣١٠ - (حدثنا) (١) داود (بن) (٢) عبد اللَّه (حدثنا) (٣) عبد العزيز بن محمد عن محمد بن (زيد) (٤) بن (المهاجر) (٥) بن (قنفذ) (٦) عن عبد اللَّه بن عامر بن ربيعة عن أبيه قال: مرّ رسول اللَّه ﷺ بقبر حديث فقال: "ما هذا القبر؟ " فقالوا: قبر فلانة قال: "فهلا آذنتموني؟ " (فصف) (٧) عليها فصلى (٨) (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عامر بن ربیعہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک نئی قبر کے پاس سے گزرے تو فرمایا یہ کس کی قبر ہے ؟ صحابہ کرام نے عرض کیا فلاں خاتون کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مجھے کیوں اطلاع نہ دی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی قبر پر صفیں بنائی اور نماز ادا کی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12310
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ عبد العزيز بن محمد هو الدراوردي ثقة على الصحيح، أخرجه أحمد (١٥٦٧٣)، وابن ماجه (١٥٢٩)، وابن عبد البر في التمهيد ٦/ ٢٧٦، والضياء في المختارة (٢١٩) - وفي حديث مصعب (١١٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12310، ترقيم محمد عوامة 12069)