حدیث نمبر: 12267
١٢٢٦٧ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) سفيان بن عيينة عن الزهري عن سالم عن أبيه عن عامر بن ربيعة يبلغ به النبي ﷺ قال: "إذا رأيتم الجنازة (فقوموا) (٢) لها حتى (تخلفكم) (٣) أو (توضع) (٤) " (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر بن ربیعہ فرماتے ہیں کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم جنازہ گزرتے ہوئے دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ یہاں تک کہ وہ تمہیں پیچھے چھوڑ (کر آگے نکل جائے) یا وہ رکھ دیا جائے۔
حدیث نمبر: 12268
١٢٢٦٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (عبدة) (١) عن عبيد اللَّه عن نافع عن ابن ⦗١٦٨⦘ عمر عن عامر بن (ربيعة) (٢) عن النبي ﷺ مثل حديث سفيان (عن الزهري) (٣) أو نحوه (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر بن ربیعہ سے اسی کے مثل منقول ہے۔
حدیث نمبر: 12269
١٢٢٦٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي (هريرة) (١) قال: مر على النبي ﷺ (بجنازة) (٢) فقام وقال لمن معه: " (قوموا فإن الموت فزع) (٣) " (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوگئے اور اپنے ساتھ والوں سے فرمایا : کھڑے ہو جاؤ بیشک موت کے لیے خوف اور گھبراہٹ ہے۔
حدیث نمبر: 12270
١٢٢٧٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال: حدثنا (عثمان) (١) بن حكيم عن خارجة (بن) (٢) زيد عن عمه (يزيد) (٣) بن ثابت أنه كان جالسًا مع النبي ﷺ في أصحابه فطلعت جنازة فلما رآها رسول اللَّه ﷺ (ثار وثار) (٤) أصحابه، فلم يزالوا قيامًا حتى (تعدت) (٥) واللَّه ما أدري من (تأذٍ بها) (٦) أو من تضايق المكان وما ⦗١٦٩⦘ أحسبها إلا (جنازة) (٧) (يهودي أو يهودية) (٨) وما سألناه عن قيامه (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خارجہ بن زید اپنے چچا حضرت یزید بن ثابت سے روایت کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ ایک جنازہ نکلا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ بھی کھڑے ہوگئے اور جنازے کے گزرنے تک کھڑے رہے، میں نہیں سمجھتا کہ آپ کسی تکلیف یا جگہ کی تنگی کی وجہ سے کھڑے ہوئے ہوں، اور میرا خیال ہے کہ یہ یہودی مرد یا عورت کا جنازہ تھا ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کھڑے ہونے کی وجہ دریافت نہ کی۔
حدیث نمبر: 12271
١٢٢٧١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (أبو) (١) معاوية عن ليث عن مجاهد عن (أبي) (٢) معمر عبد اللَّه بن (سخبرة) (٣) أن أبا موسى أخبرهم أن النبي ﷺ-كان إذا مرت به جنازة قام (حتى) (٤) تجاوزه (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے جب کوئی جنازہ گزرتا تو آپ کھڑے ہوجاتے جب تک کہ وہ گزر نہ جاتا۔
حدیث نمبر: 12272
١٢٢٧٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الفضل (وكثير) (١) بن هشام عن (هشام) (٢) الدستوائي (عن يحيى) (٣) عن أبي سلمة عن أبي سعيد قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إذا رأيتم الجنازة فقوموا" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ۔
حدیث نمبر: 12273
١٢٢٧٣ - حدثنا أبو بكر (قال: ثنا وكيع) (١) عن زكريا عن الشعبي عن أبي سعيد أنه مرت به جنازة فقام فقال له مروان: اجلس فقال: إني رأيت رسول اللَّه ﷺ مرت به جنازة فقام، فقام مروان (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت ابو سعید کے پاس سے جنازہ گزرا تو آپ کھڑے ہوگئے، مروان نے کہا بیٹھ جائیے، آپ نے فرمایا کہ میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنازے کو دیکھ کر کھڑے ہوگئے یہ سن کر مروان بھی کھڑا ہوگیا۔
حدیث نمبر: 12274
١٢٢٧٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن زكريا عن الشعبي عن (ابن) (١) أبي ليلى [أن (عليًا) (٢) وأبا مسعود مرت بهما جنازة فقاما (٣).
حدیث نمبر: 12275
١٢٢٧٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن فضيل عن يزيد عن ابن أبي ليلى] (١) قال: (قالوا) (٢) لعليّ: أن أبا موسى أمر بذلك وقال: إن الملائكة يكونون معها فقوموا لها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں کہ لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ حضرت ابو موسیٰ اس کا حکم دیتے ہیں۔ (آپ کی کیا رائے ہے) آپ نے فرمایا : بیشک ملائکہ اس کے ساتھ ہوتے ہیں تم ان کے لئے کھڑے ہوجایا کرو۔
حدیث نمبر: 12276
١٢٢٧٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (غندر) (١) عن شعبة عن منصور عن إبراهيم قال: ما علمت أحدًا كان يقوم إذا مروا عليه بالجنازة غير عمرو بن ميمون.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمرو بن میمون کے علاوہ کسی کو نہیں جانتا کہ جس کے پاس سے جنازہ گزرتا ہو اور وہ کھڑا ہوجاتا ہو (صرف حضرت عمرو کھڑے ہوا کرتے تھے) ۔
حدیث نمبر: 12277
١٢٢٧٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا غندر عن شعبة عن أبي معشر عن سعيد بن المسيب (أنه) (١) (شهده) (٢) وسالم بن عبد اللَّه ومرت بهما جنازة فقام سالم ولم يقم سعيد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو بشر فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن المسیب اور حضرت سالم بن عبد اللہ حاضر تھے کہ ان کے پاس سے جنازہ گزرا، حضرت سالم کھڑے ہوگئے لیکن حضرت سعید کھڑے نہ ہوئے۔
حدیث نمبر: 12278
١٢٢٧٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن الوليد بن المهاجر قال: رأيت الشعبي مرت به جنازة فقام.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ولید بن المہاجر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی کو دیکھا کہ ان کے پاس سے جنازہ گزرا تو وہ کھڑے ہوگئے۔
حدیث نمبر: 12279
١٢٢٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حاتم بن إسماعيل عن جعفر عن أبيه قال: كان الحسن بن علي (جالسًا) (١) (فمر) (٢) عليه بجنازة [فقام الناس حين طلعت الجنازة، فقال الحسن بن علي: إنما (مر) (٣) على النبي ﷺ بجنازة] (٤) يهودي (وكان) (٥) رسول اللَّه ﷺ على طريقها جالسًا فكره أن يعلو رأسه جنازة (يهودي) (٦) فقام (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعفر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ تشریف فرما تھے کہ آپ کے پاس سے جنازہ گزرا، جب جنازہ ان کے پاس سے گزرا تو لوگ کھڑے ہوگئے، حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے ایک یہودی کا جنازہ گزرا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے راستہ میں تشریف فرما تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بات کو ناپسند فرمایا کہ یہودی کا جنازہ آپ کے سر سے بلند ہو چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوگئے۔
حدیث نمبر: 12280
١٢٢٨٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن عمرو بن مرة عن ابن أبي ليلى أن (قيس بن سعد) (١) وسهل بن حنيف كانا بالقادسية فمرت بهما جنازة، فقاما فقيل لهما: إنها من أهل الأرض فقالا: إن رسول اللَّه ﷺ مرت به جنازة فقام ⦗١٧٢⦘ فقيل له: إنه يهودي فقال: "أليست نفسا" (٢)
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت قیس بن سعد اور حضرت سھل بن حنیف قادسیہ میں تھے کہ آپ کے پاس سے جنازہ گزرا تو آپ دونوں حضرات کھڑے ہوگئے، آپ سے عرض کیا گیا یہ اہل ارض میں سے ہے (مسلمان نہیں ہے) تو انہوں نے فرمایا ایک بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوگئے، آپ کو کہا گیا یہ تو یہودی تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا یہ انسان نہیں ہے ؟۔