کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: قبروں کی زیارت کی رخصت کا بیان
حدیث نمبر: 12163
١٢١٦٣ - حدثنا محمد بن فضيل عن أبي] (١) (سنان) (٢) عن محارب بن (دثار) (٣) عن (ابن) (٤) بريدة عن أبيه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "كنت نهيتكم عن زيارة القبور فزوروها" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے پہلے تمہیں قبروں کی زیارت کرنے سے منع کیا تھا، پس اب تم زیارت کیا کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12163
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه مسلم (٩٧٧) وأحمد (٢٢٩٥٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12163، ترقيم محمد عوامة 11926)
حدیث نمبر: 12164
١٢١٦٤ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن يحيى بن الحارث عن عمرو بن عامر عن أنس بن مالك قال: نهى رسول اللَّه ﷺ عن زيارة القبور ثم قال: "زوروها ولا تقولوا هجرًا" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زیارت قبور سے منع فرمایا، پھر (بعد میں) فرمایا قبروں کی زیارت کرلیا کرو اور بیہودہ کلام مت کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12164
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف يحيى بن الحارث، أخرجه أحمد (١٣٤٨٧)، وأبو يعلى (٣٧٠٧)، والحاكم ١/ ٣٧٦، والبيهقي ٤/ ٧٧، والبزار (١٢١١/ كشف).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12164، ترقيم محمد عوامة 11927)
حدیث نمبر: 12165
١٢١٦٥ - حدثنا يزيد بن هارون عن حماد بن سلمة (عن) (١) علي بن (زيد) (٢) عن ربيعة بن (النابغة) (٣) عن أبيه عن علي قال: نهى رسول اللَّه ﷺ عن زيارة القبور ثم قال: "إني (كنت) (٤) نهيتكم عن زيارة القبور فزوروها تذكركم الآخرة" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبروں کی زیارت سے منع فرمایا تھا، پھر (بعد میں) ارشاد فرمایا : بیشک میں نے تمہیں قبروں کی زیارت کرنے سے منع کیا تھا، اب تم ان کی زیارت کرلیا کرو، اس سے آخرت کی یاد تازہ ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12165
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12165، ترقيم محمد عوامة 11928)
حدیث نمبر: 12166
١٢١٦٦ - حدثنا محمد بن عبيد [(قال) (١): حدثنا] (٢) يزيد بن كيسان (عن أبي حازم) (٣) عن أبي هريرة قال: زار رسول اللَّه ﷺ قبر أمه فبكى وأبكى من (كان) (٤) حوله فقال: "استأذنت ربي (في) (٥) (أن) (٦) أستغفر لها فلم يأذن لي واستأذنته في ⦗١٣٧⦘ أن أزور قبرها فأذن لي، فزوروا القبور فإنها تذكركم (الموت) (٧) " (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی والدہ محترمہ کی قبر کی زیارت کی اور آپ رو پڑے اور آپ کے اردگرد جو حضرات تھے وہ بھی رونے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے اپنے رب سے اجازت چاہی کہ ان کے لئے مغفرت کی دعا کروں، تو مجھے اجازت نہیں ملی، اور میں نے اپنے رب سے قبروں کی زیارت کرنے کی اجازت مانگی تو مجھے اجازت مل گئی، تم لوگ قبروں کی زیارت کیا کرو اس سے تمہیں موت یاد آئے گی۔ (موت کی یاد تازہ ہوگی) ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12166
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ يزيد بن كيسان صدوق، أخرجه مسلم (٩٧٦) وأحمد (٩٦٨٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12166، ترقيم محمد عوامة 11929)
حدیث نمبر: 12167
١٢١٦٧ - حدثنا محمد بن عبد اللَّه الأسدي عن سفيان عن علقمة بن مرثد عن سليمان بن بريدة عن (أبيه) (١) قال: لما فتح رسول اللَّه ﷺ مكة أتى (جذم) (٢) قبر فجلس إليه فجعل كهيئة المخاطب (وجلس) (٣) الناس [حوله فقام وهو يبكي فتلقاه عمر وكان من أجرأ الناس عليه، فقال: بأبي أنت وأمي يا رسول اللَّه ما الذي أبكاك؟ قال: "هذا قبر أمي، سألت] (٤) ربي الزيارة فأذن لي، وسألته الاستغفار فلم يأذن لي، فذكرتها (فرقت) (٥) نفسي فبكيت". قال: فلم ير يومًا كان أكثر باكيًا منه يومئذ (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلیمان بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک پرانی قبر پر تشریف لائے اور اس کے پاس بیٹھ گئے، آپ مخاطب کی طرح ہوگئے، اور لوگ آپ کے اردگرد بیٹھ گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رو رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت عمر ملے اور حضرت عمر لوگوں میں سے آپ پر سب سے زیادہ جرأت کرنے والے تھے، حضرت عمر نے فرمایا : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قربان، کس چیز نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رلایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ میری والدہ ماجدہ کی قبر ہے، میں نے اپنے رب سے اس کی زیارت کی اجازت مانگی تو مجھے اجازت مل گئی، اور میں نے استغفار کی اجازت مانگی تو وہ مجھے نہیں ملی، میں نے ان کو یاد کیا تو میرے دل کو ترس آیا اور میں رو پڑا۔ راوی کہتے ہیں کہ جتنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس دن روئے تھے اس سے زیادہ آپ کو کبھی روتے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12167
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه الحاكم ١/ ٣٧٥، والنسفي في القند ص ١٢٤، وابن سعد ١/ ١١٧، والبيهقي في دلائل النبوة ١/ ١٨٩، وابن شاهين في ناسخ الحديث (٦٥٢)، والفاكهي (٢٣٧٧)، وابن شبة في أخبار المدينة (٣٥٤) وأصله عند مسلم (٩٧٧) وأحمد (٢٣٠٠٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12167، ترقيم محمد عوامة 11930)
حدیث نمبر: 12168
١٢١٦٨ - حدثنا يزيد بن هارون عن حماد بن زيد حدثنا فرقد (السبخي) (١) (حدثنا) (٢) جابر بن (زيد) (٣) (حدثنا) (٤) (٥) مسروق عن عبد اللَّه قال: قال ⦗١٣٨⦘ رسول اللَّه ﷺ: "إني نهيتكم عن زيارة القبور فإنه قد أذن لمحمد في زيارة قبر أمه فزوروها تذكركم (الآخرة) (٦) " (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیشک میں نے (پہلے) تمہیں قبروں کی زیارت کرنے سے منع کیا تھا، بیشک مجھے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی اجازت دے دی گئی، تم بھی قبروں کی زیارت کیا کرو یہ تمہیں موت اور آخرت یاد دلائے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12168
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف فرقد السبخي، أخرجه أحمد (٤٣١٩)، وابن ماجة (١٥٧١)، وابن حبان (٩٨١)، والطحاوي ٤/ ١٨٥، وأبو يعلى (٥٢٩٩)، والشاشي (٣٩٧)، والبيهقي ٤/ ٧٧.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12168، ترقيم محمد عوامة 11931)
حدیث نمبر: 12169
١٢١٦٩ - [حدثنا عيسى بن يونس عن أسامة بن زيد عن نافع قال: توفي عاصم ابن عمر وابن عمر غائب فلما قدم قال: دلوني على قبره، فوقف عليه ساعة يدعو] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عاصم بن عمر کا انتقال ہوا تو حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما موجود نہ تھے، جب وہ تشریف لائے تو فرمایا : مجھے ان کی قبر بتلاؤ، پھر اس کے پاس کچھ دیر کھڑے رہے اور دعا فرمائی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12169
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أسامة بن زيد صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12169، ترقيم محمد عوامة 11932)
حدیث نمبر: 12170
١٢١٧٠ - حدثنا عيسى بن يونس (١) عن ابن (جريج) (٢) عن عبد اللَّه بن أبي مليكة قال: توفي عبد الرحمن بن أبي بكر بالحبشي -قال ابن جريج: الحبشي (على) (٣) إثني عشر ميلًا من مكة-، فدفن بمكة، فلما قدمت عائشة أتت قبره فقالت (٤): (و) (٥) كنا كندماني (جذيمة) (٦) حقبة … من الدهر حتى قيل (لن) (٧) يتصدعا فلما تفرقنا كأني ومالكًا … لطول اجتماع لم نبت ليلة معًا ⦗١٣٩⦘ ثم قالت: أما واللَّه لو حضرتك لدفنتك حيث (مت) (٨)، ولو شهدتك ما زرتك (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر کا حبشی مقام پر انتقال ہوا، حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ جبشی مکہ سے بارہ میل کے فاصلہ پر ایک مقام ہے۔ ان کو مکہ میں دفن کیا گیا جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا آئیں تو ان کی قبر پر تشریف لائیں اور یہ اشعار پڑھے۔ ہم لمبے زمانے سے مضبوط جدا نہ ہونے والے ساتھی تھے یہاں تک کہ یہ سمجھا جاتا تھا کہ ہم کبھی جدا ہوں گے ہی نہیں۔ لیکن جب جدا ہوئے تو یوں محسوس ہوا کہ جیسے میں نے اور مالک نے اس لمبے اجتماع کے باوجود بھی ایک رات بھی اکٹھے نہ گزاری ہو۔ پھر فرمایا : اللہ کی قسم ! اگر میں اس وقت حاضر ہوتی تو جہاں انتقال ہوا تھا وہیں دفن کرواتی اور اگر میں اس کے جنازے میں حاضر ہوتی تو اس کی قبر کی زیارت نہ کرتی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12170
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12170، ترقيم محمد عوامة 11933)
حدیث نمبر: 12171
١٢١٧١ - حدثنا (حفص) (١) بن غياث عن (عبيد اللَّه) (٢) بن عمر عن نافع عن ابن عمر أنه كان إذا قدم وقد مات بعض ولده (قال) (٣): دلوني على قبره، (فيدلونه) (٤) عليه، فينطلق فيقوم عليه ويدعو له (٥).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12171
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12171، ترقيم محمد عوامة 11934)
حدیث نمبر: 12172
١٢١٧٢ - حدثنا عبيدة بن حميد عن (أبي) (١) فروة الهمداني عن الغيرة بن سبيع عن (ابن) (٢) بريدة عن أبيه قال: جالست النبي ﷺ في المجلس فرأيته حزينا فقال له رجل من القوم: ما لك يا رسول اللَّه كأنك حزين؟ قال: "ذكرت أمي"، ثم قال رسول اللَّه ﷺ: "كنت نهيتكم عن لحوم الأضاحي أن تأكلوها إلا ثلاثة فكلوا وأطعموا وادخروا ما بدا لكم، ونهيتكم عن زيارة القبور فمن أراد أن يزور قبر أمه فليزره، وكنت نهيتكم عن الدباء والحنتم والمزفت والنقير فاجتنبوا كل مسكر (وانبذوا) (٣) فيما بدا لكم" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک بار مجلس میں تشریف فرما تھے اور انتہائی غمگین تھے، لوگوں میں سے ایک شخص نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا وجہ ہے آپ غمگین دکھائی دے رہے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں میں اپنی والدہ کو یاد کر رہا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے تمہیں تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا، پس (اب) تم خود کھاؤ اور دوسروں کو کھلاؤ اور جتنا چاہو ذخیرہ کرو، اور میں نے تمہیں قبروں کی زیارت کرنے سے منع کیا تھا، پس جو اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کرنا چاہتا ہے وہ زیارت کرے، اور میں نے تمہیں کدو کے برتن سے، سبز رنگ کے برتن سے، سبز رنگ کے روغن سے رنگے ہوئے برتن سے اور پیالہ نما گڑھا کی ہوئی لکڑی جس میں کھجور کی شراب بنائی جاتی ہے اس برتن سے منع کیا تھا، پس تم ہر نشہ والی چیز سے اجتناب کرو اور باقی جتنی چاہو پیؤ، (جس میں نشہ نہ ہو) ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12172
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ المغيرة بن سبيع صدوق، ومثله عبيدة، أخرجه مسلم (٩٧٧)، وأحمد (٢٢٩٥٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12172، ترقيم محمد عوامة 11935)