کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جب قبروں کے پاس سے گزرے تو ان کو سلام کرے، اور کچھ حضرات نے اس میں رخصت دی ہے
حدیث نمبر: 12140
١٢١٤٠ - حدثنا محمد بن فضيل عن عبد الملك (بن أبي) (١) سليمان عن (أبي) (٢) (عبد الرحمن) (٣) عن زاذان قال: كان عليّ إذا دخل المقابر قال: السلام على من في هذه الديار من المؤمنين والمسلمين، أنتم لنا فرط ونحن لكم تبع وإنا بكم (للاحقون) (٤)، (وإنا) (٥) للَّه وإنا إليه راجعون.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زاذان فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کرم اللہ وجہہ کسی قبرستان میں داخل ہوتے تو یہ دعا پڑھتے۔ اس جگہ کے مومنوں اور مسلمانوں تم پر سلامتی ہو، تم پہلے چلے گئے ہم تمہارے بعد آئیں گے اور تم سے مل جائیں گے۔ ہم سب اللہ کے لیے ہیں اور ہمیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
حدیث نمبر: 12141
١٢١٤١ - حدثنا ابن فضيل عن الأجلح عن عبد اللَّه بن شريك عن جندب الأزدي قال: خرجنا مع سلمان إلى (الحيرة) (١) حتى إذا انتهينا إلى القبور التفت عن يمينه فقال: السلام عليكم يا أهل الديار من المؤمنين والمؤمنات، أنتم لنا (فرط) (٢) [ونحن (لكم) (٣) تبع] (٤)، وإنا على آثاركم واردون (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جندب الازدی فرماتے ہیں کہ میں حضرت سلمان کے ساتھ حیرہ کی طرف گیا جب ہم قبرستان پہنچے تو آپ اپنی داہنی جانب متوجہ ہوئے اور دعا پڑھی : اس جگہ کے مومن مردوں اور عورتوں ! تم پر سلامتی ہو، تم پہلے چلے گئے ہم بعد میں آئیں گے اور تمہارے نشان قدم پر چلتے ہوئے آئیں گے۔
حدیث نمبر: 12142
١٢١٤٢ - حدثنا جرير بن عبد الحميد عن عبد الأعلى عن خيثمة والمسيب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ وہ (صحابہ کرام ) قبروں کو سلام کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 12143
١٢١٤٣ - (و) (١) عن ليث عن مجاهد: أنهم كانوا يسلِّمون على القبور.
حدیث نمبر: 12144
١٢١٤٤ - حدثنا سهل بن يوسف عن ابن عون عن محمد قال: لا أعلم بأسًا أن يأتي الرجل القبر (فيسلم) (١) عليه.
مولانا محمد اویس سرور
محمد فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں کہ کوئی شخص قبر پر آئے اور اس کو سلام کرے۔
حدیث نمبر: 12145
١٢١٤٥ - حدثنا يحيى بن آدم عن زهير عن موسى بن عقبة أنه رأى سالم بن (عبد اللَّه) (١) لا يمر بليل ولا نهار بقبر إلا (سلم) (٢) عليه ونحن مسافرون معه يقول: السلام عليكم، فقلت له في ذلك فأخبرنيه عن أبيه أنه كان يصنع ذلك (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت موسیٰ بن عقبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سلام بن عبد اللہ کو دیکھا دن ہو یا رات وہ جس قبر کے پاس سے بھی گزرتے تو اسکو سلام کرتے، اور ہم آپ کے ساتھ سفر کر رہے تھے، آپ فرماتے السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ میں نے آپ سے اس کے متعلق دریافت کیا ؟ تو مجھے اس کے بارے میں بتلایا کہ ان کے والد صاحب اس طرح کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 12146
١٢١٤٦ - حدثنا معاوية بن هشام ثنا (سفيان) (١) عن علقمة بن مرثد عن سليمان ابن بريدة عن أبيه قال: (كان) (٢) رسول اللَّه ﷺ يعلمهم إذا خرجوا إلى المقابر فكان قائلهم يقول: "السلام عليكم يا أهل الديار من المؤمنين والمسلمين، وإنا إن شاء اللَّه بكم (للاحقون) (٣)، أنتم (لنا) (٤) فرط ونحن (لكم) (٥) تبع، ونسأل اللَّه لنا ولكم العافية" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلیمان بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام کو تعلیم دی تھی کہ جب وہ قبرستان جائیں تو یوں کہیں : اس جگہ کے مومن اور مسلم لوگو ! تم پر سلامتی ہو، اگر اللہ نے چاہا تو ہم تمہارے ساتھ آ ملنے والے ہیں، تم پہلے گئے ہم بعد میں آئیں گے، ہم اللہ سے اپنے لیے اور تمہارے لیے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 12147
١٢١٤٧ - حدثنا (عبيد اللَّه) (١) بن موسى عن ابن أبي ذئب عن (قُرَين) (٢) عن عامر (بن) (٣) (سعد) (٤) عن أبيه أنه كان يرجع من (ضيعته) (٥) فيمر بقبور الشهداء فيقول: السلام عليكم، وإنا بكم (للاحقون) (٦)، ثم يقول لأصحّابه: ألا تسلمون على الشهداء فيردون عليكم (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب وہ ضیعہ (گاؤں) سے واپس آئے تو شھداء کی قبروں کے پاس سے گزرے تو کہنے لگے۔ السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ وَإِنَّا بِکُمْ لَلاَحِقُونَ پھر اپنے ساتھیوں سے فرمایا : تم نے شہداء کو سلام کیوں نہ کیا تاکہ وہ تمہیں جواب دیتے ؟۔
حدیث نمبر: 12148
١٢١٤٨ - حدثنا خالد بن مخلد عن عبد الملك بن (الحسن الجاري) (١) عن عبد اللَّه ابن (سعد) (٢) (الجاري) (٣) قال: قال لي أبو هريرة: يا عبد اللَّه إذا مررت بالقبور قد كنت تعرفهم فقل: السلام عليكم أصحاب القبور، وإذا مررت بالقبور لا تعرفهم فقل: السلام على المسلمين (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن سعد الجاری فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے عبد اللہ ! جب تم کسی ایسی قبر کے پاس سے گزرو جس کو تم جانتے ہو تو یوں کہو : السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ أَصْحَابَ الْقُبُورِ اور جب کسی ایسی قبر پر گزر ہو جس کو تم نہیں جانتے تو یوں کہو : السَّلاَمُ عَلَی الْمُسْلِمِینَ ۔
حدیث نمبر: 12149
١٢١٤٩ - حدثنا (هاشم) (١) بن القاسم (٢) ثنا الحكم بن فضيل عن يعلى بن عطاء عن (عبيد) (٣) بن (جبير) (٤) عن (أبي) (٥) (مويهبة) (٦) مولى رسول اللَّه ﷺ قال: أمر رسول اللَّه ﷺ أن يخرج إلى البقيع فَيُصَلِّي عليهم أو يسلم عليهم (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مویھبہ جو رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے غلام تھے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ آپ جنت البقیع جائیں اور مردوں پر نماز پڑھیں یا ان پر سلام پڑھیں۔