کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: قبر پکی کرنا
حدیث نمبر: 12122
١٢١٢٢ - حدثنا حفص عن ابن جريج عن أبي الزبير عن جابر قال: نهى رسول اللَّه ﷺ أن يجصص القبر وأن يقعد عليه وأن (يبنى) (١) عليه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبر پکی کرنے سے منع فرمایا ہے۔ اور اس بات سے کہ اس پر بیٹھا جائے اور اس پر عمارت بنائی جائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12122
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ صرح ابن جريج بالسماع، والحديث أخرجه مسلم (٩٧٠)، وأحمد (١٤١٤٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12122، ترقيم محمد عوامة 11886)
حدیث نمبر: 12123
١٢١٢٣ - حدثنا معتمر بن سليمان عن ثابت بن زيد قال: حدثتني حمادة عن أنيسة بنت زيد (١) بن أرقم (قال) (٢): (قالت) (٣): مات ابن لزيد يقال له سويد، فاشترى غلام له أو جارية جصًا وآجرًا، فقال له زيد: ما تريد إلى هذا؟ قال: أردت أن أبني قبره وأجصصه، قال: (جفوت) (٤) (ولغوت) (٥) (لا) (٦) تقربه (شيئًا) (٧) مسته النار (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انیسہ بنت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ حضرت زید کے بیٹے حضرت سوید کا انتقال ہوا تو ان کے لیے ایک غلام یا باندی نے چونا اور اینٹیں (پکی) خریدیں۔ حضرت زید نے فرمایا ان چیزوں سے کیا کرنے کا ارادہ ہے ؟ انہوں نے کہا قبر پر عمارت بنانے اور اس کو پکی کرنے کا ارادہ ہے، آپ نے فرمایا تیرا ستیاناس ہو، ہر وہ چیز جس کو آگ نے چھوا ہے اس کو اس میت کے قریب مت لاؤ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12123
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12123، ترقيم محمد عوامة 11887)
حدیث نمبر: 12124
١٢١٢٤ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن حسن بن صالح عن (عيسى بن) (١) ⦗١٢٥⦘ أبي عزة قال: سمعته (نهى) (٢) عن تجصيص (القبر) (٣) (وقال) (٤): لا تجصصوه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن بن صالح فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عیسیٰ بن ابی عزہ سے قبروں کو پکی کرنے کی ممانعت سنی ہے وہ فرماتے ہیں قبریں پکی مت کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12124
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12124، ترقيم محمد عوامة 11888)
حدیث نمبر: 12125
١٢١٢٥ - حدثنا عبد الرحمن بن (محمد) (١) عن ليث عن خيثمة عن سويد بن غفلة قال: إذا أنا مت فلا (تؤذنوا) (٢) بي أحدًا، ولا (تقربوني) (٣) جصًا ولا آجرًا ولا عودًا، ولا تصحبنا امرأة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سوید بن غفلہ فرماتے ہیں کہ جب میں مر جاؤں تو مجھے کوئی شخص تکلیف نہ پہنچائے، میرے قریب چونے، پکی اینٹ اور لکڑی نہ لائے، اور میرے ساتھ عورت نہ جائے، (جنازے میں) ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12125
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12125، ترقيم محمد عوامة 11889)
حدیث نمبر: 12126
١٢١٢٦ - حدثنا هشيم أخبرنا مغيرة عن إبراهيم أنه كان يكره الآجر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم پکی اینٹوں کو ناپسند فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12126
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12126، ترقيم محمد عوامة 11890)
حدیث نمبر: 12127
١٢١٢٧ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن منصور عن إبراهيم قال: كانوا يكرهون الآجر في قبورهم.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ (صحابہ کرام ) اپنی قبروں میں پکی اینٹ کو ناپسند فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12127
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12127، ترقيم محمد عوامة 11891)
حدیث نمبر: 12128
١٢١٢٨ - حدثنا وكيع عن سفيان عن مغيرة عن إبراهيم قال: كانوا يستحبون اللبن ويكرهون الآجر ويستحبون القصب ويكرهون الخشب.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ وہ (صحابہ کرام ) کچی اینٹ کو پسند فرماتے تھے اور پکی اینٹوں کو ناپسند کرتے تھے، اور بانس کو پسند کرتے اور دوسری لکڑی کو ناپسند کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12128
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12128، ترقيم محمد عوامة 11892)