حدیث نمبر: 12061
١٢٠٦١ - حدثنا إسماعيل بن علية عن عبد اللَّه بن أبي بكر قال: كان أنس بن مالك إذا سوى على الميت قبره قام عليه فقال: اللهم عبدك رد إليك (فارأف) (١) به وارحمه، اللهم جاف الأرض عن جنبيه، وافتح أبواب السماء لروحه، وتقبله منك بقبول حسن، اللهم إن كان محسنًا فضاعف (له في) (٢) إحسانه، أو قال: فزد في إحسانه وإن كان مسيئًا فتجاوز عنه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن ابی بکر فرماتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ جب میت کو دفن کرنے کے بعد مٹی برابر کردیتے تو اس پر کھڑے ہو کر یہ دعا مانگتے : اللَّہُمَّ إِنْ کَانَ مُحْسِنًا فَضَاعِفْ لَہُ فِی إحْسَانِہِ (یا فرماتے ) فَزِدْ فِی إحْسَانِہِ ، وَإِنْ کَانَ مُسِیئًا فَتَجَاوَزْ عَنْہُ ۔ ” اے اللہ ! اگر وہ نیکوکار تھا تو اس کی نیکی کو دگنا فرما اور اگر یہ گناہ گار ہے تو اس سے درگزر فرما۔ “
حدیث نمبر: 12062
١٢٠٦٢ - حدثنا عباد بن العوام عن حجاج عن عمير بن سعيد أن عليًّا كبر على يزيد أربعًا قال: اللهم عبدك وابن عبدك نزل بك اليوم [وأنت خير (منزول) (١) به، ⦗١٠٨⦘ اللهم وسع له مدخله واغفر ذنبه فإنا لا نعلم إلا خيرًا] (٢) وأنت أعلم به (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمیر بن سعید فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت یزید کی نماز جنازہ پڑھائی اور چار تکبیریں پڑھیں پھر یہ دعا پڑھی : اللَّہُمَّ عَبْدُک وَابْنُ عَبْدِکَ نَزَلَ بِکَ الْیَوْمَ ، وَأَنْتَ خَیْرُ مَنْزُولٍ بِہِ ، اللَّہُمَّ وَسِّعْ لَہُ مُدْخَلَہُ ، وَاغْفِرْ لَہُ ذَنْبَہُ ، فَإِنَّا لاَ نَعْلَمُ إِلاَّ خَیْرًا وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِہِ ۔ ” اے اللہ ! تیرا بندہ اور تیرے بندے کا بیٹا آج تیرے پاس آیا ہے، تو اس کا بہترین ٹھکانہ ہے، اے اللہ اس کی قبر کو کشادہ فرما اور اس کے گناہوں کو معاف فرما، ہم تو صرف خیر کو جانتے ہیں اور تو اسے زیادہ جاننے والا ہے۔ “
حدیث نمبر: 12063
١٢٠٦٣ - حدثنا ابن نمير عن ابن جريج عن ابن أبي مليكة قال: لما فرغ من قبر عبد اللَّه بن السائب قام ابن عباس على القبر فوقف عليه ثم دعا ثم انصرف (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت عبد اللہ بن السائب کو دفن کر فارغ ہوئے تو حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما قبر پر کچھ دیر کھڑے رہے پھر دعا فرمائی اور پھر لوٹے۔
حدیث نمبر: 12064
١٢٠٦٤ - حدثنا أبو داود الطيالسي عن الأسود بن شيبان عن خالد بن (سمير) (١) قال: كنت مع الأحنف في جنازة فجلس الأحنف وجلست معه، فلما فرغ من دفنها وهو ضرار بن القعقاع (التميمي) (٢) رأيت الأحنف انتهى إلى قبره (قام) (٣) عليه (فبدأ) (٤) (بالثناء) (٥) (عليه) (٦) قبل الدعاء، فقال: كنت واللَّه (ما) (٧) علمت كذا (كنت واللَّه -ما علمت كذا) (٨)، ثم دعا له.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد بن سمیر فرماتے ہیں کہ میں حضرت احنف کے ساتھ حضرت ضرار بن قعقاع التمیمی کے جنازے میں تھا، حضرت احنف بیٹھ گئے تو میں بھی آپ کے ساتھ بیٹھ گیا، میں نے حضرت احنف کو دیکھا آپ قبر کے کنارے پر کھڑے ہوئے اور دعا سے قبل ان الفاظ میں حمد بیان کی : بخدا میں اس طرح نہیں جانتا تھا، بخدا میں اس طرح نہیں جانتا تھا۔ پھر آپ نے ان کیلئے دعا فرمائی۔
حدیث نمبر: 12065
١٢٠٦٥ - حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن (عمير) (١) بن سعيد قال: صليت مع علي على يزيد بن المكفف فكبر عليه أربعًا [ثم مشى حتى أتاه (فقال) (٢): ⦗١٠٩⦘ اللهم عبدك وابن عبدك نزل بك اليوم فاغفر له ذنبه ووسع عليه مدخله] (٣) فإنا لا نعلم (٤) إلا خيرًا وأنت أعلم به (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمیر بن سعید فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ حضرت یزید بن المکفف کی نماز جنازہ پڑھی، آپ نے اس پر چار تکبیریں پڑھیں، پھر آپ جنازے کے ساتھ چل کر جب قبر کے پاس آئے تو یوں دعا مانگی : اللَّہُمَّ عَبْدُک ، وَابْنُ عَبْدِکَ نَزَلَ بِکَ الْیَوْمَ فَاغْفِرْ لَہُ ذَنْبَہُ ، وَوَسِّعْ عَلَیْہِ مُدْخَلَہُ فَإِنَّا لاَ نَعْلَمُ إِلاَّ خَیْرًا وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِہِ ۔ ” اے اللہ ! تیرا بندہ اور تیرے بندے کا بیٹا آج تیرے پاس آیا ہے، تو اس کے گناہوں کو معاف فرما اور اس کی قبر کو کشادہ فرما۔ ہم تو صرف خیر کو جانتے ہیں اور تو اسے زیادہ جاننے والا ہے۔ “
حدیث نمبر: 12066
١٢٠٦٦ - حدثنا ابن علية قال: رأيت أيوب (يقوم) (١) على القبر فيدعو للميت قال: وربما رأيته يدعو له وهو في القبر قبل أن يخرج.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایوب کو دیکھا کہ قبر پر کھڑے میت کیلئے دعا مانگ رہے ہیں اور کبھی کبھی میں آپ کو دیکھتا کہ آپ میت کو قبر میں اتارنے کے بعد قبر میں سے نکلتے سے پہلے اس کے لیے دعا کرتے تھے۔