حدیث نمبر: 11996
١١٩٩٦ - حدثنا ابن أدريس عن إسماعيل بن (أبي) (١) خالد عن الشعبي قال: غسل النبيَّ ﷺ عليٌّ والفضل وأسامة (وأدخلوه) (٢) قبره (وجعل) (٣) على يقول: بأبي أنت وأمي طبت حيًا وميتًا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت امام شعبی فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت علی، حضرت فضل اور حضرت اسامہ نے غسل دیا اور قبر میں داخل کیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرما رہے تھے یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ! آپ کی زندگی بھی پاکیزہ تھی اور موت بھی پاکیزہ ہے۔ ابن ابی مرحب فرماتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف بھی ان کے ساتھ قبر میں داخل ہوئے تھے، حضرت شعبی فرماتے ہیں میت کے اھل سے زیادہ کون قریبی ہوسکتا ہے ؟
حدیث نمبر: 11997
١١٩٩٧ - (وقال) (١) حدثنا ابن أبي (مرحب) (٢) أن عبد الرحمن بن عوف دخل معهم القبر (٣).
حدیث نمبر: 11998
١١٩٩٨ - قال: وقال الشعبي: (و) (١) من يلي الميت إلا أهله.
حدیث نمبر: 11999
١١٩٩٩ - حدثنا عبد الأعلى (عن معمر) (١) عن الزهري عن سعيد أن الذي ولي دفن النبي ﷺ (وإجنانه) (٢) أربعة نفر دون الناس: عليّ والعباس والفضل وصالح مولى النبي ﷺ (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید فرماتے ہیں کہ لوگوں میں سے (صرف) چار اشخاص تھے جنہوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دفن کیا، حضرت علی، حضرت عباس، حضرت فضل اور حضرت صالح جو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے غلام تھے۔
حدیث نمبر: 12000
١٢٠٠٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن حماد عن إبراهيم قال: أدخل القبر كم شئت.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جتنے مرضی لوگ چاہیں قبر میں (مردے کو) اتار سکتے ہیں۔
حدیث نمبر: 12001
١٢٠٠١ - حدثنا وكيع عن ربيع عن الحسن قال: لا يضرك شفع أو وتر.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ کوئی نقصان نہیں قبر میں اتارنے والے طاق ہوں یا جفت۔
حدیث نمبر: 12002
١٢٠٠٢ - [حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن عامر قال: لا يضرك شفع أو وتر] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر سے اسی طرح منقول ہے۔
حدیث نمبر: 12003
١٢٠٠٣ - [حدثنا عبدة بن سليمان عن سعيد عن قتادة عن الحسن قال: لا بأس أن يدخل القبر شفع أو وتر] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ حسن سے اسی طرح منقول ہے۔