کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: لوگوں کی دعائے جنازہ میں سے کیا چیز میت تک پہنچتی ہے
حدیث نمبر: 11974
١١٩٧٤ - حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن أيوب عن أبي قلابة عن عبد اللَّه بن (يزيد) (١) عن عائشة عن النبي ﷺ قال: "لا يموت أحد من المسلمين فيصلي عليه أمة من المسلمين (٢) يبلغوا أن يكونوا مائة فيشفعوا له إلا شفعوا فيه" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مسلمانوں میں سے کوئی شخص نہیں مرتا مگر اس پر ایک جماعت نماز ادا کرتی ہے جن کی تعداد سو تک پہنچ جاتی ہے اور وہ اس کے لیے شفاعت (دعائے مغفرت) کرتے ہیں مگر ان کی شفاعت اس کے حق میں قبول کرلی جاتی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11974
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه مسلم (٩٤٧)، وأحمد (٢٤٠٣٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11974، ترقيم محمد عوامة 11743)
حدیث نمبر: 11975
١١٩٧٥ - حدثنا يحيى بن سعيد القطان عن أبي بكار قال: صليت مع أبي المليح على جنازة فقال: سووا صفوفكم ولتحسن شفاعتكم ولو خيرت رجلًا لاخترته، (قال: أبو المليح) (١) (حدثني) (٢) عبد اللَّه بن (سليل) (٣) عن بعض أزواج النبي ﷺ (٤) ⦗٨٧⦘ ميمونة (كان) (٥) (أخاها) (٦) من الرضاعة أن رسول اللَّه ﷺ قال: " (ما) (٧) من رجل مسلم يصلي عليه أُمَّة إلا شفعوا فيه"، قال أبو المليح: والأمة ما بين الأربعين إلى (المائة) (٨) (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابی بکار فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو ملیح کے ساتھ نماز جنازہ ادا کی، آپ نے فرمایا صفیں درست کرلو اور اس کے لیے تم خوب اچھے طریقے سے شفاعت (دعائے مغفرت) کرو۔ اگر مجھے کسی شخص کا اختیار دیا جاتا تو میں اسکو اختیار کرتا۔ مجھ سے حضرت عبد اللہ بن السلیل نے بیان کیا کہ حضرت میمونہ سے مروی ہے جو ان کے رضاعی بھائی تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : نہیں ہے کوئی مسلمان جس کی نماز جنازہ ایک جماعت ادا کرے مگر اس کی شفاعت کردی جاتی ہے۔ حضرت ابو الملیح فرماتے ہیں جماعت سے مراد چالیس سے سو تک لوگ ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11975
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11975، ترقيم محمد عوامة 11744)
حدیث نمبر: 11976
١١٩٧٦ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن محمد بن إسحاق عن يزيد بن أبي حبيب عن (مرثد) (١) بن عبد اللَّه اليزني عن مالك (بن هبيرة) (٢) الشامي وكانت له صحبة قال: (كافي) (٣) إذا أتى الجنازة (فتقالّ) (٤) من معها (جزأهم) (٥) صفوفًا (ثلاثة) (٦) ثم صلى عليها وقال: إن رسول اللَّه ﷺ قال: "ما (صفت) (٧) صفوف ثلاثة من المسلمين على ميت إلا أوْجَبَ" (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مالک بن ھبیرہ الشامی کے پاس جب کوئی جنازہ لایا جاتا تو جو ان کے ساتھ ہوتے آپ ان سے فرماتے ان لوگوں کی تین صفیں بناؤ، پھر اس پر تین صفیں بنیں اور آپ نے جنازہ پڑھا کر فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ کسی میت پر بھی تین صفیں نہیں بنتیں مگر اس کے لیے شفاعت واجب ہوجاتی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11976
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11976، ترقيم محمد عوامة 11745)
حدیث نمبر: 11977
١١٩٧٧ - حدثنا إسماعيل بن إسحاق قال: ثنا (بكير) (١) بن أبي (السميط) (٢) قال: ثنا قتادة عن سعيد بن أبي الحسن عن عسعس بن سلامة قال: من شفع له أربعون قبلت شفاعتهم ومن شهد له عشرة قبلت شهادتهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عسعس بن سلامہ فرماتے ہیں جس کے حق میں چالیس لوگ شفاعت کریں ان کی شفاعت قبول کرلی جاتی ہے۔ اور جس کے حق میں دس لوگ شفاعت کریں (گواہی دیں) ان کی گواہی قبول کرلی جاتی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11977
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11977، ترقيم محمد عوامة 11746)
حدیث نمبر: 11978
١١٩٧٨ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى عن شيبان عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال: من صلى عليه مائة من المسلمين غفر له (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ جس پر سو مسلمان نماز ادا کریں اس کی مغفرت کردی جاتی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11978
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ وقد ورد مرفوعًا، فأخرجه ابن ماجة (١٤٨٨) عن المؤلف بهذا الإسناد مرفوعًا، كما أخرجه ابن عساكر ٥٥/ ١٧٦، والبيهقي في شعب الإيمان (٩٢٥٣) بإسنادهما عن عبيد اللَّه عن الأعمش به مرفوعًا في تاريخ أصبهان ١/ ٤٢٤، وكذا أخرجه الطحاوي في شرح مشكل الآثار ١/ ٢٤٥ عن الأعمش به مرفوعًا، وانظر: العلل للدارقطني ١٠/ ٩٧.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11978، ترقيم محمد عوامة 11747)