کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: کوئی شخص نماز جنازہ ادا کرے تو کیا اسکو بغرف اجازت واپس جانے کی اجازت ہے؟
حدیث نمبر: 11873
١١٨٧٣ - حدثنا ابن المبارك عن معمر عن الزهري قال: كان المسور بن مخرمة لا يرجع حتى يؤذن له (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت امام زہری فرماتے ہیں کہ حضرت مسور بن مخرمہ نماز جنازہ کے بعد واپس نہ لوٹتے جب تک کہ ان سے اجازت نہ لے لیتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11873
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11873، ترقيم محمد عوامة 11646)
حدیث نمبر: 11874
١١٨٧٤ - حدثنا (أبو) (١) معاوية ووكيع عن هشام عن أبيه عن زيد بن ثابت قال: إذا صليتم على الجنازة فقد (قضيتم) (٢) ما عليكم فخلوا بينها وبين أهلها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن ثابت فرماتے ہیں جب تم نے نماز جنازہ ادا کرلی تو تم نے اپنا حق ادا کرلیا، اب اس کے اور اس کے اھل کو تنہا (خالی) چھوڑ دو ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11874
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11874، ترقيم محمد عوامة 11647)
حدیث نمبر: 11875
١١٨٧٥ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن (الحسن) (١) بن صالح عن ⦗٦٣⦘ ابن أبي ليلى عن أبي الزبير (عن جابر) (٢) قال: امش مع الجنازة ما شئت ثم ارجع إذا بدا لك (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر ارشاد فرماتے ہیں کہ جتنا چاہو جنازے کے ساتھ چلو پھر واپس لوٹ آؤ جب تمہارے لیے ظاہر ہوجائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11875
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لحال ابن أبي ليلى.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11875، ترقيم محمد عوامة 11648)
حدیث نمبر: 11876
١١٨٧٦ - حدثنا معاذ بن معاذ عن ابن عون عن محمد أنه كان لا يرى لهم إذنًا ويقول: ما سلطانهم علينا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ محمد اجازت لینے کو ضروری نہ سمجھتے تھے، اور فرماتے تھے کہ وہ ہم پر نگہبان نہیں ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11876
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11876، ترقيم محمد عوامة 11649)
حدیث نمبر: 11877
١١٨٧٧ - حدثنا الفضل بن دكين عن مو (سى بن نا) (١) فع قال: رأيت سعيد بن جبير صلى على جنازة ثم رجع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت موسیٰ بن نافع فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جیر کو دیکھا کہ آپ نے نماز جنازہ پڑھی اور واپس لوٹ گئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11877
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11877، ترقيم محمد عوامة 11650)
حدیث نمبر: 11878
١١٨٧٨ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن ابن جريج قال: قال رجل لنافع أكان ابن عمر يرجع من الجنازة قبل أن يؤذن له بعد فراغهم؟ قال: ما كان يرجع حتى يؤذن له (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت نافع سے دریافت کیا کیا حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نماز جنازہ سے فارغ ہونے کے بعد اجازت سے قبل ہی واپس لوٹ جایا کرتے تھے ؟ آپ نے فرمایا اجازت لینے سے قبل نہیں لوٹا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11878
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11878، ترقيم محمد عوامة 11651)
حدیث نمبر: 11879
١١٨٧٩ - حدثنا شريك عن إبراهيم بن مهاجر عن إبراهيم قال: أميران وليسا بأميرين: صاحب الجنازة إذا صليت عليها لم ترجع إلا بإذنه، والمرأة الحاجة على رفقتها إذا حاضت.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ دو شخص عہدئہ امارت پر نہ ہونے کے باوجود بھی امیر ہی سمجھے جاتے ہیں ایک جنازے کا مالک جب تم نماز جنازہ ادا کرلو تو اجازت کے بغیر نہ لوٹو، اور حاجن عورت اپنے ساتھیوں کے پاس جب وہ حائضہ ہوجائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11879
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11879، ترقيم محمد عوامة 11652)
حدیث نمبر: 11880
١١٨٨٠ - حدثنا وكيع عن أبي (جناب) (١) عن طلحة عن إبراهيم عن عبد اللَّه قال: أميران وليسا بأميرين: صاحب الجنازة، [والحائض (على) (٢) (الرفقة)] (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ دو آدمی نہ امیر ہونے کے باوجود بھی امیر ہی سمجھے جاتے ہیں، جنازے والا، اور حائضہ عورت اپنے ساتھیوں میں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11880
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11880، ترقيم محمد عوامة 11653)
حدیث نمبر: 11881
١١٨٨١ - حدثنا وكيع عن مالك بن مغول عن طلحة (عن) (١) عمر مثله (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر سے اسی کے مثل منقول ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11881
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11881، ترقيم محمد عوامة 11654)
حدیث نمبر: 11882
١١٨٨٢ - حدثنا أبو الأحوص عن سعيد (بن) (١) مسروق عن طلحة (اليامي) (٢) قال: كان يقال: أميرأن وليسا (بآمرين) (٣): الجنازة على من يتبعها، والمرأة الحاجة على رفقتها إذا حاضت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طلحہ الیامی فرماتے ہیں دو آدمی امیر نہ ہوتے ہوئے بھی امیر ہیں۔ جنازہ امیر ہے اس شخص کا جو اس کی اتباع کرے اور حاجن عورت اپنے ساتھیوں پر جب وہ حائضہ ہوجائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11882
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11882، ترقيم محمد عوامة 11655)
حدیث نمبر: 11883
١١٨٨٣ - حدثنا عبد الوهاب بن عطاء عن ابن أبي عروبة عن داود بن أبي (القصاف) (١) قال: كنت مع أبي قلابة في جنازة، فلما صلّى انصرف، قال: فقلت له: قبل أن يؤذن لك؟ قال: فقال أهم أمراء علينا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت داؤد بن ابی القصاف فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابو قلابہ کے ساتھ ایک جنازے میں تھا، جب آپ نے نماز پڑھی آپ واپس لوٹ گئے، میں نے ان سے عرض کیا اجازت سے پہلے ہی آپ واپس جارہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا کیا وہ ہم پر حکمران (اور مسلط) ہیں ؟۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11883
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11883، ترقيم محمد عوامة 11656)
حدیث نمبر: 11884
١١٨٨٤ - حدثنا أبو داود الطيالسي عن أبي عقيل قال: قلت له: على من تبع الجنازة إذن؟ قال: لا، ولكن يحتشم الرجل أن يرجع حتى يؤذن له.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو داؤد الطیالسی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو عقیل سے دریافت کیا جو شخص جنازے کے ساتھ ہو اس کے لیے (واپس جانے کے لیے) اجازت ہے ؟ آپ نے فرمایا نہیں، لیکن آدمی کی حیا میں یہ بات داخل ہے کہ وہ اجازت کے بغیر نہ لوٹے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11884
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11884، ترقيم محمد عوامة 11657)
حدیث نمبر: 11885
١١٨٨٥ - حدثنا يحيى بن سعيد عن ثور عن محفوظ (بن) (١) علقمة عن (عبد اللَّه) (٢) عن أبي هريرة قال: أميران (وليسا) (٣) (بآمرين) (٤): المرأة تكون مع الرفقة فتحج أو تعتمر فيصيبها أذى من الحيض، قال: لا (ينفروا) (٥) حتى تطهر ⦗٦٥⦘ وتأذن لهم، والرجل يخرج مع الجنازة لا يرجع حتى يؤذن له أو يدفنوها أو يواروها (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں دو امیر ایسے ہیں جو حقیقت میں امیر نہیں ایک وہ عورت جو کسی جماعت کے ساتھ حج یا عمرہ کے لیے جائے اور وہ حائضہ ہوجائے اب وہ جماعت اس وقت کوچ نہیں کرسکتی جب تک وہ پاک نہ ہوجائے یا ناپاکی کی حالت میں انہیں چلے جانے کی اجازت نہ دے دے۔ اور دوسرا وہ آدمی جو کسی جنازے کے ساتھ چلا جائے اب وہ اس وقت تک واپس نہیں جاسکتا جب تک کہ اس کو اجازت نہ مل جائے یا جب تک میت کو دفن نہ کردیا جائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11885
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11885، ترقيم محمد عوامة 11658)
حدیث نمبر: 11886
١١٨٨٦ - حدثنا مرحوم بن عبد العزيز عن حبيب (أبي) (١) محمد قال: كنت مع الحسن في جنازة، فلما أذن لهم قلت للحسن: قد أذن لهم؟ قال: وهل علينا إذن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حبیب بن ابی محمد فرماتے ہیں کہ میں حسن کے ساتھ ایک جنازے میں تھا، پھر جب لوگوں کو اجازت دی گئی تو میں نے حسن سے کہا اجازت دے دی گئی ہے۔ حسن نے فرمایا کیا ہمارے لئے اذن (ضروری) ہے ؟
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11886
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11886، ترقيم محمد عوامة 11659)
حدیث نمبر: 11887
١١٨٨٧ - [حدثنا حفص عن أشعث عن أبي الزبير عن جابر قال: يتبع الجنازة ما بدا له ويرجع إذا (بدا) (١) له] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ جنازے کے ساتھ چلے جتنا اس کے لیے ظاہر ہو (گنجائش ہو) اور واپس لوٹ جائے جب اس کے لیے ظاہر ہوجائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11887
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11887، ترقيم محمد عوامة 11660)
حدیث نمبر: 11888
١١٨٨٨ - حدثنا حفص عن أشعث عن الحسن مثله.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے اسی کے مثل منقول ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11888
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11888، ترقيم محمد عوامة 11661)
حدیث نمبر: 11889
١١٨٨٩ - حدثنا ابن إدريس عن ليث عن طلحة عن أبي حازم عن أبي هريرة قال: أميران (وليسا) (١) (بآمرين) (٢): الرجل يصلي على الجنازة ليس له أن يرجع إلا بإذن أهلها، والمرأة تكون مع القوم فتحيض قبل أن تطوف بالبيت يوم النحر ليس لهم أن ينفروا إلا بإذنها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دو آدمی امیر نہ ہونے کے باوجود بھی امیر ہیں، کوئی شخص نماز جنازہ ادا کرے تو وہ بغیر اجازت کے واپس نہ لوٹے، اور کوئی عورت (حج کے سفر میں) ہے اور اس کو طواف سے پہلے یوم النحر میں حیض آجائے، تو ان کے لیے اس عورت کی اجازت کے بغیر نکلنا جائز نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11889
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لحال ليث.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11889، ترقيم محمد عوامة 11662)