کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: طلوع شمس اور غروب آفتاب کے وقت نماز جنازہ پڑھانے کا بیان
حدیث نمبر: 11658
١١٦٥٨ - حدثنا حاتم بن إسماعيل عن (أنيس) (١) (بن) (٢) أبي يحيى عن أبيه أن ⦗٨⦘ جنازة وضعت فقام ابن عمر قائمًا فقال: أين ولي هذه الجنازة؟ ليصلي عليها قبل أن يطلع قرن الشمس (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انیس بن ابی یحییٰ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک جنازہ رکھا گیا تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما یہ فرماتے ہوئے کھڑے ہوگئے کہ اس جنازہ کا ولی کہاں ہے تاکہ طلوع شمس سے پہلے پہلے اس کی نماز جنازہ پڑھ لیں۔
حدیث نمبر: 11659
١١٦٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد عن عنبسة (الوزان) (١) قال: حدثنا (أبو) (٢) لبابة قال: صليت مع أبي هريرة على جنازة والشمس على أطراف الجدر (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو لبابہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنازے کی نماز پڑھی اس وقت سورج (کی روشنی) دیواروں کے اطراف میں تھی۔
حدیث نمبر: 11660
١١٦٦٠ - حدثنا أبو داود الطيالسي عن شعبة عن أبي حصين أن عبيدة: أوصى أن يصلي عليه الأسود قال: فجاؤوا به قبل أن تغرب الشمس قال: فصلى عليه قبل غروب الشمس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو حصین فرماتے ہیں کہ حضرت عبیدہ نے وصیت فرمائی تھی کہ ان کی نماز جنازہ حضرت اسود پڑھائے۔ ان کو غروب شمس سے پہلے بلایا گیا تو انہوں نے غروب آفتاب سے پہلے ہی نماز جنازہ پڑھا دی۔
حدیث نمبر: 11661
١١٦٦١ - حدثنا وكيع عن (جعفر) (١) بن برقان عن ميمون قال: كان ابن عمر يكره الصلاة على الجنازة (إذا) (٢) (طلعت) (٣) الشمس و (حين) (٤) تغيب (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت میمون فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما طلوع شمس اور غروب شمس کے وقت نماز جنازہ کو ناپسند فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 11662
١١٦٦٢ - حدثنا يزيد بن هارون عن حبيب عن عمرو قال: سئل جابر بن زيد هل تدفن (الجنازة) (١) عند طلوع الشمس أو عند غروبها أو غروب بعضها؟ قال: لا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو فرماتے ہیں کہ حضرت جابر سے دریافت کیا گیا کہ طلوع شمس، غروب شمس یا بعض حصہ غروب ہونے کے وقت جنازہ کو دفن کیا جائے گا ؟ آپ نے فرمایا نہیں۔
حدیث نمبر: 11663
١١٦٦٣ - حدثنا معن عن ابن أبي ذئب عن الزهري قال يكره الصلاة على الجنازة بعد العصر وبعد الفجر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت امام زہری فرماتے ہیں کہ عصر کے بعد اور فجر کے بعد نماز جنازہ پڑھانا ناپسندیدہ ہے۔
حدیث نمبر: 11664
١١٦٦٤ - حدثنا محمد بن أبي عدي عن ابن عون قال: كان محمد يحب أن يصلي على الجنازة (ثم يصلي) (١) العصر (وكان يكره أن يصلى) (٢) على الجنازة بعد العصر.
مولانا محمد اویس سرور
محمد اس بات کو پسند فرماتے تھے کہ پہلے جنازہ کی نماز پڑھی جائے پھر عصر کی، وہ اس بات کو ناپسند فرماتے تھے کہ پہلے عصر کی نماز ہو اس کے بعد نماز جنازہ۔
حدیث نمبر: 11665
١١٦٦٥ - (حدثنا غندر عن عثمان بن غياث قال: سألت الحسن عن الصلاة على الجنازة بعد العصر) (١)؛ (فقال) (٢): نعم؛ إذا كانت (بيضاء نقية) (٣)، فإذا أزفت للإياب فلا (يصلَّى) (٤) عليها حتى تغرب الشمس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان بن غیاث فرماتے ہیں کہ حسن سے عصر کے بعد نماز جنازہ پڑھنے سے متعلق دریافت کیا گیا ؟ آپ نے فرمایا، ہاں جب خالص سفیدی ہو تو پڑھ لو۔ اور جب سورج غروب کے قریب ہو تو مت پڑھو جب تک کہ وہ غروب نہ ہوجائے۔
حدیث نمبر: 11666
١١٦٦٦ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن أبي بكر يعني ابن حفص قال: كان عبد اللَّه بن عمر إذا كانت الجنازة صلى العصر ثم قال: عجلوا بها قبل أن تطفل الشمس (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن حفص سے مروی ہے کہ عبداللہ بن عمر جب جنازہ موجود ہوتا تو عصر کی نماز پڑھ کر فرماتے ہیں جلدی کر قبل اس کے کہ سورج غروب ہوجائے۔