کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: بعض حضرات نے عورتوں کو جنازے کے ساتھ جانے کی اجازت دی ہے اور ان کے چیخنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے
حدیث نمبر: 11631
١١٦٣١ - حدثنا (وكيع) (١) عن هشام بن عروة عن وهب بن كيسان (٢) عن محمد ابن عمرو (بن) (٣) عطاء عن أبي هريرة أن رسول اللَّه ﷺ كان في جنازة فرأى عمر أمرأة فصاح بها فقال له رسول اللَّه ﷺ: "دعها يا عمر، فإن العين (دامعة) (٤) والنفس مصابة والعهد قريب" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک جنازہ میں شریک تھے حضرت عمر نے ایک عورت کو دیکھا جو چیخ رہی تھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر سے فرمایا : اے عمر چھوڑ دو بیشک آنکھیں اشک بار ہیں اور نفس غم میں مبتلا ہے اور عہد (وعدہ مقررہ) قریب ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11631
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11631، ترقيم محمد عوامة 11411)
حدیث نمبر: 11632
١١٦٣٢ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن (أبي) (١) إسحاق عن (جبار) (٢) الطائي قال: شهدت جنازة أم مصعب بن الزبير وفيها ابن عباس على أتان له، فمر (وحاذى) (٣) عبد اللَّه بن عمرو وابن عمر وقال: فسمعوا أصوات صوائح، قال: ⦗٥٥٦⦘ قلت: يا (أبا) (٤) عباس (يُصنع) (٥) هذا وأنت هاهنا؟ قال: دعنا منك يا (جبار) (٦) فإن اللَّه أضحك وأبكى (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جبار الطائی فرماتے ہیں کہ میں حضرت ام مصعب بن زبیر کے جنازہ میں حاضر ہوا وہاں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی سفید گدھی پر سوار موجود تھے جس کو لگام پکڑ کر چلا جا رہا تھا۔ اور حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے تو انہوں نے چلانے اور چیخنے کی آواز سنی تو میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا یہاں پر یہ ہو رہا ہے اور آپ پھر بھی یہاں موجود ہیں ؟ آپ نے فرمایا : اے جبارھم سے خود کو دور رکھو (ہم اس کے مکلف نہیں) بیشک اللہ تعالیٰ ہی ہنساتا ہے اور اللہ ہی رلاتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11632
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11632، ترقيم محمد عوامة 11412)
حدیث نمبر: 11633
١١٦٣٣ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن خالد بن دينار عن الحسن قال: خرج في جنازة، فجعلوا يصيحون عليها، فرجع ثابت، فقال له الحسن: ندع حقًا لباطل؟ قال: (فمضى) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن ایک جنازے کے ساتھ نکلے تو اس میں چیخنے کی آوازیں تھی، حضرت ثابت لوٹے تو حسن نے ان سے کہا کیا آپ باطل کے لیے (کی وجہ سے) حق کو چھوڑ رہے ہیں ؟ راوی کہتے ہیں (یہ سن کر) وہ جنازے کے ساتھ چل پڑے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11633
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11633، ترقيم محمد عوامة 11413)
حدیث نمبر: 11634
١١٦٣٤ - حدثنا معن بن عيسى عن خالد بن أبي بكر قال: رأيت سالمًا والقاسم يمشيان أمام الجنازة، والنساء خلفها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد بن ابی بکر فرماتے ہیں میں نے حضرت سالم اور حضرت قاسم کو دیکھا آپ جنازے کے آگے آگے چل رہے ہیں اور عورتیں جنازے کے پیچھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11634
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11634، ترقيم محمد عوامة 11414)