کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: میت کو کتنا کندھا دینا (اٹھانا) کافی ہے
حدیث نمبر: 11617
١١٦١٧ - حدثنا جرير بن عبد الحميد عن منصور عن عبيد بن (نسطاس) (١) قال: كنا مع أبي عبيدة بن عبد اللَّه في جنازة فقال: قال عبد اللَّه: إذا كان أحدكم في جنازة (فليحمل) (٢) (بجوانب) (٣) السرير كله، فإنه من السنة له، (ثم) (٤) ليتطوع (أو) (٥) ليدع (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید بن نسطاس فرماتے ہیں کہ ہم حضرت ابو عبیدہ بن عبد اللہ کے ساتھ ایک جنازے میں تھے حضرت عبد اللہ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص کسی جنازے میں ہو تو وہ چارپائی کے چاروں حصوں کو کندھا دے بیشک یہ سنت میں سے ہے۔ پھر اس کو (نفلی طور پر) اٹھائے یا (دوسروں کیلئے) چھوڑ دے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11617
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11617، ترقيم محمد عوامة 11397)
حدیث نمبر: 11618
١١٦١٨ - حدثنا وكيع عن عباد بن منصور عن أبي (المهزم) (١) عن أبي هريرة قال: من حمل الجنازة ثلاثًا فقد قضى ما عليه من حقها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ جس نے جنازے کو تین بار اٹھایا اس نے وہ حق ادا کردیا جو اس پر تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11618
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف جدًا؛ أبو المهزم متروك.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11618، ترقيم محمد عوامة 11398)
حدیث نمبر: 11619
١١٦١٩ - حدثنا يحيى بن سعيد عن ثور عن عامر بن (جشيب) (١) وغيره من أهل الشام (قالوا) (٢): قال أبو الدرداء: من تمام أجر الجنازة أن يشيعها من أهلها، وأن (يحمل) (٣) بأركانها الأربع وأن (يحثو) (٤) في القبر (٥).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11619
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11619، ترقيم محمد عوامة 11399)