کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جو شخص جنازے کے پیچھے چلنے کو پسند کرتا ہے
حدیث نمبر: 11568
١١٥٦٨ - [حدثنا يحيى بن سعيد وعبد الرحمن بن مهدي عن سفيان عن عمران ابن مسلم عن سويد بن غفلة قال: الملائكة يمشون خلف الجنازة] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سوید بن غفلہ ارشاد فرماتے ہیں کہ ملائکہ جنازے کے پیچھے چلتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11568
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11568، ترقيم محمد عوامة 11349)
حدیث نمبر: 11569
١١٥٦٩ - حدثنا يحيى بن سعيد عن ثور عن عامر بن (جشيب) (١) وغيره من أهل الشام قالوا: قال أبو الدرداء (٢) من (تمام) (٣) أجر الجنازة: أن يشيعها من أهلها والمشي خلفها (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الدرداء ارشاد فرماتے ہیں کہ جنازے کا مکمل اجر ان کے اھل کو اس کی اطلاع دینے اور اس کے پیچھے چلنے میں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11569
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11569، ترقيم محمد عوامة 11350)
حدیث نمبر: 11570
١١٥٧٠ - حدثنا عيسى بن يونس عن الأعمش عن عمارة قال: قال (أبو) (١) معمر في جنازة أبي ميسرة: امشوا خلف جنازة أبي ميسرة فإنه كان (مشاءً) (٢) خلف الجنائز.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمارہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو معمر حضرت ابو میسرہ کے جنازے میں فرما رہے تھے کہ ابو میسرہ کے جنازے کے پیچھے چلو بیشک وہ جنازوں کے پیچھے چلا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11570
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11570، ترقيم محمد عوامة 11351)
حدیث نمبر: 11571
١١٥٧١ - حدثنا معتمر بن سليمان عن أبيه قال: رأيت أبا قلابة غير مرة يجعل الجنائز عن يمينه.
مولانا محمد اویس سرور
سلیمان اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو قلابہ کو کئی بار دیکھا کہ وہ جنازے کو اپنی دائیں جانب رکھتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11571
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11571، ترقيم محمد عوامة 11352)
حدیث نمبر: 11572
١١٥٧٢ - حدثنا محمد بن فضيل عن يزيد بن أبي زياد عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن ابن أبزى قال: كنت في جنازة وأبو بكر وعمر أمامها وعلي يمشي خلفها قال: فجئت إلى عليّ فقلت له: المشي خلفها أفضل أو المشي أمامها، فإني أراك تمشي خلفها وهذان يمشيان أمامها، قال: فقال لي: لقد علمنا أن المشي خلفها أفضل من أمامها مثل صلاة الجماعة على الفذ، ولكنهما يسيران ميسران يحبان أن ييسرا على الناس (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن البزی فرماتے ہیں کہ میں جنازہ میں تھا، حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر اس جنازہ کے آگے تھے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ پیچھے چل رہے تھے۔ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا جنازے کے پیچھے چلنا افضل ہے یا آگے ؟ کیونکہ میں آپ کو دیکھتا ہوں کہ آپ پیچھے چل رہے ہیں اور یہ دونوں حضرات آگے چل رہے ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : جنازے کے پیچھے چلنا اس کے آگے چلنے سے افضل ہے، جیسے اکیلے شخص کی نماز، وہ دونوں حضرات آسانی کیلئے آگے چل رہے ہیں۔ وہ لوگوں پر آسانی کو پسند کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11572
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لحال يزيد بن أبي زياد.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11572، ترقيم محمد عوامة 11353)
حدیث نمبر: 11573
١١٥٧٣ - حدثنا ابن فضيل عن يحيى الجابر عن أبي ماجد قال: سألت (ابن) (١) مسعود عن السير بالجنازة قال: السير ما دون (الخبب) (٢) (إن الجنازة) (٣) متبوعة (ولا) (٤) (تتبع) (٥)، ليس معها من تقدمها (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ماجد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جنازے میں سے متعلق دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا نرم ہلکی چال سے کچھ کم چلنا ہے، اور جنازہ متبوع ہے تابع نہیں ہے (یعنی لوگ اسکے پیچھے چل کر اسکی اتباع کرتے ہیں) اور جو جنازے سے آگے رہے وہ اس کے ساتھ نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11573
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف جدًا؛ أبو ماجد متروك، أخرجه أحمد (٣٥٨٥)، وأبو داود (٣١٨٤)، والترمذي (١٠١١)، وابن ماجة (١٤٨٤)، وأبو يعلى (٥٠٣٨)، والطحاوي ١/ ٤٧٩، والبيهقي ٤/ ٢٥، وابن عدي ٧/ ٢٦٥٩.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11573، ترقيم محمد عوامة 11354)
حدیث نمبر: 11574
١١٥٧٤ - حدثنا عيسى بن يونس عن ثور عن (مريح) (١) (بن) (٢) مسروق قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لكل أمة قربان و (إن) (٣) قربان هذه الأمة موتاها، فاجعلوا موتاكم بين أيديكم" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جریح بن مسروق سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہر امت کے لیے نذر اور قربانی ہے، اور اس امت کی قربانی ان کی موت ہے، پس تم اپنے مردوں کو (جنازے میں) اپنے آگے رکھو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11574
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل، مريح تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11574، ترقيم محمد عوامة 11355)
حدیث نمبر: 11575
١١٥٧٥ - حدثنا وكيع عن ثور عن أبي النعمان (١) قال: سمعت أبا أمامة يقول: لأن (لا) (٢) أخرج معها أحب إليّ من أن أمشي أمامها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو النعمان فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابو امامہ سے سنا وہ فرماتے ہیں : میں جنازے کے ساتھ نہ نکلوں یہ مجھے زیادہ پسند ہے اس بات سے کہ میں اس کے آگے چلوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11575
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11575، ترقيم محمد عوامة 11356)
حدیث نمبر: 11576
١١٥٧٦ - حدثنا ابن علية عن (الجريري) (١) عن أبي (السليل) (٢) عن عبد اللَّه (ابن) (٣) رباح قال: للماشي في الجنازة قيراطان، وللراكب قيراط.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن رباح ارشاد فرماتے ہیں کہ جنازے میں پیدل چلنے والے کیلئے دو قیراط اجر ہے، اور سوار کے لیے ایک قیراط۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11576
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11576، ترقيم محمد عوامة 11357)