کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: کوئی شخص جنازے کے پیچھے یہ کہتا ہو چلے کہ اسکے لیے استغفار کرو اللہ تمہاری مغفرت کرے گا، اس کا کیا حکم ہے
حدیث نمبر: 11520
١١٥٢٠ - حدثنا أبو الأحوص عن مغيرة عن إبراهيم قال: كان يكره أن يتبع الرجل الجنازة يقول: استغفروا له غفر اللَّه لكم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ سے مروی ہے کہ ابراہیم اس بات کو ناپسند سمجھتے تھے آدمی جنازے کے پیچھے یوں کہتا ہوا چلے کہ اس کے لیے استغفار کرو اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت فرمائے گا۔
حدیث نمبر: 11521
١١٥٢١ - حدثنا محمد بن فضيل عن (بكير) (١) بن عتيق قال: كنت في جنازة فيها سعيد بن جبير (فقال رجل) (٢): استغفروا له غفر اللَّه لكم، قال (سعيد بن جبير) (٣): لا غفر اللَّه لك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بکیر بن عتیق فرماتے ہیں کہ میں جنازہ میں تھا جس میں حضرت سعید بن جبیر بھی تھے، ایک شخص نے کہا اس کیلئے اسغفار کرو اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت فرمائے گا، حضرت سعید بن جبیر نے فرمایا : اللہ تعالیٰ تیری مغفرت نہیں کرے گا۔
حدیث نمبر: 11522
١١٥٢٢ - حدثنا وكيع عن شعبة عن العلاء (عن) (١) سعيد بن جبير قال: كنت معه في جنازة فسمع رجلًا يقول: استغفروا له غفر اللَّه لكم، فنهاه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت العلائ فرماتے ہیں کہ میں حضرت سعید بن جبیر کے ساتھ ایک جنازہ میں شریک تھا، انہوں نے سنا کہ ایک شخص کہہ رہا ہے، اس کیلئے اسغفار کرو اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت فرمائے گا۔ آپ نے اس کو اس سے منع فرما دیا۔
حدیث نمبر: 11523
١١٥٢٣ - حدثنا يحيى بن سعيد عن ابن جريج عن عطاء أنه كره أن يقول: استغفروا له غفر اللَّه لكم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء اس بات کو ناپسند سمجھتے تھے کہ کوئی شخص (جنازہ) میں یوں کہے، اس کیلئے استغفار کرو اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت فرمائے گا۔
حدیث نمبر: 11524
١١٥٢٤ - حدثنا محمد بن أبي عدي عن ابن عون عن ابن سيرين قال: أول ما سمعت (في جنازة: استغفروا له في جنازة (سعد) (١) بن أوس) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ پہلی بار میں نے یہ کلمات کہ اس کیلئے استغفار کہو حضرت سعید بن اوس کے جنازے میں سنا۔
حدیث نمبر: 11525
١١٥٢٥ - حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور (أو عن) (١) مغيرة عن إبراهيم أنه كره أن يقوله.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اس طرح کہنے کو ناپسند سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 11526
١١٥٢٦ - حدثنا وكيع عن ربيع عن الحسن أنه كره أن يقول: استغفروا غفر اللَّه لكم.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اس بات کو ناپسند سمجھتے تھے کہ کوئی شخص یوں کہے، اس کیلئے استغفار کہو تاکہ اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت فرمائے۔
حدیث نمبر: 11527
١١٥٢٧ - حدثنا أبو مطيع عن عبد الرحمن بن حرملة أنه كان في جنازة فسمع رجلًا (يقوله) (١)، فقال سعيد بن المسيب: ما يقول (راجزكم) (٢) هذا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن حرملہ ایک جنازے میں شریک تھے انہوں نے ایک شخص کو سنا جو یہ کہہ رہا تھا، حضرت سعید بن مسیب نے فرمایا : تمہارا یہ رجز پڑھنے والا کیا کہہ رہا ہے ؟ (رجزیہ اشعار پڑھنا) ۔
حدیث نمبر: 11528
١١٥٢٨ - حدثنا قبيصة عن سفيان عن الربيع بن أبي (راشد) (١) أن سعيد بن جبير سمع رجلًا يقول في جنازة استغفروا له غفر اللَّه لكم فغضب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع بن ابی راشد فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن جبیر نے ایک شخص کو جنازہ میں یہ کہتے ہوئے سنا کہ اس کیلئے استغفار کرو اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت فرمائے گا، تو آپ اس شخص کو غصہ ہوئے۔