کتب حدیث › مصنف ابن ابي شيبه › ابواب › باب: میت کو چارپائی پر کیسے رکھیں گے؟ اس کا بیان
❮
❯
١١٤٩٣ - حدثنا أبو أسامة عن هشام عن أبيه أن أسماء بنت (عميس) (١) أول ⦗٥٢٣⦘ من أحدثت النعش (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت اسماء بنت عمیس پہلی خاتون ہیں جنہوں نے تابوت (چارپائی) ایجاد کی (متعارف کروائی) ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11493
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11493، ترقيم محمد عوامة 11276)
١١٤٩٤ - حدثنا عبد الرحمن بن مهدي عن سفيان عن قيس (بن مسلم) (١) عن طارق بن شهاب إن أم أيمن أمرت بالنعش للنساء (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طارق بن شہاب فرماتے ہیں کہ حضرت ام ایمن نے عورتوں کے لیے تابوت (چارپائی) کا حکم فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11494
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11494، ترقيم محمد عوامة 11277)
١١٤٩٥ - حدثنا وكيع عن عمران بن حدير قال: مروا على أبي مجلز بنعش كبير فقال: رفعت اليهود والنصارى فخالفوهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمران بن حدیر فرماتے ہیں کہ ہم ابو مجلز کے پاس سے ایک بڑا تابوت (چارپائی) لے کر گذرے تو آپ نے فرمایا : یہود و نصاریٰ نے اس کو بلند کیا، پس تم لوگ ان کی مخالفت کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11495
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11495، ترقيم محمد عوامة 11278)
١١٤٩٦ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم قال: كانوا إذا كانت جنازة امرأة أكفوا السرير فجافوا عنها بقوائمه وإذا كان رجل وضع على بطن السرير.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہں ن کہ عورت کے جنازے کے تختے کے نیچے پائے لگا کر مرد اپنے اور تختے کے درمیان خلا پیدا کریں گے۔ مرد کے جنازے میں ایسا کرنے کی ضرورت نہیں البتہ اسے تختے کے درمیان میں رکھیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11496
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11496، ترقيم محمد عوامة 11279)