کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ خوشبودار (پائوڈر یا مٹی) چارپائی یا تابوت پر ہو
حدیث نمبر: 11486
١١٤٨٦ - حدثنا وكيع (بن) (١) الجراح عن هشام عن فاطمة عن أسماء أنها أوصت أن لا تجعلوا على كفني حناطًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت فاطمہ سے مروی ہے کہ حضرت اسمائ نے وصیت فرمائی کہ میرے کفن پر خوشبو مت لگانا۔
حدیث نمبر: 11487
١١٤٨٧ - حدثنا وكيع عن العمري عن نافع عن ابن عمر أنه كره الحنوط على النعش (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما چارپائی یا تابوت پر خوشبو لگانے کو ناپسند فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 11488
١١٤٨٨ - حدثنا شريك عن أبي إسحاق قال: رأيت على جنازة الحارث ذريرة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حارث کے جنازہ پر خوشبودار (پاؤڈر) دیکھا۔
حدیث نمبر: 11489
١١٤٨٩ - حدثنا وكيع عن طلحة (بن يحيى) (١) عن عمر بن عبد العزيز أنه كره الذريرة على النعش.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن عبد العزیز چارپائی پر خوشبو لگانے کو ناپسند سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 11490
١١٤٩٠ - حدثنا هشيم بن بشير عن (الربيع) (١) عن الحسن وابن سيرين أنهما كرها أن يجعل الحنوط على النعش.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور حضرت ابن سیرین چارپائی پر خوشبودار (پاؤڈر) لگانے کو ناپسند سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 11491
١١٤٩١ - حدثنا هشيم عن صاحب له عن مغيرة عن إبراهيم مثله.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے بھی اسی طرح منقول ہے۔
حدیث نمبر: 11492
١١٤٩٢ - حدثنا يحيى بن سليم الطائفي عن ابن جريج عن عطاء أنه كان (يكره) (١) الذريرة التي تجعل فوق النعش ويقول: (نفخ) (٢) في الحياة و (نفخ) في الممات.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء چارپائی پر خوشبودار پاؤڈر لگانے کو ناپسند سمجھتے تھے اور فرماتے تھے خوشبو ہے زندگی میں، خوشبو ہے مرنے کے بعد بھی ؟