حدیث نمبر: 11484
١١٤٨٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي إسحاق عن ناجية (بن كعب) (١) عن علي قال: لما مات أبو طالب أتيت رسول اللَّه ﷺ فقلت: يا رسول اللَّه إن عمك الشيخ الضال (قد) (٢) مات قال: فقال: "انطلق فواره ثم لا تُحْدِثَنَّ شيئًا حتى تأتيني"، قال: فواريته ثم أتيته فأمرني فاغتسلت، ثم دعا لي بدعوات ما يسرني أن لي بهن ما على الأرض (من) (٣) شيء (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ کرم اللہ وجہہ ارشاد فرماتے ہیں کہ جب ابو طالب کا انتقال ہوا تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! آپ کا گمراہ اور بوڑھا چچا مرگیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان کے پاس جاؤ اور ان کو ڈھانپ دو اور پھر جب تک میرے پاس نہ آ جاؤ کچھ نہ کرنا، چناچہ میں نے انہیں ڈھانپ دیا اور حاضر خدمت ہوا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا انہیں غسل دو اور آپ نے میرے لیے کچھ دعائیں کیں جو میرے نزدیک دنیا کی تمام چیزوں کے مل جانے سے زیادہ قابل حسرت ہیں۔