کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: بعض حضرات فرماتے ہیں کہ جو شخص میت کو غسل دے اسکو غسل کرنا ضروری نہیں ہے
حدیث نمبر: 11462
١١٤٦٢ - حدثنا سفيان بن عيينة عن عمرو عن عطاء عن ابن عباس (قال) (١): لا تنجسوا موتاكم فإن المؤمن (ليس) (٢) بنجس حيًا ولا (ميتًا) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں : اپنے مردوں کو ناپاک مت سمجھو، بیشک مؤمن زندہ اور مردہ حالت میں ناپاک نہیں ہوتا۔
حدیث نمبر: 11463
١١٤٦٣ - حدثنا أبو الأحوص عن عطاء بن السائب عن سعيد بن جبير قال: قلت لابن عمر: اغتسل من غسل الميت؟ قال: لا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت فرمایا : میت کو غسل دینے والا خود بھی غسل کرے ؟ آپ نے فرمایا : نہیں۔
حدیث نمبر: 11464
١١٤٦٤ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) عبد الرحيم بن سليمان عن عبد الملك عن عطاء عن ابن عباس قال: لا (تنجس) (٢) ميتكم يعني ليس عليه غسل (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ اپنے مردوں کو ناپاک مت سمجھو یعنی غاسل پر غسل نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 11465
١١٤٦٥ - حدثنا عباد بن العوام عن حجاج عن سليمان (بن) (١) (الربيع) (٢) عن سعيد بن جبير قال: غسلت أمي ميتة فقالت: (سل) (٣) لي: هل علي غسل؟ فأتيت ابن عمر؛ فسألته فقال: أنجسا غسلت (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ میری والدہ محترمہ نے ایک میت کو غسل دینے کے بعد مجھ سے فرمایا : پوچھ کر بتاؤ کیا میرے ذمہ غسل کرنا ہے ؟ میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور آپ سے دریافت فرمایا : آپ نے ارشاد فرمایا : کیا تمہاری والدہ نے کسی ناپاک چیز کو غسل دیا (جو خود غسل کر رہی ہیں) پھر میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور آپ سے دریافت کیا، آپ نے بھی اسی طرح جواب دیا کہ کیا تمہاری والدہ نے ناپاک چیز کو غسل دیا ہے۔
حدیث نمبر: 11466
١١٤٦٦ - ثم أتيت ابن عباس فسالته فقال مثل ذلك: أنجسا غسلت (١).
حدیث نمبر: 11467
١١٤٦٧ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم قال: سئل عبد اللَّه عن الغسل من غسل الميت فقال: إن كان صاحبكم نجسًا (فاغتسلوا) (١) منه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ سے دریافت کیا گیا کہ میت کو غسل دینے والے پر غسل ہے ؟ آپ نے فرمایا اگر تمہارا صاحب ناپاک ہے تو اس کو غسل دے کر نہالو۔
حدیث نمبر: 11468
١١٤٦٨ - حدثنا يحيى بن سعيد القطان عن الجعد عن عائشة بنت سعد (قالت) (١): (أؤذن) (٢) سعد بجنازة (سعيد) (٣) بن (زيد) (٤) وهو بالبقيع فجاء وغسله وكفنه وحنطه ثم أتى (داره) (٥) (فصلى) (٦) عليه ثم دعا (بماء) (٧) (فاغتسل) (٨) ثم قال: إني لم اغتسل من غسله ولو كان نجسًا ما غسلته، ولكني اغتسلت من الحر (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بنت سعد فرماتی ہیں کہ حضرت سعد کو حضرت سعید بن زید کے جنازے پر بلایا گیا وہ بقیع کے ساتھ تھے، آپ تشریف لائے اور آپ نے ان کو غسل دیا، کفن پہنایا اور پھر ان کو خوشبو لگائی، پھر آپ تشریف لائے اور ان کی نماز جنازہ پڑھی۔ اور انکے بعد پانی منگوا کر غسل فرمایا اور ارشاد فرمایا : میں نے اس لیے غسل نہیں کیا کہ میں نے میت کو غسل دیا تھا، اگرچہ جس کو غسل دیا تھا وہ ناپاک ہی کیوں نہ ہو، بلکہ میں تو گرمی کی وجہ سے نہایا ہوں۔
حدیث نمبر: 11469
١١٤٦٩ - حدثنا عباد بن العوام عن حجاج عن عطاء عن ابن عباس وابن عمر قالا: ليس على غاسل الميت غسل (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ میت کو غسل دینے والے پر غسل نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 11470
١١٤٧٠ - حدثنا وكيع عن شعبة عن يزيد الرشك عن معاذة عن (عائشة) (١) أنها سئلت (هل) (٢) (على) (٣) الذي يغسل المتوفين غسل؟ قالت: لا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معاذہ سے مروی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا گیا کہ مردوں کو نہلانے والے پر غسل ہے ؟ آپ نے فرمایا نہیں۔
حدیث نمبر: 11471
١١٤٧١ - حدثنا معاذ بن معاذ عن حبيب بن الشهيد عن بكر بن عبد اللَّه قال: حدثني علقمة بن عبد اللَّه المزني قال: غسل أباك أربعة من أصحاب رسول اللَّه ﷺ فما زادوا على أن (كفوا) (١) أكمامهم و (أدخلوا) (٢) (قمصهم) (٣) في (حجزهم) (٤) (فلما) (٥) فرغوا من غسله توضؤوا وضوءهم للصلاة (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ بن عبد اللہ المذنی فرماتے ہیں کہ میرے والد صاحب کو چار صحابہ کرام نے مرنے کے بعد غسل دیا، پس زیادہ نہیں ہوئے مگر ان کی آستین کھول دیں اور ان کی قمیصوں کو ازار باندھنے کی جگہ ڈال دیں، جب وہ ان کو غسل دے کر فارغ ہوئے تو انہوں نے (صرف) نماز والا وضو کیا (غسل نہیں کیا) ۔
حدیث نمبر: 11472
١١٤٧٢ - حدثنا يحيى بن سعيد عن (عوف) (١) قال: حدثني (خزاعي) (٢) بن زياد (عن) (٣) عبد اللَّه بن مغفل قال: أوصى عبد اللَّه بن مغفل أن لا يحضره ابن زياد وأن يليني أصحابي فأرسلوا إليّ عائذ بن عمرو وأبا برزة وأناس من أصحابه فما زادوا على أن (كفوا) (٤) (أكمامهم) (٥) وجعلوا ما فضل (عن) (٦) قمصهم في حجزهم فلما فرغوا لم يزيدوا على الوضوء (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خذاعی بن زیاد فرماتے ہیں کہ عبد اللہ بن مغفل نے وصیت کی کہ میرے انتقال کے وقت ابن زیاد میرے پاس نہ آئے اور یہ کہ میرے ساتھی ہی میرے پاس رہیں، پس لوگوں نے ان کے شاگردوں میں سے عائذ بن عمر وابو برزہ اور دوسرے لوگوں کو بلایا انہوں نے عبد اللہ بن مغفل کو غسل دینے کے لئے اپنی آستین چڑھائی اور قمیصوں کو سمیٹا اور جب غسل دینے سے فارغ ہوئے تو صرف وضو کیا۔
حدیث نمبر: 11473
١١٤٧٣ - حدثنا وكيع عن هشام بن عروة عن أبيه أن ابن عمر كفن ميتًا وحنطه ولم يمس ماء (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ ارشاد فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ایک میت کو کفن پہنایا (غسل دینے کے بعد) اور اسکو خوشبو لگائی۔ پھر (غسل کرنا تو دور کی بات) پانی کو چھوا تک نہیں۔
حدیث نمبر: 11474
١١٤٧٤ - حدثنا وكيع عن ابن عون عن إبراهيم قال: كانوا يقولون إن كان صاحبكم نجسًا فاغتسلوا منه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے مروی ہے کہ صحابہ کرام فرماتے تھے اگر تمہارا صاحب ناپاک ہے تو اسے غسل دے کر غسل کرلو۔
حدیث نمبر: 11475
١١٤٧٥ - حدثنا وكيع عن إسماعيل بن أبي خالد عن الشعبي قال: إن كان صاحبكم نجسًا فاغتسلوا منه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت امام شعبی فرماتے ہیں کہ اگر مردہ ناپاک ہو تو تم اسے غسل دے کر غسل کرو۔