کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: زکوٰۃ وصول کرنے والا عامل اگر مقررہ عمر سے چھوٹا یا بڑا جانور وصول کرے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 11049
١١٠٤٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم قال: إذا أخذ المصدق سنًا فوق من رد عليهم شاتين أو عشرين درهمًا وإذا أخذ سنًا دون من (ردوا) (١) عليه شاتين أو عشرين درهمًا.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر زکوٰۃ وصول کرنے والا مقررہ جانور سے بڑا کوئی جانور لے لے تو وہ دو بکریاں یا بیس درہم واپس کرے گا۔ اور اگر وہ مقررہ جانور سے کم عمر کا جانور وصول کرے تو زکوٰۃ دینے والے دو بکریاں یا بیس درہم مزید ادا کریں گے۔
حدیث نمبر: 11050
١١٠٥٠ - حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: أخبرني خلاد عن عمرو بن شعيب أنه قال (له) (١): فإن لم (تجد) (٢) السنن الذي (دونها) (٣) أخذت (السن) (٤) الذي فوقها، (ورددت) (٥) (٦) إلى صاحب الماشية شاتين أو عشرين درهمًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن شعیب فرماتے ہیں کہ اگر مقررہ جانور سے کم عمر کا جانور نہ ملے تو زیادہ عمر والا جانور وصول کرے اور جانوروں کے مالک کو دو بکریاں یا بیس درہم واپس کر دے۔
حدیث نمبر: 11051
١١٠٥١ - حدثنا محمد بن (١) بكر عن ابن جريج عن عبد اللَّه بن عبد الرحمن الأنصاري أن عمر كتب إلى بعض مسألة أن لا (يأخذوا) (٢) من رجل لم (يجدوا) (٣) ⦗٤٠٤⦘ في إبله السنن التي (عليه) (٤) إلا تلك السنن، (خذوا) (٥) (شروى) (٦) إبله أو قيمة عدل (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عبد الرحمن انصاری فرماتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز نے اپنے گورنروں کو یہ خط لکھا کہ اگر کسی کے پاس زکوٰۃ کی ادائیگی میں جو جانور فرض ہے اس کے پاس صرف اس طرح کا ایک ہی جانور ہے تو اس کو وصول نہ کیا جائے بلکہ اس کی مثل یا اس کی قیمت وصول کرلی جائے۔
حدیث نمبر: 11052
١١٠٥٢ - حدثنا غندر عن شعبة عن حماد في رجل وجبت عليه فريضة في إبله (لم) (١) (تكن) (٢) عنده (قال) (٣): فقال: يترادان (الفضل فيما بينهما) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد فرماتے ہیں اس شخص کے بارے میں کہ جس کے مال پر زکوٰۃ جو واجب ہوئی ہے وہ اس کے پاس نہیں ہے تو دونوں آپس میں زیادتی کو لوٹا لیں گے۔ (یعنی جو زائد لے گا وہ اس کے بدلہ میں کچھ واپس لوٹائے گا) ۔
حدیث نمبر: 11053
١١٠٥٣ - حدثنا الفضل بن دكين قال: ثنا سفيان عن أبي إسحاق عن عاصم بن ضمرة (عن علي) (١) قال: إن أخذ سنًا دون من رد شاتين أو عشرة دراهم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اگر زکوٰۃ وصول کرنے والا مقررہ جانور سے بڑا جانور لے تو دو بکریاں یا بیس درہم واپس کرے گا۔