کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: سال میں صرف ایک بار وصول کریں گے
حدیث نمبر: 11042
١١٠٤٢ - حدثنا (أبو بكر) (١) قال: (حدثنا) (٢) معن بن عيسى عن ابن أبي ذئب (عن الزهري) (٣) قال: لم يبلغنا (أن أحدًا) (٤) من ولاة هذه الأمة الذين كانوا بالمدينة أبو بكر وعمر وعثمان أنهم (٥) يثنون (الصدقة) (٦) لكن يبعثون عليها كل عام في الخصب والجدب؛ لأبي أخذها سنة من رسول اللَّه ﷺ (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت امام زہری فرماتے ہیں کہ اس امت کے امراء جو مدینہ میں تھے حضرت ابو بکر، عمر اور عثمان میں سے کسی کے متعلق ہمیں یہ خبر نہیں پہنچی کہ انہوں نے سال میں دو بار زکوٰۃ وصول کی ہو۔ لیکن وہ ہر سال سرسبز اور خشک کی طرف بھیجا کرتے تھے (لوگوں کو) تا کہ ان سے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت کے مطابق وصول کیا جائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 11042
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11042، ترقيم محمد عوامة 10835)
حدیث نمبر: 11043
١١٠٤٣ - حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: أخبرني سليمان الأحول عن طاوس أنه قال: إذا تداركت الصدقتان فلا (تؤخذ) (١) الأولى كالجزية.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ جب تم دو صدقوں کو پالو تو پہلے کو وصول مت کرو جزیہ کی طرح۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 11043
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11043، ترقيم محمد عوامة 10836)
حدیث نمبر: 11044
١١٠٤٤ - حدثنا سفيان بن عيينة عن الوليد بن كثير عن (حسن) (١) بن حسن من أمه فاطمة أن النبي ﷺ قال: "لا (ثني) (٢) في الصدقة" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت فاطمہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : زکوٰۃ سال میں دو بار ادا کرنا نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 11044
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ أم الحسن بن الحسن ليست صحابية.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11044، ترقيم محمد عوامة 10837)