کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: بنو ہاشم کو صدقہ (زکوٰۃ) دینا جائز نیںی ہے
حدیث نمبر: 11011
١١٠١١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن شعبة عن محمد بن زياد عن أبي هريرة (عن) (١) النبي ﷺ أنه أتي بتمر من تمر الصدقة، فتناول الحسن بن علي تمرة فلاكها في فيه فقال له رسول اللَّه ﷺ: "كخ كخ أنا لا تحل لنا الصدقة" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس صدقات (زکوٰۃ) کی کھجوریں آئیں تو حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے اس میں سے ایک کھجور کھالی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو (پیار سے) ڈانٹا اور فرمایا ہمارے لئے صدقہ حلال نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 11011
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (١٤٩١)، ومسلم (١٠٦٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11011، ترقيم محمد عوامة 10806)
حدیث نمبر: 11012
١١٠١٢ - [حدثنا وكيع وأبو أسامة عن ثابت بن (١) عمارة عن شيح يقال له ربيعة بن شيبان قال: قلت للحسن بن علي ﵄: ما (تذكر من) (٢) رسول اللَّه ﷺ وما تعقل عنه؟ قال: أخذت تمرة من تمر الصدقة، فلكتها، فقال النبي ﷺ: "إنا لا تحل لنا الصدقة] (٣) " (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیعہ بن شہبان فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کس بات پر آپ کو نصیحت (تنبیہ) فرمائی تھی اور کس بات سے آپ کو روکا تھا ؟ حضرت حسن نے فرمایا میں نے صدقہ کی کھجوروں میں سے ایک کھجور لے کر منہ میں ڈال لی تھی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہمارے لئے صدقہ (کھانا) حلال نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 11012
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه أحمد (١٧٢٤)، وابن خزيمة (٢٣٤٧)، وابن حبان (٧٢٢)، وأبو يعلى (٦٧٦٢)، وعبد الرزاق (٤٩٨٤)، والطبراني (٢٧١١)، والطيالسي (١١٧٧)، والدارمي (١٥٩١)، والطحاوي (٢/ ٦)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٤١٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11012، ترقيم محمد عوامة 10807)
حدیث نمبر: 11013
١١٠١٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن طلحة عن أنس أن النبي ﷺ وجد تمرة فقال: "لولا أن تكون من الصدقة (لأكلتها) (١) " (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے مروی ہے کہ حضور کرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک کھجور ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگر یہ صدقہ کی نہ ہوتی تو میں اس میں سے ضرور تناول کرتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 11013
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (٢٠٥٥)، ومسلم (١٠٧١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11013، ترقيم محمد عوامة 10808)
حدیث نمبر: 11014
١١٠١٤ - حدثنا عبدة (عن سعيد عن قتادة) (١) عن عكرمة قال: لا تحل الصدقة لبني هاشم ولا لمواليهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ بنو ہاشم اور غلاموں کیلئے صدقہ حلال نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 11014
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11014، ترقيم محمد عوامة 10809)
حدیث نمبر: 11015
١١٠١٥ - حدثنا غندر عن شعبة عن الحكم عن ابن أبي رافع (عن أبي رافع) (١) أن رسول اللَّه ﷺ بعث رجلًا من بني مخزوم على الصدقة فقال لأبي رافع: (تصحبني) (٢) (كيما) (٣) (تصيب) (٤) منها؟ فقال: لا، حتى آتي رسول اللَّه ﷺ، فانطلق إلى رسول اللَّه ﷺ، (فسأله) (٥)، فقال (له) (٦): "إن الصدقة لا تحل لنا، ومولى القوم من أنفسهم" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو رافع فرماتے ہیں کہ ایک شخص کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو مخزوم کی طرف صدقات وصول کرنے کے لئے بھیجا۔ اس شخص نے حضرت ابو رافع سے کہا کہ آپ بھی میرے ساتھ چلو تا کہ آپ کو بھی اس میں سے کچھ حصہ مل جائے۔ آپ نے فرمایا نہیں۔ پھر آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہمارے لئے صدقہ حلال نہیں ہے اور قوم کے موالی بھی انہی میں سے ہیں ۔ (ان کا بھی وہی حکم ہے) ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 11015
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه أحمد (٢٣٨٧٢)، والترمذي (٦٥٧)، والنسائي ٥/ ١٠٧، وابن خزيمة (٢٣٤٤)، وأبو داود (١٦٥٠)، والحاكم ١/ ٤٠٤، وابن حبان (٣٢٩٣)، والطيالسي (٩٧٢)، وابن زنجويه في الأموال (٢١٢٣)، والطحاوي ٢/ ٨، والطبراني (٩٣٢)، وأبو يعلى (٢٧٢٨)، والبيهقي ٧/ ٣٢، والبغوي (١٦٠٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11015، ترقيم محمد عوامة 10810)
حدیث نمبر: 11016
١١٠١٦ - حدثنا وكيع عن محمد بن شريك عن ابن أبي مليكة أن خالد بن (سعيد) (١) بعث إلى عائشة ببقرة من الصدقة (فردتها) (٢) وقالت: إنا آل محمد ﷺ لا تحل لنا الصدقة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابو ملیکہ سے مروی ہے کہ حضرت خالد بن سعید نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں صدقہ (زکوٰۃ) کی گائے بھیجی تو آپ نے یہ کہتے ہوئے وہ واپس بھیج دی کہ ہم محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آل ہیں ہمارے لئے صدقہ حلال نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 11016
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11016، ترقيم محمد عوامة 10811)
حدیث نمبر: 11017
١١٠١٧ - حدثنا (عبيد اللَّه) (١) بن موسى عن إسرائيل عن أبي إسحاق عن أبي (قرة) (٢) الكندي (عن سلمان) (٣) قال: احتطبت حطبًا (فبعته) (٤) فأتيت (به) (٥) النبي ﷺ، فوضعته بين يديه، فقال: "ما هذا؟ ". (فقلت) (٦): صدقة، فقال (النبي ﷺ) (٧) (لأصحابه) (٨): "كلوا"، (ولم) (٩) (يأكل) (١٠) (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمان فرماتے ہیں کہ میں نے کچھ لکڑیاں جمع کیں اور ان کو فروخت کر کے (ان کا منافع) لے کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا یہ کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا صدقہ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا کھاؤ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود اس میں سے تناول نہیں فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 11017
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو قرة صدوق، أخرجه أحمد (٢٣٧١٢)، وابن حبان (٧١٢٤)، والحاكم ٤/ ١٠٨، وابن سعد ٤/ ٨١، وابن هشام (١/ ٢٢٨)، ووكيع في أخبار القضاة ٢/ ١٨٧، والطحاوي ٢/ ٨، والبزار (٢٤٩٩)، والطبراني (٦١٥٥)، والبيهقي ٦/ ٥٩٨، والذهبي في سير أعلام النبلاء ١/ ٥١٣.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11017، ترقيم محمد عوامة 10812)
حدیث نمبر: 11018
١١٠١٨ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عطاء بن السائب قال: أتيت أم كلثوم ابنة علي بشيء من الصدقة، فردتها وقالت: حدثني مولى للنبي ﷺ يقال له مهران أن رسول اللَّه ﷺ قال: "إنا آل محمد لا تحل لنا الصدقة ومولى القوم منهم" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء بن السائب فرماتے ہیں کہ میں حضرت ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں صدقہ کی چیز لے کر حاضر ہوا، آپ نے اس کو واپس کردیا اور فرمایا کہ مجھ سے حضرت مہران نے بیان کیا ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلام تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہم آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے صدقہ حلال نہیں ہے اور قوم کے غلام بھی انہی میں سے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 11018
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11018، ترقيم محمد عوامة 10813)
حدیث نمبر: 11019
١١٠١٩ - حدثنا الحسن بن موسى عن زهير عن عبد اللَّه بن عيسى عن أبيه عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن أبيه، قال: كنت مع النبي ﷺ في بيت الصدقة قال: فجاء (الحسن) (١) بن علي فأخذ تمرة، فأخذها منه، فاستخرجها وقال: "إنا لا تحل لنا الصدقة" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ اپنے والد سے روایت فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ صدقہ کے گھر (جہاں پر صدقہ کا مال موجود تھا) میں تھا، حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور ایک کھجور اٹھا لی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ ان سے واپس لے لی اور فرمایا : ہمارے لئے صدقہ جائز نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 11019
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه أحمد (١٩٠٥٩)، والطحاوي ٢/ ١٠، والطبراني (٦٤١٨)، والدارمي (١٦٤٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11019، ترقيم محمد عوامة 10814)
حدیث نمبر: 11020
١١٠٢٠ - حدثنا ابن فضيل عن أبي حيان (عن يزيد بن حيان) (١) قال: انطلقت أنا و (حصين) (٢) بن عقبة إلى زيد بن أرقم، فقال له يزيد -وحصين من أهل بيته-: (أليس نساؤه من أهل بيته؟ قال: لا) (٣)، ولكن أهل بيته من محرم (٤) الصدقة (بعده) (٥)، فقال له حصين: ومن هم (يا زيد) (٦) قال: هم ⦗٣٩٤⦘ آل عباس (وآل علي) (٧) وآل جعفر وآل عقيل. فقال له حصين: على هؤلاء تحرم الصَّدقة؟ قال: نعم (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید بن حیان فرماتے ہیں کہ میں اور حضرت حصین بن عقبہ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہم دونوں نے ان سے عرض کیا اہل بیت میں سے کون (لوگ) ہیں ؟ کیا ان کی عورتیں بھی اہل بیت میں شامل ہیں۔ آپ نے فرمایا ان کی عورتیں بھی اہل بیت میں سے ہیں۔ لیکن اہل بیت وہ ہیں جن پر بعد میں صدقہ حرام کردیا گیا۔ حضرت حصین نے عرض کیا وہ کون ہیں ؟ آپ نے فرمایا : آل عباس، آل علی، آل جعفر، آل عقیل ان میں سے ہیں۔ حضرت حصین نے پھر عرض کیا ان پر صدقہ حرام ہے ؟ آپ نے فرمایا : جی ہاں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 11020
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٤٠٨) وأحمد (١٩٢٦٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11020، ترقيم محمد عوامة 10815)
حدیث نمبر: 11021
١١٠٢١ - حدثنا كثير بن هشام عن جعفر بن برقان قال: حدثنا ثابت بن الحجاج قال: بلغني أن (رجلين) (١) من بني عبد المطلب أتيا النبي ﷺ يسألانه من الصدقة، فقال: "لا، ولكن إذا رأيتما عندي شيئًا من الخمس فأتياني" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثابت بن الحجاج سے مروی ہے کہ بنو عبد المطلب کے دو شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور آپ سے صدقہ کا سوال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو انکار فرما دیا اور فرمایا کہ جب تمہیں معلوم ہو کہ میرے پاس خمس کا مال آیا ہے تو تم میرے پاس آنا (میں تمہیں اس میں سے حصہ دوں گا) ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 11021
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ ثابت ليس صاحبيًا.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11021، ترقيم محمد عوامة 10816)
حدیث نمبر: 11022
١١٠٢٢ - حدثنا وكيع عن شريك عن (خصيف) (١) عن مجاهد قال: كان آل محمد ﷺ لا تحل لهم الصدقة، فجعل لهم خمس الخمس (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیلئے صدقہ حلال نہیں ہے۔ ان کیلئے خمس کا خمس ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 11022
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11022، ترقيم محمد عوامة 10817)
حدیث نمبر: 11023
١١٠٢٣ - حدثنا الفضل بن دكين قال: حدثنا (معرف) (١) بن واصل قال: حدثتني حفصة بنت طلق قالت: حدثني جدِّي رشيد بن مالك (عن) (٢) النبي ﷺ (قال) (٣): "إنَّا لا تحل لنا الصدقة" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت رشید بن مالک سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہمارے لئے صدقہ حلال نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 11023
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11023، ترقيم محمد عوامة 10818)