حدیث نمبر: 10830
١٠٨٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: جاءت امرأة عبد اللَّه (إلى) (٢) رسول اللَّه ﷺ (فقالت) (٣): إن (لي) (٤) في حجري (بني) (٥) (أخ) (٦) لي (كلالة) (٧) (فيجزيني) (٨) أن أجعل زكاة (حليي) (٩) فيهم؟ قال: "نعم" (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے مروی ہے کہ حضرت عبد اللہ کی اہلیہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئیں اور عرض کی کہ میری پرورش میں میرا ایک بھتیجا ہے کیا میں اپنے زیورات کی زکوٰۃ اس کو دے سکتی ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں۔
حدیث نمبر: 10831
١٠٨٣١ - حدثنا حفص عن ابن (جريج) (١) عن عطاء عن ابن عباس قال: لا (بأس) (٢) أن تجعل زكاتك في ذوي قرابتك ما لم يكونوا (في) (٣) عيالك (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ وہ قرابت دار جو تمہارے عیال نہیں ہیں ان کو زکوٰۃ دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 10832
١٠٨٣٢ - حدثنا ابن علية عن عبد الخالق الشيباني عن سعيد بن المسيب قال: إن أحق من دفعت إليه زكاتي يتيمي (وذو) (١) (قرابتي) (٢).
حدیث نمبر: 10833
١٠٨٣٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عن حماد عن إبراهيم عن علقمة عن عبد اللَّه أن (امرأته) (١) سألته عن بني أخ لها (أيتام) (٢) في حجرها (تعطيهم) (٣) من الزكاة؟ قال: نعم (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہ کی بیوی نے حضرت عبد اللہ سے دریافت فرمایا کہ میرے بھائی کا یتیم لڑکا میری پرورش میں ہے، کیا میں اس کو زکوٰۃ دے سکتی ہوں ؟ آپ نے فرمایا : جی ہاں۔
حدیث نمبر: 10834
١٠٨٣٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن إبراهيم (بن) (١) أبي (حفصة) قال: سألت سعيد بن جبير عن الخالة تعطى من الزكاة، فقال (سعيد) (٢): ما لم يغلق (عليكم) (٣) بابًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابراہیم بن ابو حفصہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر سے خالہ کے متعلق دریافت کیا کہ کیا ان کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے ؟ حضرت سعید نے فرمایا : جب تک تم پر دروازہ بند نہ کردیا جائے۔
حدیث نمبر: 10835
١٠٨٣٥ - حدثنا (هشيم) (١) عن مغيرة عن إبراهيم.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم ، حضرت ہشام اور حسن یہ سب حضرات قرابت داروں کو زکوٰۃ دینے کی اجازت دیتے ہیں۔
حدیث نمبر: 10836
١٠٨٣٦ - وعن هشام أو غيره عن الحسن أنهما رخصًا في (ذوي) (١) القرابة.
حدیث نمبر: 10837
١٠٨٣٧ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن عبد الملك قال: قلت لعطاء (أيجزئ) (١) الرجل أن يضع زكاته في أقاربه، قال: نعم إذا لم يكونوا في عياله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الملک فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے دریافت کیا : کیا آدمی اپنے قرابت داروں کو زکوٰۃ ادا کرسکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں جب کہ وہ تمہارے اہل خانہ میں سے نہ ہوں۔
حدیث نمبر: 10838
١٠٨٣٨ - حدثنا وكيع عن سلمة بن (نبيط) (١) عن الضحاك قال: إذا كان لك أقارب فقراء (فهم) (٢) أحق بزكاتك من غيرهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک فرماتے ہیں کہ اگر تمہارے قرابت دار فقیر ہوں تو وہ دوسروں کی نسبت تمہاری زکوٰۃ کے زیادہ حق دار ہیں۔
حدیث نمبر: 10839
١٠٨٣٩ - حدثنا وكيع عن سفيان عن (زبيد) (١) قال: (سألت) (٢) إبراهيم عن الأخت تعطى من الزكاة، قال: نعم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زبیر فرماتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے بہن کو زکوٰۃ دینے کے متعلق دریافت کیا کہ کیا ان کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں۔
حدیث نمبر: 10840
١٠٨٤٠ - حدثنا أبو أسامة عن هشام عن الحسن في الرجل يعطي زكاته ذوي قرابته، قال: نعم ما لم يكونوا في عياله.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے دریافت کیا گیا کہ : کیا آدمی اپنے قرابت داروں کو زکوٰۃ ادا کرسکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں جب کہ وہ تمہارے اہل خانہ میں سے نہ ہوں۔
حدیث نمبر: 10841
١٠٨٤١ - حدثنا ابن نمير عن حنظلة عن طاوس قال: سأله رجل فقال: (إن) (١) عندي ناسًا من أهلي فقراء، فقال: أخرجها منك ومن أهلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حنظلہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے حضرت طاؤس سے دریافت کیا کہ میرے اہل میں سے کچھ فقراء میرے پاس رہتے ہیں (ان کو زکوٰۃ دے سکتا ہوں ؟ ) آپ نے فرمایا اپنے اور اپنے اہل کی طرف سے ان کو ادا کرو۔
حدیث نمبر: 10842
١٠٨٤٢ - حدثنا وكيع عن ابن (عون) (١) عن (ابنة) (٢) سيرين عن أم (الرائح) (٣) بنت (صليع) (٤) عن عمها سلمان بن عامر الضبي قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "الصدقة [على غير (ذي) (٥) الرحم (صدقة وعلى ذي الرحم) (٦) (اثنتان) (٧) ⦗٣٤٠⦘ (صدقة) (٨)] (٩) وصلة" (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : غیر ذی رحم کو صدقہ (زکوٰۃ) دینا صرف صدقہ ہے (صرف صدقہ کرنے کا ثواب ہے) اور ذی رحم کو دینے میں دو ثواب ہیں۔ صدقہ کا اور صلہ رحمی کا۔
حدیث نمبر: 10843
١٠٨٤٣ - (قال) (١) أبو بكر: وسمعت وكيعًا يذكر عن سفيان (أنه) (٢) قال: لا (يعطيها) (٣) من (يجبر على) (٤) نفقته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ جن کا نفقہ تم پر لازم ہے ان کو نہیں دیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 10844
١٠٨٤٤ - حدثنا جرير عن ثعلبة عن ليث عن مجاهد قال: لا (تقبل) (١) (ورحمه) (٢) محتاجة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں تمہارا صدقہ (زکوٰۃ) قبول نہیں ہوگا (جبکہ تم غیروں کو ادا کرو) اور تمہارے ذی رحم محتاج ہوں۔