کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: آدمی کوئی چیز صدقہ کرے اور پھر اسکو بعد میں دیکھے (اور خریدنے کا ارادہ رکھتا ہو)
حدیث نمبر: 10802
١٠٨٠٢ - حدثنا ابن عيينة عن زيد بن أسلم عن أبيه قال: حمل عمر على فرس في سبيل اللَّه فرآه (أو شيئًا من ثيابه تباع في السوق) (١)، فأراد أن يشتريه، (فسأل) (٢) النبي ﷺ (٣) فقال: " (لا) (٤)، (اتركه) (٥) (حتى توافيك) (٦) يوم القيامة" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن اسلم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر نے گھوڑے کو اللہ کے راستے میں صدقہ کیا اور مجاہد کو سوار فرمایا یا کچھ کپڑے اللہ کی راہ میں صدقہ کیئے۔ بعد میں بازار میں ان کو دیکھا اور خود ہی دوبارہ خریدنے کا ارادہ فرمایا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جا کر اس کے متعلق دریافت فرمایا : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اسکو چھوڑ دو تا کہ قیامت کے دن اس کا (پورا) بدلہ تجھے عطاء کیا جائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10802
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10802، ترقيم محمد عوامة 10604)
حدیث نمبر: 10803
١٠٨٠٣ - حدثنا يزيد بن هارون عن سليمان التيمي عن (أبي) (١) عثمان عن عبد اللَّه بن عامر عن الزبير بن العوام أن رجلًا حمل على فرس في سبيل اللَّه فرأى ⦗٣٣٠⦘ فرسًا أو مهرة (تباع) (٢) (ينسب) (٣) إلى فرسه، فنهي (عنها) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عامر فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے اللہ کی راہ میں گھوڑا صدقہ کیا۔ اور پھر اس گھوڑے کو یا اس کے مہرے کو بازار میں فروخت ہوتے دیکھ کر خریدنے کا ارادہ کیا۔ تو حضرت زبیر بن عوام نے اس سے منع فرمادیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10803
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه ابن ماجه (٢٣٩٣) وأحمد (١٤١٠) والضياء (٨٧١) والطبراني (١٢٧٧٤) والشاشي (٥٠) وابن أبي حاتم في الجرح ٥/ ١٢٢ والطحاوي في شرح المشكل (٥٧٠٢) وابن حزم ٦/ ١٠٦.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10803، ترقيم محمد عوامة 10605)
حدیث نمبر: 10804
١٠٨٠٤ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن الأعمش عن إبراهيم وعن داود عن أبي العالية (أن) (١) (أسامة) (٢) حمل على (مهر له) (٣) في سبيل اللَّه فرآه بعد ذلك (وهو) (٤) (يباع) (٥) قال: فقلت للنبي ﷺ قد (عرفت عرفه) (٦) فنهاني عنه (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو العالیہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو اسامہ نے اللہ کی راہ میں گھوڑا (بچھڑا) صدقہ فرمایا، پھر بعد میں اسی جانور کو دیکھا کہ وہ (بازار میں) بیچا جا رہا ہے، فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ میں نے اس کو پہچان لیا ہے (کیا اسکو خرید لوں ؟ ) آپ نے مجھے اس سے منع فرما دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10804
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ أبو العالية ليس صحابيًا.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10804، ترقيم محمد عوامة 10606)
حدیث نمبر: 10805
١٠٨٠٥ - حدثنا وكيع عن يزيد عن الحسن قال: قال عمر: إذا تحولت الصدقة (إلى غير الذي) تصدق عليه، فلا بأس أن يشتريها (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر فاروق ارشاد فرماتے ہیں کہ جسکو آپ نے زکوٰۃ (صدقہ) دیا ہے اس سے نکل کر کسی اور کے پاس پہنچ جائے تو پھر اس کو خریدنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10805
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10805، ترقيم محمد عوامة 10607)
حدیث نمبر: 10806
١٠٨٠٦ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا (عبيد اللَّه) (١) عن نافع عن ابن عمر أن عمر حمل على فرس في سبيل اللَّه، فرآها في السوق تباع، فسأل النبي ﷺ ⦗٣٣١⦘ (أن) (٢) يشتريها، (فقال) (٣): "-لا- دعها حتى توافيك يوم القيامة" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضرت عمر نے گھوڑا اللہ کے راستے میں صدقہ کیا اور مجاہد کو سوار فرمایا بعد میں بازار میں ان کو دیکھا اور خود ہی دوبارہ خریدنے کا ارادہ فرمایا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جا کر اس کے متعلق دریافت فرمایا : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس کو چھوڑ دو تا کہ قیامت کے دن اس کا (پورا) بدلہ تجھے عطاء کیا جائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10806
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (٢٦٢٣) ومسلم (١٦٢١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10806، ترقيم محمد عوامة 10608)
حدیث نمبر: 10807
١٠٨٠٧ - حدثنا وكيع قال: (حدثنا) (١) سفيان عن منصور عن الشعبي عن زيد بن حارثة عن النبي ﷺ نحوًا من حديث (٢) أسامة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن حاثہ سے بھی حضرت ابو اسامہ کی حدیث کے مثل منقول ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10807
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10807، ترقيم محمد عوامة 10609)
حدیث نمبر: 10808
١٠٨٠٨ - حدثنا عبد الرحيم عن أشعث عن ابن سيرين عن عمران بن حصين أنه سئل عن الرجل يصيب من (صدقته) (١) قال: ينقص من أجره بقدر ما أصاب منها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمران بن حصین سے ایک شخص نے دریافت فرمایا کہ صدقہ (زکوٰۃ) ادا کرنے کے بعد آدمی کو کچھ حصہ واپس مل جائے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ جتنی مقدار اس کو پہنچا ہے اس کے بقدر اجر کم کردیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10808
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف أشعث.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10808، ترقيم محمد عوامة 10610)