کتب حدیث › مصنف ابن ابي شيبه › ابواب › باب: دو آدمیوں کا مال مشترک ہو تو اس پر زکوٰۃ کا بیان
❮
❯
١٠٧٩٤ - حدثنا (أبو بكر قال: حدثنا) (١) محمد بن بكر عن ابن جريج قال: أخبرني عمرو بن دينار عن طاوس قال: (إذا) (٢) كان الخليطان يعملان (في) (٣) أموالهما فلا (تجمع) (٤) أموالهما في الصدقة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ جب دو شخصوں کا مال آپس میں ملا ہو تو زکوٰۃ میں ان کو جمع نہیں کیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10794
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10794، ترقيم محمد عوامة 10596)
١٠٧٩٥ - حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: أخبرت عطاء (١) قول طاوس فقال: ما أراه إلا حقًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے عطاء کو طاؤس کے قول کی خبر دی تو انہوں نے فرمایا کہ میں بھی اسی کو صحیح سمجھتا ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10795
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10795، ترقيم محمد عوامة 10597)
١٠٧٩٦ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري أنه كان يقول: إذا كان (لرجل) (١) (عشرون) (٢) شاة [ولرجل (آخر) (٣) (عشرون) (٤) شاة] (٥)، وراعيهما واحد (ويسرحان) (٦) معًا، ويردان معًا قال: (فيها) (٧) الزكاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت امام زہری فرماتے ہیں کہ جب ایک شخص کے پاس بیس بکریاں ہوں اور دوسرے شخص کے پاس بھی بیس بکریاں ہوں اور دونوں شخصوں کا چرواہا بھی ایک ہو جو ان کو ساتھ لے کرجاتا ہو اور ایک ساتھ ہی واپس لے کر آتا ہو تو ان پر زکوٰۃ ہے۔ (دونوں کے مجموعے پر زکوٰۃ ہے) ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10796
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10796، ترقيم محمد عوامة 10598)