کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: کوئی شخص اپنے مال کی زکوٰۃ نکالے اور وہ ضائع (ہلاک) ہو جائے تو اس کا کیا حکم ہے
١٠٧٨٧ - حدثنا حفص عن هشام عن الحسن قال يخرج مكانها.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اس کی جگہ دوبارہ زکوٰۃ ادا کرے گا۔
١٠٧٨٨ - حدثنا جرير عن مغيرة من أصحابه قالوا: إذا أخرج زكاة ماله فضاعت، (فليزك) (١) مرة (٢) أخرى.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ اپنے اصحاب سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ جب مال کی زکوٰۃ نکالی جائے اور وہ ضائع ہوجائے تو اس کی جگہ دوبارہ زکوٰۃ نکالنا پڑے گی۔
١٠٧٨٩ - حدثنا معتمر عن معمر عن حماد في الرجل يبعث بصدقته (فتهلك) (١) قبل أن (تصل) (٢) إلى أهلها قال: هي بمنزلة (رجل) (٣) بعث إلى (غريمه) (٤) بدين (فلم) (٥) يصل إليه (المال) (٦) حتى هلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد فرماتے ہیں کہ آدمی اپنی زکوٰۃ نکال کر مصرف پر خرچ کرنے سے پہلے ہی وہ ہلاک ہوجائے تو یہ اسی طرح ہے کہ جس طرح آدمی پیسے اپنے قرض خواہ کی طرف بھیجے لیکن وہ اس تک پہنچنے سے پہلے ہی ہلاک ہوجائیں۔
١٠٧٩٠ - حدثنا زيد بن (حباب) (١) عن شعبة عن الحكم قال: (لا) (٢) (تجزئ) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ یہ کافی نہیں ہے (دوبارہ ادا کرنا پڑے گی) ۔
١٠٧٩١ - حدثنا زيد بن (حباب) (١) عن (حسان) (٢) بن إبراهيم (عن ⦗٣٢٦⦘ إبراهيم) (٣) الصائغ عن عطاء في الرجل (إذا أخرج) (٤) زكاة ماله فضاعت أنها تجزئ عنه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ آدمی مال پر زکوٰۃ نکالے لیکن وہ ہلاک ہوجائے تو وہ اس کی طرف سے کافی ہے۔ (دوبارہ ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہے)
١٠٧٩٢ - حدثنا عبد الوهاب (بن) (١) عطاء عن ابن أبي عروبة عن حماد عن إبراهيم في رجل أخرج زكاة ماله فضاعت قال: لا تجزئ عنه حتى يضعها مواضعها.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے دریافت فرمایا گیا کہ آدمی مال کی زکوٰۃ نکالے لیکن وہ ہلاک ہوجائے، آپ نے فرمایا یہ کافی نہیں ہے بلکہ اس کی جگہ دوبارہ زکوٰۃ ادا کرنا پڑے گی۔
١٠٧٩٣ - حدثنا أبو بكر البكراوي عن يونس عن الحسن قال: يخرج مكانها.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اس کی جگہ دوبارہ زکوٰۃ ادا کی جائے گی۔