کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: آدمی کے پاس سامان ہو جس پر سال گذر جائے اس پر زکوٰۃ کا بیان
حدیث نمبر: 10751
١٠٧٥١ - حدثنا ابن نمير عن يحيى بن (سعيد) (١) عن عبد اللَّه بن أبي سلمة أن أبا عمرو بن (حماس) (٢) أخبره أن (أباه حماسًا) (٣) كان يبيع الأدم والجعاب [وأن ⦗٣١٧⦘ عمر قال له: (يا حماس) (٤) أدّ زكاة مالك، فقال: واللَّه مالي مال إنما أبيع الأدم والجعاب] (٥) فقال: قوّمه وأدّ زكاته (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عمرو بن حماس فرماتے ہیں کہ میرے والد حضرت حماس سالن اور تیروں کے تھیلوں کی بیع کرتے تھے۔ ایک مرتبہ حضرت عمر نے ان سے فرمایا : اے حماس اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرو۔ انہوں نے عرض کیا خدا کی قسم میرے پاس تو کوئی مال نہیں ہے۔ میں تو سالن اور تیروں کا ترکش بیچتا ہوں۔ آپ نے فرمایا ان کی قیمت لگاؤ اور اس پر زکوٰۃ ادا کرو۔
حدیث نمبر: 10752
١٠٧٥٢ - حدثنا يزيد بن هارون وعبدة عن يحيى بن سعيد عن عبد اللَّه بن أبي سلمة عن أبي عمرو بن (حماس) (١) أن أباه (حماسًا) (٢) كان يبيع الأدم والجعاب وأن عمر قال له: [ثم ذكر نحوه (أو) (٣) مثله] (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن حماس سے مروی ہے کہ میرے والد حضرت حماس سالن اور ترکش بیچا کرتے تھے۔ باقی حدیث اسی طرح منقول ہے۔
حدیث نمبر: 10753
١٠٧٥٣ - حدثنا عبد الأعلى عن يونس عن الحسن في رجل اشترى (متاعًا فحلت) (١) فيه الزكاة فقال: (يزكيه) (٢) (بقيمته) (٣) يوم حلت.
مولانا محمد اویس سرور
یونس فرماتے ہیں کہ حسن سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص نے سامان خریدا کیا اس پر زکوٰۃ ہے ؟ آپ نے فرمایا اسکی قیمت کا حساب لگا کر اس دن سے زکوٰۃ ادا کی جائے گی جس دن اس پر زکوٰۃ آئی تھی۔
حدیث نمبر: 10754
١٠٧٥٤ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا عبيد اللَّه عن نافع عن ابن عمر قال: ليس في العروض زكاة إلا (١) عرض في تجارة فإن فيه زكاة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سامان پر زکوٰۃ تب تک نہیں ہے جب تک کہ وہ سامان تجارت کے لیے نہ ہو۔
حدیث نمبر: 10755
١٠٧٥٥ - حدثنا عبد الرحمن بن مهدي عن أبي هلال عن ابن سيرين قال في المتاع: يُقوَّم ثم (تؤدَّى) (١) زكاته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین ارشاد فرماتے ہیں کہ سامان کی قیمت لگائی جائے گی پھر اس پر زکوٰۃ ادا کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 10756
١٠٧٥٦ - حدثنا محمد بن عبيد عن عبد الملك عن عطاء في (الرجل) (١) يشتري المتاع، فيمكث (السنين) (٢) يزكيه قال: لا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الملک فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص نے سامان خریدا پھر وہ سامان دو سال تک اس کے پاس رہا کیا اس پر زکوٰۃ ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں۔
حدیث نمبر: 10757
١٠٧٥٧ - حدثنا حفص عن حجاج عن طلحة عن إبراهيم قال: كل شيء أريد به التجارة ففيه الزكاة وإن كان لبنًا أو طينًا.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ ہر وہ چیز جو تجارت کیلئے ہو اس پر زکوٰۃ ہے خواہ وہ دودھ ہو یا مٹی ہو۔ اور حضرت حکم سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
حدیث نمبر: 10758
١٠٧٥٨ - قال: وكان الحكم يرى ذلك.