کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جس کے پاس اپنا گھر اور خادم موجود ہوں اسکو زکوٰۃ دینے کا بیان
حدیث نمبر: 10708
١٠٧٠٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن أشعث عن جعفر عن سعيد بن جبير قال: يعطى من الزكاة من له (الدار) (١) والخادم والفرس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ جس کے پاس گھر، اور خادم اور گھوڑا (سواری) ہو اس کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10708
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10708، ترقيم محمد عوامة 10516)
حدیث نمبر: 10709
١٠٧٠٩ - حدثنا شريك عن الأعمش عن إبراهيم قال: كانوا لا (يمنعون) (١) الزكاة من له البيت والخادم.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام جس کے پاس گھر اور خادم ہوں اس کو زکوٰۃ دینے سے منع نہیں فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10709
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10709، ترقيم محمد عوامة 10517)
حدیث نمبر: 10710
١٠٧١٠ - حدثنا ابن مهدي عن حماد بن سلمة عن يونس عن الحسن قال: كان لا يرى بأسًا أن يعطى منها من له الخادم (والمسكن) (١) إذا كان محتاجًا.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ جس کے پاس اپنا گھر اور خادم ہوں اس کو زکوٰۃ دینے میں کوئی حرج نہیں ہے اگر وہ محتاج ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10710
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10710، ترقيم محمد عوامة 10518)
حدیث نمبر: 10711
١٠٧١١ - حدثنا معتمر [بن سليمان] (١) عن شبيب (بن) (٢) (عبد) (٣) الملك قال: سألت مقاتل بن (حيان) (٤) عن رجل في الديوان له عطاء وفرس وهو محتاج أعطيه من الزكاة؟ قال: نعم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شبیب بن عبد الملک فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت مقاتل بن حیان سے دریافت فرمایا کہ اہل دیوان میں سے ایک شخص کے پاس اگر کچھ مال اور سواری ہو تو اس کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” جی ہاں “۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10711
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10711، ترقيم محمد عوامة 10519)