حدیث نمبر: 10660
١٠٦٦٠ - حدثنا أبو أسامة عن (ابن عوف) (١) قال: سمعت كتاب عمر بن عبد العزيز يقرأ (إلى) (٢) (عدي) (٣) (بالبصرة) (٤): يؤخذ من أهل الديوان من (أعطياتهم) (٥) (عن) (٦) كل إنسان نصف درهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عوف فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز نے بصرہ میں حضرت عدی کی جانب (خط) لکھا تو جب وہ پڑھا گیا تو میں نے سنا اس میں تحریر تھا کہ : اہل دیوان سے ان عطایا، (بخشش، صدقۃ الفطر) سے ہر شخص سے نصف درہم وصول کریں گے۔
حدیث نمبر: 10661
١٠٦٦١ - حدثنا وكيع عن قرة قال: جاءنا كتاب عمر بن عبد العزيز في صدقة الفطر: نصف صاع عن كل إنسان أو قيمته نصف درهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قرہ فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس حضرت عمر بن عبد العزیز کا مکتوب لایا گیا جس میں صدقۃ الفطر سے متعلق تحریر تھا کہ : صدقۃ الفطر ہر شخص سے نصف صاع یا اس کی قیمت نصف درہم وصول کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 10662
١٠٦٦٢ - حدثنا وكيع عن سفيان عن هشام عن الحسن قال: لا بأس أن (تعطى) (١) الدراهم (في) (٢) صدقة الفطر.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ صدقۃ الفطر میں دراہم دے دئیے جائیں اسمیں کوئی حرج والی بات نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 10663
١٠٦٦٣ - حدثنا أبو أسامة عن (زهير) (١) قال: سمعت أبا إسحاق يقول: أدركتهم وهم يعطون في صدقة رمضان الدراهم بقيمة الطعام.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہیر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو اسحاق کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ : ” میں نے اپنے سے پہلے والوں کو پایا (صحابہ کرام ) کہ وہ صدقۃ الفطر میں گندم کی قیمت دراھم دیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 10664
١٠٦٦٤ - حدثنا (أبو بكر عن) (١) (عمر) (٢) عن ابن جريج عن عطاء أنه كره (أن يعطي في صدقة الفطر) (٣) ورقًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء صدقۃ الفطر میں چاندی کے سکے (دراھم) دینے کو ناپسند فرماتے تھے۔