حدیث نمبر: 10625
١٠٦٢٥ - حدثنا أبو (بكر) (١) قال: (حدثنا) (٢) سهل بن يوسف ويزيد بن هارون عن حميد عن الحسن عن ابن عباس قال: فرض رسول اللَّه ﷺ صدقة الفطر على كل حر أو عبد صغير أو كبير، (ذكر) (٣) (أو أنثى) (٤) صاعًا من تمر أو (شعير) (٥) أو نصف صاع من بر (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر آزاد و غلام چھوٹے، بڑے، مرد اور عورت پر صدقۃ الفطر ایک صاع کھجور، یا جو یا نصف صاع گندم مقرر فرمایا۔
حدیث نمبر: 10626
١٠٦٢٦ - [حدثنا عبد الوهاب (الثقفي) (١) عن خالد عن أبي قلابة (٢) [عن عثمان قال: صاع من تمر أو نصف صاع من بر] (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان فرماتے ہیں کہ صدقۃ الفطر ایک صاع کھجور یا نصف صاع گندم ہے۔
حدیث نمبر: 10627
١٠٦٢٧ - حدثنا حفص عن عاصم عن أبي قلابة] (١) قال: أخبرني من أدى (إلى) (٢) أبي بكر (في) (٣) صدقة الفطر نصف صاع من طعام (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قلابہ فرماتے ہیں کہ مجھے اس شخص نے بتایا جس نے حضرت صدیق اکبر کو صدقۃ الفطر ادا کیا تھا کہ وہ نصف صاع کھانا (گندم) ہے۔
حدیث نمبر: 10628
١٠٦٢٨ - حدثنا (١) هشيم عن سفيان بن حسين عن الزهري عن سعيد بن المسيب يرفعه (أنه) (٢) سئل عن صدقة الفطر فقال: عن الصغير والكبير والحر والمملوك نصف صاع (من) (٣) (بر أو) (٤) (صاع) (٥) من تمر أو شعير (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب سے مرفوعا مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صدقۃ الفطر کے متعلق دریافت کیا گیا ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : چھوٹے، بڑے، آزاد اور غلام پر نصف صاع گندم یا ایک صاع کھجور اور جو ہے۔
حدیث نمبر: 10629
١٠٦٢٩ - حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم قال: صدقة الفطر عن الصغير والكبير والحر والعبد عن كل إنسان نصف صاع (من) (١) قمح.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ صدقۃ الفطر ہر چھوٹے، بڑے، آزاد اور غلام اور ہر انسان پر نصف صاع گیہوں ہے۔
حدیث نمبر: 10630
١٠٦٣٠ - حدثنا جرير عن منصور عن مجاهد قال: عن كل إنسان نصف صاع من (قمح) (١) (ومن) (٢) خالف القمح من تمر أو زبيب أو (أقط) (٣) [(أو غيره) (٤) ⦗٢٨٦⦘ أو شعير] (٥) (فصاع) (٦) تام.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ ہر شخص نصف صاع گیہوں صدقۃ الفطر ادا کرے گا۔ اور جو گیہوں کے علاوہ دینا چاہے تو وہ کھجور، کشمش، پنیر اور جو یا اس کے علاوہ کوئی چزف ہو تو پورا صاع ادا کرے گا۔
حدیث نمبر: 10631
١٠٦٣١ - حدثنا هشيم عن إسماعيل بن سالم عن الشعبي أنه كان يقول: صدقة الفطر عمن (صام من) (١) الأحرار وعن الرقيق (من) (٢) صام منهم (ومن) (٣) لم يصم نصف صاع من بر أو صاع من تمر أو شعير.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت امام شعبی فرماتے ہیں کہ صدقۃ الفطر اس آزاد شخص پر ہے جو رمضان کے روزے رکھے اور ہر غلام پر ہے خواہ وہ روزے رکھے یا نہ رکھے اور وہ نصف صاع گندم یا ایک صاع کھجور یا جو ہے۔
حدیث نمبر: 10632
١٠٦٣٢ - حدثنا هشيم عن منصور عن الحسن أنه قال: مثل قول الشعبي (فيمن) (١) لم يصم من الأحرار.
مولانا محمد اویس سرور
حسن نے بھی امام شعبی کے مثل فرمایا ہے کہ آزاد لوگوں میں سے جنہوں نے روزہ نہیں رکھا۔
حدیث نمبر: 10633
١٠٦٣٣ - حدثنا محمد بن بكر عن (بن جريج) (١) عن عبد الكريم عن إبراهيم عن علقمة والأسود عن عبد اللَّه (أنه) (٢) قال: (مدان) (٣) (من) (٤) قمح أو صاع (من) (٥) تمر (أو شعير) (٦) (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ ارشاد فرماتے ہیں کہ (صدقۃ الفطر) دو مد گیہوں یا ایک صاع کھجور یا جو ہے۔
حدیث نمبر: 10634
١٠٦٣٤ - [حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج عن (أبي) (١) (الزبير) (٢) (عن ⦗٢٨٧⦘ جابر) (٣) مثله] (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر سے بھی اسی طرح منقول ہے۔
حدیث نمبر: 10635
١٠٦٣٥ - حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج (عن عبد الكريم) (١) عن (ابن) (٢) طاوس عن أبيه قال: نصف صاع من (قمح أو صاع من) (٣) تمر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ (صدقۃ الفطر) نصف صاع گیہوں ہے یا ایک صاع کھجور ہے۔
حدیث نمبر: 10636
١٠٦٣٦ - حدثنا معتمر عن برد عن مكحول أنه قال: صاع (من تمر أو صاع) (١) من شعير.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ صدقۃ الفطر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو ہے۔
حدیث نمبر: 10637
١٠٦٣٧ - حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج عن عطاء قال: (مدان) (١) من قمح أو صاع من (تمر أو شعير) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں صدقۃ الفطر دومد گیہوں یا ایک صاع کھجور یا کشمش ہے۔
حدیث نمبر: 10638
١٠٦٣٨ - [حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج عن (عمرو) (١) أنه سمع ابن الزبير وهو على المنبر يقول: مدان من قمح أو صاع من شعير أو تمر] (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن زبیر کو منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا کہ صدقۃ الفطر دو مد گیہوں ہے، یا ایک صاع کھجور یا کشمش۔
حدیث نمبر: 10639
١٠٦٣٩ - حدثنا أبو داود عن شعبة أنه سأل الحكم وحمادا (فقالا) (١): نصف ⦗٢٨٨⦘ صاع (٢) حنطة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم اور حضرت حماد سے صدقۃ الفطر کے متعلق دریافت فرمایا ؟ تو دونوں حضرات نے فرمایا کہ نصف صاع گندم ہے۔ پھر میں نے حضرت عبد الرحمن بن قاسم اور حضرت سعد بن ابراہیم سے اس کے متعلق دریافت فرمایا تو انہوں نے بھی اسی کے مثل جواب ارشاد فرمایا۔
حدیث نمبر: 10640
١٠٦٤٠ - قال: وسألت عبد الرحمن بن القاسم (وسعد) (١) بن إبراهيم فقالا: مثل ذلك.
حدیث نمبر: 10641
١٠٦٤١ - حدثنا أبو أسامة عن إسحاق بن سليمان الشيباني قال: حدثني أبو حبيب قال: سألت عبد اللَّه بن شداد عن صدقة الفطر فقال: نصف صاع (من) (١) حنطة أو دقيق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو حبیب فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن شداد سے صدقۃ الفطر کے متعلق دریافت فرمایا ؟ آپ نے فرمایا کہ نصف صاع گندم یا آٹا ہے۔
حدیث نمبر: 10642
١٠٦٤٢ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عبد الأعلى عن أبي عبد الرحمن عن علي في صدقة الفطر (قال) (١) صاع من تمر أو صاع من شعير أو نصف صاع من بر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ صدقۃ الفطر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو یا نصف صاع گندم ہے۔
حدیث نمبر: 10643
١٠٦٤٣ - حدثنا وكيع عن هشام عن فاطمة عن أسماء (أنها) (١) (كانت) (٢) (تعطي) (٣) زكاة الفطر عمن (تمون) (٤) من أهلها، الشاهد (والغائب) (٥) نصف صاع من (بر) (٦) أو صاع من تمر أو (شعير) (٧) (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت فاطمہ سے مروی ہے کہ حضرت اسمائ اپنے اہل جن کی کفالت فرماتی تھیں چاہے وہ موجود ہوں یا غائب یعنی سفر میں ہوں ان کا صدقۃ الفطر نصف صاع گندم یا ایک صاع کھجور یا جو ادا فرمایا کرتی تھیں۔
حدیث نمبر: 10644
١٠٦٤٤ - حدثنا أبو أسامة عن (عوف) (١) قال: سمعت كتاب عمر بن عبد العزيز إلى عدي يقرأ بالبصرة في صدقة رمضان: (على) (٢) كل صغير (أو) (٣) كبير حر أو عبد ذكر أو أنثى نصف صاع من بر أو صاع من تمر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عوف فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز نے حضرت عدی کو لکھا جو انہوں نے بصرہ میں پڑھ کر سنایا جو میں نے خود سنا، اس میں تحریر تھا کہ صدقۃ الفطر ہر چھوٹے، بڑے، آزاد و غلام، مذکر اور مؤنث پر نصف صاع گندم یا ایک صاع کھجور ہے۔
حدیث نمبر: 10645
١٠٦٤٥ - حدثنا (عبد الرحيم) (١) بن سليمان عن حجاج عن عطاء عن ابن عباس قال: الصدقة صاع من تمر او نصف صاع من طعام (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ صدقۃ الفطر ایک صاع کھجور یا نصف صاع گندم ہے۔
حدیث نمبر: 10646
١٠٦٤٦ - حدثنا حفص بن غياث عن الضحاك بن عثمان عن نافع عن ابن عمر قال: فرض رسول اللَّه ﷺ صدقة الفطر (صاعًا) (١) من تمر أو (صاعًا) (٢) من شعير قال: (و) (٣) كان ابن عمر يعطيه (عمن) (٤) (يعول) (٥) (من نسائه) (٦) ومماليك نسائه إلا عبدين كانا مكاتبين (فإنه) (٧) لم يكن يعطي (عنهما) (٨) (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع سے مروی ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صدقۃ الفطر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو مقرر فرمایا۔ حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے خاندان کی ان عورتوں کی طرف سے صدقۃ الفطر ادا کرتے تھے جو آپ کی کفالت میں تھیں اور ان کے غلاموں کی طرف سے سوائے دو مکاتب غلاموں کے، کہ ان کی طرف سے ادا نہ فرماتے تھے۔