کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: یہ باب ہے اس مسکین کے بارے میں کہ جس کو (یعنی اس مسکین کے لیے) کچھ دینے کا حکم دیا گیا لیکن وہ چیز نہ مل سکی
حدیث نمبر: 10568
١٠٥٦٨ - حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن خالد عن محمد أن عمرو بن (العاص) (١) كان يأمر للمسكين بالشيء، فإذا لم يوجد وضع حتى يعطيه غيره (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن عاص مسکین کو کوئی چیز دینے کے لیے حکم دیتے پھر اگر وہ نہ ملتی تو اس کو چھوڑ کر اس کی جگہ کوئی دوسری عنایت فرما دیتے۔
حدیث نمبر: 10569
١٠٥٦٩ - [حدثنا الثقفي عن خالد عن (عكرمة) (١) أنه كره (٢) إذا أمر (للسائل) (٣) بطعام فلم يقدر عليه أن يأكله (٤) حتى يتصدق به] (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ کسی مسکین کو کوئی کھانے کی چیز دینے کا حکم دیتے پھر اگر وہ نہ ملتی تو خود بھی اس کو تناول نہ فرماتے بلکہ صدقہ کردیتے۔
حدیث نمبر: 10570
١٠٥٧٠ - حدثنا ابن علية عن (حباب) (١) بن (المختار) (٢) عن عمرو بن سعيد أن سائلًا سأل حميد بن عبد الرحمن، فقال له حميد: إنك ضال -وكأنه عبادي- فأمر له بشيء، فاستقله (وأبى أن يقبله) (٣). فقال له حميد: ما شئت؛ إن قبلته وإلا أعطيناه غيرك، ثم قال: كان (يقال) (٤) ردوا السائل (و) (٥) لو بمثل رأس القطاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن سعید فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت حمید بن عبد الرحمن سے کچھ مانگا، حضرت حمید نے اس سے فرمایا کہ تو گمراہ لگتا ہے اور تو مجھے نصرانی معلوم ہوتا ہے۔ (عرب کا قبیلہ جو گمراہ ہو کر نصرانیت اختیار کرلے ان کو عبادی کہا جاتا ہے) پھر اس کو کچھ دینے کا حکم فرمایا تو اس نے اسکو کم سمجھا اور لینے سے انکار کردیا۔ حضرت حمید نے فرمایا کہ اگر تو چاہتا ہے تو قبول کرلے ورنہ ہم کسی اور کو دے دیں گے۔ پھر آپ نے ارشاد فرمایا سائل کو عطاء کرو (دیدو) اگرچہ پرندہ (چکور) کا معمولی سر ہی کیوں نہ ہو۔
حدیث نمبر: 10571
١٠٥٧١ - حدثنا عبد السلام عن ليث عن طاوس في الرجل يخرج بالصدقة إلى (السائل) (١) (فيفوت منه) (٢) فلا يجده، قال: يصرفها إلى غيره.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس سے ایک شخص نے دریافت کیا کہ کوئی شخص سائل کو کچھ دینے کیلئے نکالتا ہے لیکن وہ سائل اس سے گم ہوجاتا ہے بعد میں اسکو نہیں پاتا تو کیا کرے ؟ آپ نے فرمایا اس کے علاوہ کسی اور کو دیدے۔
حدیث نمبر: 10572
١٠٥٧٢ - حدثنا أبو معاوية عن حجاج عن أبي معشر عن إبراهيم في الرجل يخرج الصدقة إلى المسكين (فيفوته) (١) قال: يحبسها حتى يعطيها مسكينًا غيره ولا يرجع في شيء جعله للَّه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص کسی مسکین کو صدقہ دینے کیلئے نکالتا ہے لیکن وہ مسکین اس سے فوت ہوجاتا ہے تو اب وہ کیا کرے ؟ آپ نے فرمایا کہ وہ کسی اور مسکین کو دیدے تو یہ بھی کافی ہے۔ اور جو چیز اللہ تعالیٰ نے اس کیلئے بنائی ہے (مقرر کی ہے) اسکو نہ لوٹائے۔
حدیث نمبر: 10573
١٠٥٧٣ - حدثنا حفص عن أشعث عن ابن سيرين في السائل إذا خرج إليه بالكسرة فلم (يجده) (١) (احبسها) (٢) حتى يجيء غيره.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ جب تو سائل کی طرف کوئی چیز (ٹکڑا) لیکر نکلے اور اس کو نہ پائے تو اس چیز کو روکے رکھ یہاں تک کہ اس کے علاوہ کوئی اور آجائے۔
حدیث نمبر: 10574
١٠٥٧٤ - [[حدثنا حفص عن عاصم عن ابن سيرين قال: كان ابن العاص يقول: إذا خرج إليه بالكسرة فلم يوجد أحبسها حتى يجيء غيره] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین سے مروی ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب تو سائل کی طرف کوئی چیز (ٹکڑا) لے کر نکلے اور اس کو نہ پائے تو اس چیز کو روکے رکھ یہاں تک کہ اس کے علاوہ کوئی اور آجائے۔
حدیث نمبر: 10575
١٠٥٧٥ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عاصم عن ابن سيرين عن عمرو بن العاص قال: يضعها حتى يجيء غيره]] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین سے مروی ہے کہ حضرت عمرو بن عاص نے فرمایا کہ اس کو اپنے پاس رکھ لے یہاں تک کہ اس کے علاوہ کوئی اور سائل آجائے۔
حدیث نمبر: 10576
١٠٥٧٦ - [(حدثنا) (١) عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن حماد عن إبراهيم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمید اور حضرت بکر فرماتے ہیں کہ اس کو اپنے پاس روکے رکھے یہاں تک کہ کسی اور کو عطا کر دے۔
حدیث نمبر: 10577
١٠٥٧٧ - وعن حميد عن بكر (قالا) (١): يحبسها حتى يعطيها غيره] (٢).