کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: قرض پر زکوٰۃ کا بیان
حدیث نمبر: 10532
١٠٥٣٢ - حدثنا أبو بكر (١) قال: حدثنا جرير عن منصور عن (الحكم) (٢) قال: سئل علي عن الرجل (يكون له الدين على الرجل) (٣). قال: يزكيه صاحب المال، فإن (توى) (٤) ما عليه وخشي أن (لا يقضي) (٥) (فإنه) (٦) يمهل، فإذا خرج أدى زكاة (ما مضى) (٧) (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ ایک شخص کا دوسرے شخص کے ذمہ قرض ہے (تو زکوٰۃ کا کیا حکم ہے ؟ ) آپ نے فرمایا جس کا مال ہے وہ زکوٰۃ ادا کرے گا۔ اگر وہ مال ہلاک ہوجائے اور اسکو خوف ہو کہ وہ ادا نہ کرے گا تو اسکو مہلت دے اور نرمی برتے، جب وہ نکال کر ادا کر دے تو جتنا عرصہ گذر گیا ہے اس کی زکوٰۃ ادا کر دے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10532
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10532، ترقيم محمد عوامة 10346)
حدیث نمبر: 10533
١٠٥٣٣ - حدثنا وكيع عن ابن عون عن محمد قال: نبئت أن عليًا قال: إن كان (صادقًا) (١) فليزك إذا قبض يعني الدين (٢).
مولانا محمد اویس سرور
محمد فرماتے ہیں کہ مجھے خبر دی گئی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ یہ بھی ارشاد فرماتے ہیں کہ جب وہ مدیون سچا ہو تو جب دین پر قبضہ کرلے تو زکوٰۃ ادا کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10533
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10533، ترقيم محمد عوامة 10347)
حدیث نمبر: 10534
١٠٥٣٤ - حدثنا معتمر عن ليث عن طاوس قال: إذا كان لك دين فزكه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ اگر تیرا قرض (کسی پر ہے) تو تو اس کی زکوٰۃ ادا کر۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10534
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10534، ترقيم محمد عوامة 10348)
حدیث نمبر: 10535
١٠٥٣٥ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن (مغيرة) (١) عن إبراهيم قال: لينظر ما كان عليه من دين فليعزله، ومن كان له من دين (ثقة) (٢) فليزكه. [و (ما) (٣) كان لا يستقر يعطيه اليوم و (يأخذ) (٤) إلى يومين فليزكه] (٥).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص مقروض ہو تو قرض کو زکوٰۃ سے منہا کر دے۔ اور کسی بااعتماد شخص نے اس کا قرضہ دینا ہے تو اس قرضے کی رقم کو شامل کر کے زکوٰۃ دے۔ اگر کسی ٹال مٹول کرنے والے شخص نے قرضہ دینا ہے تو بھی اس کی زکوٰۃ دے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10535
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10535، ترقيم محمد عوامة 10349)
حدیث نمبر: 10536
١٠٥٣٦ - حدثنا عبد الرحيم عن أشعث عن أبي الزبير عن جابر قال: يزكيه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ وہ زکوٰۃ ادا کرے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10536
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لحال أشعث.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10536، ترقيم محمد عوامة 10350)
حدیث نمبر: 10537
١٠٥٣٧ - حدثنا وكيع عن موسى بن عبيدة عن نافع عن ابن عمر قال: (١) زكاة أموالكم (حولا) (٢) إلى حول، (وما كان) (٣) (من دين ثقة فزكه) (٤) (وإن) (٥) كان من دين (مظنون) (٦) فلا زكاة فيه حتى يقضيه صاحبه (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع سے مروی ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ تمہارے اموال پر زکوٰۃ سال مکمل ہونے کے بعد ہے۔ پس جو قرض ایسا ہو کہ اس کا ملنا یقینی ہو تو اس پر بھی زکوٰۃ ادا کر دینی چاہئے اور جس قرض کے بارے میں شک ہو اس پر زکوٰۃ ادا نہ کرے جب تک مقروض قرض ادا نہ کر دے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10537
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف موسى.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10537، ترقيم محمد عوامة 10351)
حدیث نمبر: 10538
١٠٥٣٨ - حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج عن أبي الزبير عن جابر قال: يزكيه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ زکوٰۃ ادا کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10538
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10538، ترقيم محمد عوامة 10352)
حدیث نمبر: 10539
١٠٥٣٩ - حدثنا محمد بن بكر عن (ابن جريج) (١) عن يزيد بن (يزيد) (٢) (ابن) (٣) جابر أن عبد الملك (ابن أبي بكر) (٤) أخبره أن عمر قال لرجل: إذا (حلت) (٥) فاحسب دينك وما عندك، فاجمع ذلك جميعا ثم زكه (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الملک بن ابوبکر سے مروی ہے کہ حضرت عمر نے ایک شخص سے فرمایا : جب سال مکمل ہوجائے تو اپنے مال اور جو قرض تیرا لوگوں پر ہے اس کا حساب لگا اور ان دونوں کو جمع کر کے ان کے مجموعے پر زکوٰۃ ادا کر۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10539
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10539، ترقيم محمد عوامة 10353)
حدیث نمبر: 10540
١٠٥٤٠ - حدثنا عمر بن أيوب عن جعفر عن ميمون قال: ما كان من دين فيما (١) ترجوه فاحسبه، ثم أخرج ما عليك ثم زك ما بقي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت میمون فرماتے ہیں کہ جو قرض ایسا ہو کہ اسکی امید نہ ہو تو اسکو حساب کر پھر اسکو الگ کر جو تیرے اوپر قرض ہے اور جو باقی بچے اس پر زکوٰۃ ادا کر۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10540
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10540، ترقيم محمد عوامة 10354)
حدیث نمبر: 10541
١٠٥٤١ - حدثنا يحيى بن سعيد عن عثمان بن الأسود عن مجاهد قال: إذا كنت تعلم أنه خارج فزكه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ اگر تجھے معلوم ہو کہ قرض نکال کر تجھے دینے والا ہے تو اس پر زکوٰۃ ادا کر۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10541
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10541، ترقيم محمد عوامة 10355)
حدیث نمبر: 10542
١٠٥٤٢ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (حدثنا) (١) هشام عن محمد عن عبيدة قال: سئل (علي) (٢) عن الرجل يكون له الدين (الظنون) (٣) (أيزكيه) (٤)؟ فقال: إن كان (صادقًا) (٥) فليزكه لما مضى إذا قبضه (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبیدہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ آدمی کا کسی پر قرض ہو لیکن واپسی یقینی نہ ہو تو کیا وہ اسکی زکوٰۃ ادا کرے گا ؟ آپ نے ارشاد فرمایا اگر مدیون سچا ہو تو قبضہ کے بعد جتنی مدت گذر گئی ہے اسکی زکوٰۃ ادا کر دے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10542
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10542، ترقيم محمد عوامة 10356)
حدیث نمبر: 10543
١٠٥٤٣ - حدثنا حماد بن خالد عن ابن أبي ذئب عن عثمان (بن أبي عثمان) (١) قال: قلت للقاسم بن محمد: إن لنا قرضًا و (٢) دينًا فنزكيه؟ قال: نعم. كانت عائشة تأمرنا (أن) (٣) نزكي ما في البحر. وسألت سالمًا، فقال مثل ذلك (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان بن ابو عثمان فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت قاسم بن محمد سے دریافت فرمایا : میرا کچھ قرضہ معین مدت کیلئے ہے اور کچھ کا وقت معین نہیں تو کیا ہم زکوٰۃ ادا کریں اس پر ؟ آپ نے فرمایا جی ہاں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہمیں حکم فرمایا تھا کہ جو کچھ سمندر میں ہو اس پر زکوٰۃ ہے۔ راوی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سالم سے بھی یہی سوال پوچھا تو آپ نے بھی اسی طرح جواب ارشاد فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10543
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10543، ترقيم محمد عوامة 10357)