کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: بعض حضرات فرماتے ہیں کہ جب تک قرض واپس وصول نہ کر لے اس پر زکوٰۃ نہیں ہے
١٠٥٤٤ - حدثنا أبو بكر (قال) (١) حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن أبي الزناد عن عكرمة قال: ليس في الدين زكاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ قرض پر زکوٰۃ نہیں ہے۔
١٠٥٤٥ - حدثنا زيد بن (الحباب) (١) عن عبد اللَّه بن المؤمل عن ابن أبي مليكة عن عائشة قالت: ليس فيه زكاة حتى يقبضه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ قرض پر زکوٰۃ نہیں ہے جب تک کہ اس کو واپس وصول کر کے اس پر قبضہ نہ کرلے۔
١٠٥٤٦ - حدثنا يحيى بن سعيد عن عثمان بن الأسود عن عطاء قال: (لا) (١) يزكيه حتى يقبضه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ قرض پر زکوٰۃ نہیں ہے جب تک کہ اس کو واپس وصول کر کے اس پر قبضہ نہ کرلے۔
١٠٥٤٧ - حدثنا أبو معاوية عن حجاج عن (عطاء) (١) قال: ليس على صاحب الدين الذي هو له ولا الذي هو عليه زكاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ جس کا قرض ہے اس پر اور جو مقروض ہے دونوں پر زکوٰۃ نہیں ہے۔
١٠٥٤٨ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن أبي جعفر قال: ليس فيه زكاة حتى يقبضه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ قرض پر زکوٰۃ نہیں ہے جب تک کہ اس کو واپس وصول کر کے اس پر قبضہ نہ کرلے۔
١٠٥٤٩ - حدثنا وكيع عن مسعر عن الحكم قال: (خالفني) (١) إبراهيم فيه فقلت: لا يزكى، ثم رجع إلى قولي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ ابراہیم نے پہلے میری مخالفت کی میں نے کہا تھا کہ زکوٰۃ ادا کرنا واجب نہیں ہے۔ پھر انہوں نے میرے قول کی طرف رجوع فرما لیا کہ زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔
١٠٥٥٠ - حدثنا حماد بن خالد عن العمري عن عبد الرحمن بن القاسم عن أبيه عن عائشة قالت: ليس في الدين زكاة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ قرض پر زکوٰۃ نہیں ہے۔