کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: بعض حضرات فرماتے ہیں کہ جس وقت فائدہ ہو اسی وقت زکوٰۃ ادا کرے سال گزرنا ضروری نہیں ہے
حدیث نمبر: 10511
١٠٥١١ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) (معتمر) (٢) (عن) (٣) برد عن مكحول قال: إذا كان للرجل (شهر) (٤) يزكي فيه (فأصاب) (٥) مالًا فأنفقه فليس عليه (زكاة) (٦) ما أنفق، ولكن ما وافى الشهر الذي يزكي فيه ماله زكاه، (فإن) (٧) كان ليس له شهر يزكي فيه فاستفاد مالًا فليزكه حين يستفيده.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص کسی مہینے میں زکوٰۃ ادا کرے پھر اسی مہینے اس کو کچھ اور مال ملے اور وہ اس کو خرچ کر دے تو جو مال اس نے خرچ کیا ہے اس پر زکوٰۃ نہیں ہے۔ لیکن جس مہینے اس نے زکوٰۃ ادا کی اور اس کو کچھ مال ملا جو پورا مہینہ اس کے پاس رہا تو اس پر زکوٰۃ ادا کرنی پڑے گی۔ اور اگر جس مہینے اس نے زکوٰۃ ادا نہیں کی اس مہینے اس کو کچھ مال ملا تو جس وقت اس کو فائدہ ہوا اسی وقت اس پر زکوٰۃ ادا کرنا پڑے گی۔ (اس پر سال گذرنا شرط نہیں ہے) ۔
حدیث نمبر: 10512
١٠٥١٢ - حدثنا أبو أسامة عن هشام عن عكرمة عن ابن عباس في الرجل يستفيد مالًا قال: يزكيه حين يستفيده (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا کہ کسی آدمی کو کچھ مال ملتا ہے (دوران سال اس پر زکوٰۃ ہے کہ نہیں ؟ ) آپ نے فرمایا جس وقت اس کو فائدہ ہو اسی وقت زکوٰۃ ہے۔
حدیث نمبر: 10513
١٠٥١٣ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري أنه كان يقول: إذا استفاد الرجل مالًا فأراد أن ينفقه قبل مجيء شهر زكاته فليزكه، (ثم) (١) لينفقه وإن كان لا يريد أن ينفق فليزكه (مع) (٢) ماله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت امام زہری ارشاد فرماتے ہیں کہ جب کسی شخص کو مال ملے اور جس مہینے وہ زکوٰۃ ادا کرتا ہے اس سے قبل ہی اس مال کو خرچ کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو اس کو چاہئے کہ پہلے اس کی زکوٰۃ ادا کر دے پھر خرچ کرے اور اگر زکوٰۃ کے مہینے سے قبل خرچ کرنے کا ارادہ نہ ہو تو اس مال کو اپنے مال کے ساتھ ملا کر اکٹھے ہی وقت پر زکوٰۃ ادا کرے۔ (اس مال پر سال گزرنے کا انتظار نہ کرے) ۔