کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: بعض حضرات نے رخصت دی ہے کہ بادشاہ کو اگر زکوٰۃ ادا نہ کرے تو بھی زکوٰۃ ادا ہو جائے گی
حدیث نمبر: 10492
١٠٤٩٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن يزيد عن النعمان عن مكحول قال: (سأله) (١) رجل عن الزكاة؟ فقال: ادفعها إلى الإمام، (قال: الإمام) (٢) ⦗٢٥٧⦘ القرآن: وكان يخفي (ذلك) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نعمان فرماتے ہیں کہ حضرت مکحول سے ایک شخص نے زکوٰۃ کے متعلق دریافت فرمایا (کہ کس کو زکوٰۃ ادا کروں ؟ ) آپ نے فرمایا بادشاہ اور امام کو جس کے اوصاف قرآن میں ہیں اور وہ اس ادائے زکوٰۃ کو مخفی رکھتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10492
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10492، ترقيم محمد عوامة 10306)
حدیث نمبر: 10493
١٠٤٩٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي الهيثم عن إبراهيم والحسن (قالا) (١): ضعها مواضعها (واخفها) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اور حسن فرماتے ہیں کہ زکوٰۃ کو ان کے مواضع (ادا کرنے کی جگہ) پر ادا کرو اور اس کو مخفی رکھو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10493
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10493، ترقيم محمد عوامة 10307)
حدیث نمبر: 10494
١٠٤٩٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن (عتبة) (١) الكندي عن طاوس قال: ضعها في الفقراء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ زکوٰۃ فقراء کو ادا کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10494
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10494، ترقيم محمد عوامة 10308)
حدیث نمبر: 10495
١٠٤٩٥ - حدثنا يعلى بن عبيد عن حسان بن أبي يحيى قال: سأل رجل سعيد ابن جبير عن الصدقة قال: هي إلى ولاة الأمر. قال: فإن الحجاج يبني بها القصور ويضعها في غير مواضعها. قال: (ضعها) (١) حيث أمرت به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسان بن ابو یحییٰ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت سعید بن جبیر سے سوال کیا کہ زکوٰۃ کس کو ادا کریں ؟ آپ نے فرمایا اولی الامر کو (امراء اور بادشاہوں کو) سوال کرنے والے نے عرض کیا کہ حجاج بن یوسف تو (جو کہ امیر ہے) ان پیسوں سے اپنے لئے محل تعمیر کروائے گا اور اسکو موقع محل کے علاوہ (اپنی خواہشات کے مطابق) استعمال کرے گا ؟ آپ نے جوابا ارشاد فرمایا : تمہیں جس طرح حکم دیا گیا ہے تم اس پر عمل کرو (اسکا وبال اس پر ہے) ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10495
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10495، ترقيم محمد عوامة 10309)
حدیث نمبر: 10496
١٠٤٩٦ - حدثنا أبو أسامة عن هشام عن الحسن قال: إن دفعها إليهم أجزأ عنه وإن قسمها أجزأ عنه.
مولانا محمد اویس سرور
حسن ارشاد فرماتے ہیں کہ اگر تو زکوٰۃ (امرائ) کو ادا کر دے تو بھی ٹھیک ہے اور اگر تو خود (مستحقین کو) تقسیم کر دے تو بھی ٹھیک ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10496
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10496، ترقيم محمد عوامة 10310)
حدیث نمبر: 10497
١٠٤٩٧ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر (عن) (١) (خيثمة) (٢) قال: سألت ابن عمر عن الزكاة فقال: ادفعها إليهم، ثم سألته بعد فقال: لا تدفعها إليهم؛ فإنهم قد أضاعوا الصلاة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خیثمہ ارشاد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت فرمایا کہ زکوٰۃ کس کو ادا کروں ؟ آپ نے فرمایا امراء کو ادا کرو۔ پھر میں نے کچھ عرصہ بعد دوبارہ یہی سوال پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ امراء کو ادا نہ کرو وہ نمازوں کا خیال نہیں رکھتے اور نمازوں کو ضائع (قضا) کردیتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10497
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف جابر.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10497، ترقيم محمد عوامة 10311)
حدیث نمبر: 10498
١٠٤٩٨ - حدثنا أبو أسامة عن ابن جريج عن عطاء قال: جاء رجل بزكاة ماله ⦗٢٥٨⦘ إلى علي فقال له علي: تأخذ من عطائنا شيئا قال: لا، ((فقال: لا) (١) نجمع) (٢) عليك أن لا نعطيك ونأخذ منك، فأمره أن يقسمها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ ایک شخص زکوٰۃ کا مال لے کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کرم اللہ وجہہ کے پاس آیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا تو ہماری عطا میں سے کچھ لیتا ہے ؟ اس نے عرض کیا کہ نہیں۔ آپ نے فرمایا ہمیں یہ بات پسند نہیں کہ ہم تجھے تو کچھ نہ دیں لیکن تجھ سے لیں۔ پھر آپ نے اسے حکم دیا کہ زکوٰۃ کو تقسیم کر دے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10498
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10498، ترقيم محمد عوامة 10312)