کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: یتیم کے مال پر زکوٰۃ ہے کہ نہیں؟ اگر ہے تو کون ادا کرے گا؟
حدیث نمبر: 10393
١٠٣٩٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك عن أبي اليقظان عن ابن أبي ليلى أن عليًا زكى أموال بني أبي (رافع) (١) أيتام في حجره وقال: ترون (كنت) (٢) ألي مالا لا أزكيه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی لیلیٰ سے مروی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ابو رافع کے یتیم بیٹے جو ان کی پرورش میں تھے ان کے مال کی زکوٰۃ نکالی اور فرمایا : تمہارا کیا خیال ہے کہ میں اپنی اولاد کو ایسا مال کھلاؤں گا جسے پاک نہیں کروں گا۔
حدیث نمبر: 10394
١٠٣٩٤ - (حدثنا) (١) أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن يحيى بن سعيد عن القاسم قال: كنا أيتامًا في حجر عائشة، فكانت تزكي أموالنا و (تبضعها) (٢) في (البحر) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم فرماتے ہیں کہ ہم یتیم تھے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی پرورش میں تھے آپ ہمارے مال کی زکوٰۃ نکالا کرتی تھیں اور اس مال کو سمندر میں تجارت میں لگایا کرتی تھیں۔
حدیث نمبر: 10395
١٠٣٩٥ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن أشعث عن أبي الزبير عن جابر قال: في مال اليتيم (زكاة) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ یتیم کے مال پر زکوٰۃ ہے۔
حدیث نمبر: 10396
١٠٣٩٦ - حدثنا علي بن مسهر (عن ليث) (١) عن نافع عن ابن عمر أنه كان يزكي مال اليتيم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما یتیم کے مال زکوٰۃ نکالا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 10397
١٠٣٩٧ - حدثنا ابن إدريس عن محمد بن إسحاق عن الزهري قال: (قال) (١) عمر: ابتغوا لليتامى في أموالهم لا (تستغرقها) (٢) الزكاة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت امام زہری سے مروی ہے حضرت عمر فاروق نے ارشاد فرمایا : کوشش کر کے یتیموں کے مال کی زکوٰۃ اس طرح ادا کرو کہ زکوٰۃ ان کے مال کا پورا احاطہ ہی نہ کرے (زکوٰۃ میں ان کا سارا مال ہی ادا نہ کردو) ۔
حدیث نمبر: 10398
١٠٣٩٨ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن يحيى و (حنظلة) (١) وحميد عن القاسم أن عائشة كانت (تبضع) (٢) أموالهم في البحر وتزكيها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم سے مروی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا یتیموں کے مال کو تجارت پر لگایا کرتی تھیں اور اس پر زکوٰۃ ادا فرمایا کرتی تھیں۔
حدیث نمبر: 10399
١٠٣٩٩ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن عمرو بن دينار عن مكحول قال: قال عمر: ابتغوا بأموال اليتامى لا (تستغرقها) (١) (٢) الصدقة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت امام زہری سے مروی ہے حضرت عمر فاروق نے ارشاد فرمایا : کوشش کر کے یتیموں کے مال کی زکوٰۃ اس طرح ادا کرو کہ زکوٰۃ ان کے مال کا پورا احاطہ ہی نہ کرے (زکوٰۃ میں ان کا سارا مال ہی ادا نہ کردو) ۔
حدیث نمبر: 10400
١٠٤٠٠ - حدثنا وكيع عن (حسن) (١) (عن) (٢) أبي فروة عن الشعبي قال: في مال اليتيم زكاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ یتیم کے مال پر زکوٰۃ ہے۔
حدیث نمبر: 10401
١٠٤٠١ - حدثنا أبو أسامة عن هشام (١) عن ابن سيرين قال: في مال اليتيم له حق وعليه حق (و) (٢) لا أقول إلا ما قال اللَّه (تعالى) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین یتیم کے مال کے بارے میں فرماتے ہیں کہ : اس کیلئے بھی کچھ حق ہیں اور اس پر بھی کچھ حق ہیں۔ اور میں اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتا میں تو وہی کہتا ہوں جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 10402
١٠٤٠٢ - حدثنا يحيى بن يمان عن الحسن بن يزيد عن طاوس قال: زك مال اليتيم وإلا فهو دين في (عنقك) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ یتیم کے مال کی زکوٰۃ ادا کر ورنہ وہ تیرے ذمہ قرض باقی رہے گا۔
حدیث نمبر: 10403
١٠٤٠٣ - حدثنا وكيع عن موسى بن عبيدة عن عبد اللَّه بن دينار قال: (دعي) (١) ابن عمر إلى مال (يتيم) (٢) فقال: إن شئتم وليته على أن (أزكيه) (٣) (حولا) (٤) (إلى) (٥) حول (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن دینار سے مروی ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو یتیم کے مال کا ولی بننے کیلئے کہا گیا تو آپ نے فرمایا : اگر تم چاہتے ہو کہ میں اسکا ولی بن جاؤں اور ہر سال اس کی زکوٰۃ ادا کروں (تو ٹھیک ہے وگرنہ نہیں) ۔
حدیث نمبر: 10404
١٠٤٠٤ - حدثنا ابن نمير عن مالك بن مغول عن عطاء أنه رأى في مال اليتيم زكاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مالک بن مغول فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء یتیم کے مال پر زکوٰۃ کو فرض سمجھتے تھے۔