کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: ہیرے اور زمرد کی زکوٰۃ کا بیان
حدیث نمبر: 10341
١٠٣٤١ - حدثنا [أبو بكر قال: (حدثنا) (١)] (٢) أبو الأحوص عن خصيف عن عكرمة قال: ليس في حجر اللؤلؤ ولا (٣) حجر الزمرد زكاة إلا أن يكونا لتجارة، فإن كانا لتجارة (ففيهما) (٤) زكاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ ارشاد فرماتے ہیں کہ ہیرے اور زمرد کے پتھر میں زکوٰۃ نہیں ہے، ہاں اگر تجارت کے لئے ہوں تو پھر ان پر زکوٰۃ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10341
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10341، ترقيم محمد عوامة 10162)
حدیث نمبر: 10342
١٠٣٤٢ - حدثنا شريك عن سالم عن سعيد بن جبير قال: ليس في الخرز واللؤلؤ زكاة إلا أن يكونا لتجارة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر ارشاد فرماتے ہیں کہ نگینہ اور ہیرے پر زکوٰۃ نہیں ہے مگر یہ کہ وہ تجارت کیلئے ہوں (تو پھر زکوٰۃ ہے) ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10342
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10342، ترقيم محمد عوامة 10163)
حدیث نمبر: 10343
١٠٣٤٣ - حدثنا شريك عن خصيف عن عكرمة مثله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ سے بھی اسی طرح منقول ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10343
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10343، ترقيم محمد عوامة 10164)
حدیث نمبر: 10344
١٠٣٤٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن (سالم) (١) عن سعيد بن جبير قال: ليس في (الخرز) (٢) زكاة (إلا لتجارة) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر ارشاد فرماتے ہیں کہ نگینہ اور ہیرے پر زکوٰۃ نہیں ہے مگر یہ کہ وہ تجارت کیلئے ہوں (تو پھر زکوٰۃ ہے) ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10344
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10344، ترقيم محمد عوامة 10165)
حدیث نمبر: 10345
١٠٣٤٥ - حدثنا ابن نمير عن حجاج عن عطاء والزهري ومكحول قالوا: ليس في الجوهر شيء إلا أن (يكون) (١) لتجارة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حجاج، حضرت عطاء ، حضرت زہری اور حضرت مکحول یہ سب حضرات فرماتے ہیں کہ جواہر پر زکوٰۃ نہیں ہے جب تک کہ وہ تجارت کیلئے نہ ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10345
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10345، ترقيم محمد عوامة 10166)
حدیث نمبر: 10346
١٠٣٤٦ - حدثنا سهل بن يوسف عن (شعبة) (١) عن الحكم أنه كان لا يرى في الحلي زكاة (إلا) (٢) في الذهب والفضة، ولا (يراه) (٣) في الجوهر واللؤلؤ (و) (٤) هذا النحو.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ سے مروی ہے کہ حضرت حکم زیور پر زکوٰۃ کو واجب نہیں سمجھتے تھے سوائے سونے اور چاندی کے، اور اس طرح جواہر اور ہیرے پر بھی زکوٰۃ کو واجب نہیں سمجھتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10346
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10346، ترقيم محمد عوامة 10167)
حدیث نمبر: 10347
١٠٣٤٧ - حدثنا حفص عن حجاج عن طلحة عن إبراهيم قال: كل شيء أريد به التجارة ففيه الزكاة وإن كان لبن أو طين.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم ارشاد فرماتے ہیں کہ ہر وہ چیز جو تجارت کیلئے ہو اس پر زکوٰۃ ہے خواہ وہ دودھ اور مٹی کا گارا ہی کیوں نہ ہو۔ اور فرماتے ہیں کہ حضرت حکم کی بھی یہی رائے تھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10347
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10347، ترقيم محمد عوامة 10168)
حدیث نمبر: 10348
١٠٣٤٨ - قال: وكان الحكم يرى ذلك.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10348
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10348، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 10349
١٠٣٤٩ - حدثنا جرير عن مغيرة عن حماد قال: ليس في الجوهر زكاة إلا أن يشتري (لتجارة) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد ارشاد فرماتے ہیں کہ جواہر میں زکوٰۃ نہیں ہے مگر یہ کہ وہ تجارت کیلئے ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10349
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10349، ترقيم محمد عوامة 10169)
حدیث نمبر: 10350
١٠٣٥٠ - حدثنا [محمد بن (بكر) (١) عن ابن (جريج) (٢) قال: قال لي عطاء] (٣): لا (صدقة) (٤) في اللؤلؤ ولا زبرجد ولا ياقوت ولا فصوص ولا عرض ولا شيء (لا يدار) (٥)؛ وإن كان شيئًا من ذلك يدار (ففيه) (٦) الصدقة في ثمنه حين (يباع) (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج ارشاد فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضرت عطاء نے فرمایا کہ ہیرے، زبرجد (قیمتی پتھر) یاقوت، نگینہ اور سامان اور ہر وہ چیز جو گھومتی نہ ہو (تجارت میں) ان پر زکوٰۃ نہیں ہے اور جو چیز تجارت کیلئے ہو تو اسکو فروخت کرنے کے بعد اس کے ثمن پر زکوٰۃ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10350
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10350، ترقيم محمد عوامة 10170)
حدیث نمبر: 10351
١٠٣٥١ - حدثنا جعفر بن عون عن أسامة قال: سألت القاسم عن اللؤلؤ (١) هل فيه زكاة (أم لا) (٢)؟ فقال: ما كان منه يلبس (كالحلي) (٣) ليس لتجارة، فلا زكاة فيه، وما كان (من) (٤) ذلك للتجارة ففيه الزكاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسامہ ارشاد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت قاسم سے ہیرے کی زکوٰۃ کے بارے میں دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا کہ جو پہنتے ہیں جیسے زیور وغیرہ اور وہ تجارت کیلئے نہ ہو ان پر زکوٰۃ نہیں ہے۔ اور جو تجارت کیلئے ہو اس پر زکوٰۃ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10351
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10351، ترقيم محمد عوامة 10171)
حدیث نمبر: 10352
١٠٣٥٢ - حدثنا أزهر عن ابن عون عن أبي المليح في حديث ذكره كأنه يرى فيه الزكاة، يعني اللؤلؤ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الملیح ہیرے پر زکوٰۃ کے قائل تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10352
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10352، ترقيم محمد عوامة 10172)