کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ شہد میں زکوٰۃ نہیں ہے
حدیث نمبر: 10329
١٠٣٢٩ - حدثنا وكيع عن (سفيان) (١) عن إبراهيم بن ميسرة عن طاوس أن معاذا لما أتى اليمن أُتي (بالعسل) (٢) وأوقاص الغنم فقال: لم أؤمر فيها بشيء (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاوس ارشاد فرماتے ہیں کہ حضرت معاذ جب یمن تشریف لائے تو ان کے پاس لوگ شہد اور بکریوں کے دو فریضوں کے درمیانی عدد کو لے کر آئے (اونٹ پانچ ہوں تو زکوٰۃ صرف ایک بکری ہے اور جب تک ان کی تعداد دس نہ ہو کوئی اضافہ نہ ہوگا پس پانچ سے دس تک وقص کہلاتا ہے) آپ نے ارشاد فرمایا : مجھے ان کے (وصول کرنے کے) بارے میں حکم نہیں دیا گیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10329
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10329، ترقيم محمد عوامة 10150)
حدیث نمبر: 10330
١٠٣٣٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عبيد اللَّه عن نافع قال: بعثني عمر بن عبد العريز على اليمن، فأردت أن آخذ من العسل العشر، قال مغيرة بن حكيم الصنعاني: ليس فيه شيء، فكتبت إلى عمر بن عبد العريز، فقال: صدق وهو عدل رضى.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع ارشاد فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت عمر بن عبد العزیز نے یمن بھیجا، میں نے شہد میں عشر لینے کا ارادہ کیا تو مجھے مغیرہ بن حکیم الصنعانی نے منع فرمایا کہ اس میں عشر نہیں ہے۔ میں نے حضرت عمر بن عبد العزیز کو صورت حال لکھی، آپ نے ارشاد فرمایا انہوں نے ٹھیک کہا ہے وہ عادل ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10330
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10330، ترقيم محمد عوامة 10151)
حدیث نمبر: 10331
١٠٣٣١ - حدثنا أبو أسامة عن عبيد اللَّه بن عمر عن نافع قال: سألني عمر بن عبد العريز عن صدقة العسل فقلت: أخبرني المغيرة بن حكيم أنه: ليس فيه صدقة فقال عمر: عدل مصدق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع ارشاد فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز نے مجھ سے شہد کی زکوٰۃ کے بارے میں دریافت کیا، میں نے عرض کیا کہ حضرت مغیرہ بن حکیم نے مجھے بتایا ہے کہ اس میں کچھ نہیں ہے۔ (زکوٰۃ نہیں ہے) حضرت عمر بن عبد العزیز نے ارشاد فرمایا کہ وہ عادل ہیں ان کی تصدیق کی جائے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10331
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10331، ترقيم محمد عوامة 10152)