کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ’’زکوٰۃ میں کیا چیز جائز نہیں ہے اور زکوٰۃ وصول کرنے والا نہیں وصول کرے گا‘‘
حدیث نمبر: 10266
١٠٢٦٦ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) عباد بن عوام عن سفيان (بن) (٢) حسين عن الزهري عن سالم عن ابن عمر قال: كتب رسول اللَّه ﷺ كتاب الصدقة، فقرنه بسيفه، أو قال بوصيته، (فلم) (٣) يخرجه إلى عماله حتى قبض (٤). عمل به أبو بكر حتى هلك، ثم عمل به عمر: "لا يؤخذ في الصدقة ⦗٢٠٣⦘ هرمة ولا ذات عوار" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زکوٰۃ کے احکامات لکھوائے اور ان اپنی تلوار کے ساتھ رکھا یا وصیت کے ساتھ، پھر ان کو دوبارہ زکوٰۃ وصول کرنے والوں کیلئے نہیں نکالا یہاں تک کہ آپ دار فانی سے کوچ کر گئے، آپ کی وفات کے بعد حضرت صدیق اکبر اس پر عمل کرتے رہے یہاں تک کہ آپ بھی رخصت ہوگئے، پھر حضرت عمر اس پر عمل پیرا رہے۔ (اس میں لکھا تھا کہ) زکوٰۃ وصول کرنے والا بوڑھا اور عیب دار جانور وصول نہ کرے۔
حدیث نمبر: 10267
١٠٢٦٧ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن عاصم بن ضمرة عن علي قال: لا يأخذ المصدق هرمة ولا ذات عوار ولا تيسًا إلا أن يشاء المصدق (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہارشاد فرماتے ہیں کہ زکوٰۃ وصول کرنے والا بوڑھا اور عیب دار (کانا) جانور وصول نہ کرے اور نہ ہی وہ بکری کا بچہ جو بکرا بن گیا ہو ہاں اگر زکوٰۃ وصول کرنے والا چاہے تو (ان کو وصول کرسکتا ہے) ۔
حدیث نمبر: 10268
١٠٢٦٨ - حدثنا عبد السلام بن حرب عن خصيف عن أبي عبيدة عن عبد اللَّه قال: ليس للمصدق هرمة ولا ذات عوار (ولا) (١) جداء (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ ارشاد فرماتے ہیں کہ زکوٰۃ وصول کرنے والا بوڑھا اور عیب دار جانور وصول نہیں کرے گا اور نہ ہی وہ جانور جس کا دودھ نہ آتا ہو۔
حدیث نمبر: 10269
١٠٢٦٩ - [حدثنا عبد السلام عن ليث عن نافع عن ابن عمر قال: ليس للمصدق هرمة ولا ذات عوار ولا جداء] (١) إلا أن يشاء المصدق (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ زکوٰۃ وصول کرنے والا بوڑھا جانور عیب دار جانور اور وہ جانور جس کا دودھ نہ آتا ہو وہ وصول نہیں کرے گا ہاں اگر وہ خود چاہے تو لے سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 10270
١٠٢٧٠ - حدثنا وكيع عن موسى بن عبيدة قال: سمعت سليمان بن يسار قال: لا يجزئ في الصدقة ذات عوار (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت موسیٰ بن عبیدہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سلیمان بن یسار سے سنا وہ ارشاد فرماتے تھے کہ زکوٰۃ وصول کرنے والے کیلئے جائز نہیں ہے کہ وہ عیب دار جانور وصول کرے۔
حدیث نمبر: 10271
١٠٢٧١ - حدثنا كثير بن هشام (١) عن جعفر بن ميمون قال: لا يؤخذ في (الصدقة) (٢) العجفاء ولا العوراء (ولا الجرباء) (٣) ولا العرجاء التي ⦗٢٠٤⦘ لا (تتبع) (٤) الغنم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعفر بن میمون ارشاد فرماتے ہیں کہ زکوٰۃ (وصول کرنے والا) کمزور جانور کو، عیب دار جانور کو، خارشی جانور کو اور اس طرح لنگڑا جانور جو بکریوں کے پیچھے نہ چل سکتا ہو ان کو وصول نہیں کرے گا۔