حدیث نمبر: 10023
١٠٠٢٣ - حدثنا يزيد بن هارون قال: حدثنا محمد بن عمرو عن أبي سلمة قال: سألت عائشة عن صيام رسول اللَّه ﷺ فقالت: كان يصوم حتى نقول لا يفطر ⦗١٢٥⦘ ويفطر حتى نقول لا يصوم، ولم أره في شهر أكثر صيامًا (منه) (١) في شعبان كان يصوم شعبان إلا قليلا (بل) (٢) كان يصوم (شعبان) (٣) كله (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سلمہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روزے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ بعض اوقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی مہینے میں اس طرح مسلسل روزہ رکھتے تو ہم محسوس کرتے کہ آپ روزہ نہیں چھوڑیں گے اور کبھی آپ اس طرح روزہ رکھنے چھوڑتے کہ ہمیں محسوس ہوتا کہ آپ روزہ نہیں رکھیں گے۔ آپ سب سے زیادہ روزے شعبان کے مہینے میں رکھا کرتے تھے۔ آپ شعبان میں کم روزے نہ رکھتے تھے بلکہ پورے شعبان میں روزے رکھتے تھے۔
حدیث نمبر: 10024
١٠٠٢٤ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (حدثنا) (١) صدقة بن موسى قال: أخبرنا ثابت البناني عن أنس قال: سئل رسول اللَّه ﷺ عن (أفضل) (٢) الصيام فقال: "صيام شعبان تعظيمًا لرمضان" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے افضل روزے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ شعبان کا روزہ رمضان کی تعظیم کے لئے ہے۔
حدیث نمبر: 10025
١٠٠٢٥ - حدثنا يزيد قال: أخبرنا المسعودي عن (المهاجر) (١) (أبي) (٢) الحسن عن عطاء بن يسار قال: لم يكن رسول اللَّه (ﷺ) في شهر أكثر صيامًا منه في شعبان وذلك أنه تنسخ فيه آجال من يموت في السنة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے زیادہ روزے شعبان کے مہینے میں رکھا کرتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس مہینے میں ان لوگوں کا وقت لکھا جاتا ہے جن کا اس سال انتقال ہونا ہے۔
حدیث نمبر: 10026
١٠٠٢٦ - حدثنا (زيد) (١) بن (الحباب) (٢) قال: حدثنا ثابت بن قيس قال: ⦗١٢٦⦘ (حدثني) (٣) أبو سعيد (المقبري) (٤) قال: حدثني أبو هريرة عن أسامة بن زيد قال: قلت: يا رسول اللَّه رأيتك تصوم في شعبان صومًا لا (تصومه) (٥) في شيء من الشهور إلا في شهر رمضان قال: "ذلك شهر يغفل الناس عنه بين رجب وشهر رمضان (ترفع) (٦) فيه أعمال الناس فأحب أن لا يرفع لي (٧) عمل إلا وأنا صائم" (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسامہ بن زید کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! میں نے آپ کو شعبان میں اتنے روزے رکھتے دیکھا کہ رمضان کے علاوہ آپ کسی مہینے میں اتنے روزے نہیں رکھتے، اس کی کیا وجہ ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ یہ وہ مہینہ ہے جس سے لوگ غافل ہیں۔ یہ رجب اور رمضان کا درمیانی مہینہ ہے۔ اس میں لوگوں کے اعمال اللہ کے دربار میں بلند کئے جاتے ہیں۔ مجھے یہ بات پسند ہے کہ جب میرے اعمال بارگاہِ الٰہی میں پیش کئے جائیں تو میرا روزہ ہو۔
حدیث نمبر: 10027
١٠٠٢٧ - حدثنا سفيان بن عيينة عن ابن أبي لبيد عن أبي سلمة عن عائشة قال: سألتها عن صيام رسول اللَّه ﷺ فقالت: لم أره (صام) (١) من شهر (قط) (٢) أكثر من صيامه في شعبان كان يصوم شعبان (كله) (٣)، (كان يصوم شعبان) (٤) إلا قليلا (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سلمہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روزوں کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ آپ سب سے زیادہ روزے شعبان کے مہینے میں رکھا کرتے تھے۔ آپ رمضان میں کم روزے نہ رکھتے تھے بلکہ پورے شعبان میں روزے رکھتے تھے۔