کتب حدیث › مصنف ابن ابي شيبه › ابواب › باب: رجب کے روزے کا بیان
❮
❯
١٠٠١٩ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن وبرة (بن) (١) عبد الرحمن عن ⦗١٢٤⦘ خرشة بن الحر قال: رأيت عمر (يضرب) (٢) أكف الناس في رجب حتى يضعوها في الجفان ويقول: كلوا، فإنما هو شهر كان (يعظمه) (٣) أهل الجاهلية (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خرشہ بن حر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر کو دیکھا کہ آپ رجب میں اس وقت تک لوگوں کے ہاتھوں پر مارتے تھے جب تک وہ کھانا کھانے کے لئے اپنے ہاتھ برتنوں میں نہ رکھ دیتے۔ آپ فرماتے کھانا کھاؤ، یہ وہ مہینہ ہے جس کی تعظیم زمانہ جاہلیت کے لوگ کیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 10019
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10019، ترقيم محمد عوامة 9851)
١٠٠٢٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن زيد بن أسلم قال: سئل رسول اللَّه ﷺ عن صوم رجب فقال: "أين أنتم من شعبان" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن اسلم فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے رجب کے روزے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ تم شعبان میں روزہ کیوں نہیں رکھتے ؟
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 10020
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10020، ترقيم محمد عوامة 9852)
١٠٠٢١ - [حدثنا وكيع عن يزيد مولى] (١) الصهباء عن رجل قد سماه عن أنس قال: لا (تكن) (٢) أثنينيًا ولا خميسيًا ولا رجبيًا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پیر کے دن، جمعرات کے دن یا رجب میں روزہ رکھنے کا معمول نہ بناؤ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 10021
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10021، ترقيم محمد عوامة 9853)
١٠٠٢٢ - حدثنا وكيع عن عاصم بن محمد عن أبيه قال: كان ابن عمر إذا رأى الناس وما يعدون (لرجب) (١) كره ذلك (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جب لوگوں کو رجب کے روزے کا اہتمام کرتے دیکھتے تو اسے مکروہ قرار فرماتے ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 10022
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10022، ترقيم محمد عوامة 9854)