حدیث نمبر: 9939
٩٩٣٩ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ابن أبي نجيح عن مجاهد عن ابن عباس قال: إذا جامع المعتكف (أبطل) (١) اعتكافه واستأنف (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اگر معتکف نے جماع کرلیا تو اس کا اعتکاف ٹوٹ گیا اب وہ دوبارہ اعتکاف کرے۔
حدیث نمبر: 9940
٩٩٤٠ - حدثنا حفص عن أشعث عن عطاء قال: يقضي اعتكافه (ويسأنف) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ وہ اپنے اعتکاف کی قضا کرے گا۔
حدیث نمبر: 9941
٩٩٤١ - [حدثنا حفص عن أشعث قال: يقضي اعتكافه] (١).
حدیث نمبر: 9942
٩٩٤٢ - حدثنا ابن الدراوردي عن موسى بن أبي (معبد) (١) عن (سعيد) (٢) بن المسيب (والقاسم) (٣) وسالم قالوا: (يستقبل) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب، حضرت قاسم اور حضرت سالم فرماتے ہیں کہ وہ نئے سرے سے اعتکاف کرے گا۔
حدیث نمبر: 9943
٩٩٤٣ - حدثنا أبو أسامة عن هشام عن الحسن في رجل غشي امرأته وهو معتكف أنه بمنزلة الذي غشي في رمضان، عليه (١) ما على الذي أصاب في رمضان.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ حالت اعتکاف میں بیوی سے جماع کرنا رمضان میں بیوی سے جماع کرنے کی طرح ہے۔ اس پر وہی لازم ہے جو رمضان میں جماع کرنے والے پر لازم ہے۔
حدیث نمبر: 9944
٩٩٤٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن علقمة بن مرثد عن الضحاك قال: كانوا يجامعون وهم معتكفون حتى نزلت: ﴿وَلَا تُبَاشِرُوهُنَّ وَأَنْتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ﴾ [البقرة: ١٨٧].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک فرماتے ہیں کہ لوگ حالت اعتکاف میں جماع کیا کرتے تھے اس پر یہ آیت نازل ہوئی { وَلاَ تُبَاشِرُوہُنَّ وَأَنْتُمْ عَاکِفُونَ فِی الْمَسَاجِدِ } جب تم مسجد میں اعتکاف کی حالت میں ہو تو اپنی بوایوں سے جماع نہ کرو۔
حدیث نمبر: 9945
٩٩٤٥ - حدثنا معن بن عيسى عن ابن أبي ذئب عن الزهري قال: من أصاب امرأته وهو معتكف فعليه من الكفارة مثل ما على الذي يصيب في رمضان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ حالت اعتکاف میں بیوی سے جماع کرنے والے پر وہی کفارہ لازم ہے جو رمضان میں جماع کرنے والے پر لازم ہے۔
حدیث نمبر: 9946
٩٩٤٦ - حدثنا وكيع عن شريك عن الشيباني عن (بكير) (١) (بن) (٢) الأخنس عن مجاهد في المعتكف إذا جامع قال: يتصدق (بدينارين) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ معتکف نے اگر جماع کیا تو وہ دو دینار صدقہ کرے گا۔
حدیث نمبر: 9947
٩٩٤٧ - حدثنا (١) علي (بن) (٢) مسهر عن إسماعيل بن أبي خالد عن الشعبي في إمرأة نذرت أن (تعتكف) (٣) خمسين يومًا (فاعتكفت) (٤) أربعين ثم جاء زوجها فأرسل إليها فأتته (فقال) (٥): (تتم) (٦) ما بقي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ اگر کسی عورت نے نذر مانی کہ وہ پچاس دن تک اعتکاف کرے گی، ابھی چالیس دن گذرے تھے کہ اس کے خاوند نے اس سے ہمبستری کی تو وہ باقی دن پورے کرلے۔