کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات کے نزدیک ’’صومِ دہر‘‘(یعنی کچھ کھائے پئے بغیر مسلسل روزے رکھنا) مکروہ ہے
حدیث نمبر: 9804
٩٨٠٤ - حدثنا أبو الأحوص عن (أبي) (١) إسحاق عن عبد اللَّه بن شداد و (أبي) (٢) ميسرة (قالا) (٣): جاء رجل إلى النبي ﷺ فقال: يا رسول اللَّه رجل صام الأبد؟ قال: "لا صام ولا أفطر" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن شداد اور حضرت ابومیسرہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ ایک آدمی نے صوم دہر رکھا اس کا کیا حکم ہے ؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ وہ نہ روزہ رکھنے والوں میں سے ہے اور نہ روزہ نہ رکھنے والوں میں سے۔
حدیث نمبر: 9805
٩٨٠٥ - حدثنا وكيع عن مسعر وسفيان عن حبيب بن أبي ثابت عن أبي العباس المكي عن عبد اللَّه بن عمرو قال: قال النبي ﷺ: "لا صام من صام الأبد" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے ابد کا روزہ رکھا اس کا روزہ نہ ہوا۔
حدیث نمبر: 9806
٩٨٠٦ - حدثنا وكيع عن مهدي بن ميمون عن غيلان بن جرير عن عبد اللَّه بن (معبد) (١) الزماني عن أبي قتادة قال: قال رجل: يا رسول اللَّه أرأيت رجلًا يصوم الدهر كله؟ قال: "لا صام ولا أفطر (أو ما صام ولا أفطر) (٢) " (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قتادہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ ایک آدمی نے صوم دہر رکھا اس کا کیا حکم ہے ؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ وہ نہ روزہ رکھنے والوں میں سے ہے اور نہ روزہ نہ رکھنے والوں میں سے۔
حدیث نمبر: 9807
٩٨٠٧ - [حدثنا عبيد (١) بن سعيد عن شعبة عن قتادة عن مطرف بن عبد اللَّه بن الشخير عن أبيه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من صام الأبد فلا صام ولا أفطر] (٢) " (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن شخیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ابد کا روزہ رکھنے والا نہ روزہ رکھنے والوں میں سے ہے اور نہ روزہ نہ رکھنے والوں میں سے۔
حدیث نمبر: 9808
٩٨٠٨ - حدثنا وكيع عن شعبة عن (١) قتادة عن أبي تميمة الهجيمي عن أبي موسى قال: من صام الدهر ضيقت عليه (جهنم) (٢) هكذا، (وطبق) (٣) بكفه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں کہ جس شخص نے صوم دہر رکھا اس پر جہنم کو یوں بند کیا جائے گا۔ اور انہوں نے اپنی ہتھیلی کو بند کیا۔
حدیث نمبر: 9809
٩٨٠٩ - حدثنا وكيع عن الضحاك (بن) (١) (يسار) (٢) سمعه (من) (٣) أبي تميمة عن أبي موسى عن النبي ﷺ (مثله) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوموسیٰ نے یہ قول نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے بھی نقل کیا ہے۔
حدیث نمبر: 9810
٩٨١٠ - حدثنا وكيع عن الأعمش عن أبي عمار الهمداني عن عمرو (بن) (١) شرحبيل قال: قال رجل: يا رسول اللَّه أرأيت رجلًا يصوم الدهر كله؟ قال: "وددت (أن لا) (٢) يطعم الدهر كله"، قال: ثلثيه، قال: أكثر قال: نصفه، قال: أكثر. ثم قال رسول اللَّه ﷺ: "ألا أنبئكم ما يذهب (وحر) (٣) (الصدر) (٤) صيام ثلاثة أيام من كل شهر" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن شرحبیل کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا کوئی آدمی صوم دہر رکھ سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ میرے خیال میں وہ پورے دہرکا روزہ نہ رکھے۔ سوال کرنے والے نے کہا کہ اس کے دو تہائی کا رکھ سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ یہ بھی زیادہ ہے۔ اس نے کہا کہ نصفِ دہر کا روزہ رکھ سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ یہ بھی زیادہ ہے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ میں تمہیں ایک ایسی مقدار بتاتا ہوں جس سے اس کے دل کے وساوس اور کھوٹ دور ہوجائیں گے، وہ ہر مہینے میں تین روزے رکھے۔
حدیث نمبر: 9811
٩٨١١ - حدثنا وكيع عن (ابن) (١) أبي خالد عن أبي عمرو الشيباني قال: بلغ عمر أن رجلًا يصوم الدهر فعلاه بالدرة وجعل يقول: كل (يا دهر) (٢) كل يا دهر (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عمرو شیبانی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کو اطلاع ملی کہ ایک آدمی صوم دہر رکھتا ہے۔ آپ نے اسے کوڑا مارا اور فرمایا کہ اے دہر ! کھاؤ، اے دہر ! کھاؤ۔
حدیث نمبر: 9812
٩٨١٢ - حدثنا وكيع عن سفيان عن (الحسن) (١) [(بن عمرو قال) (٢) ذكر (للشعبي) (٣) أن عبيد الكتب يصوم الدهر كله فكره ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن بن عمرو کہتے ہیں کہ حضرت شعبی کو بتایا گیا کہ عبید المکتب صوم دہر رکھتے ہیں۔ حضرت شعبی نے اس کو ناپسند قرار دیا۔
حدیث نمبر: 9813
٩٨١٣ - حدثنا يحيى بن يمان عن الحسن] (١) بن يزيد عن سعيد بن جبير أنه سئل عن صوم الدهر (فكرهه) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر سے صوم دہر کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے اسے مکروہ قرار دیا۔
حدیث نمبر: 9814
٩٨١٤ - حدثنا معن بن عيسى عن خالد بن أبي بكر قال: لم (يكن) (١) سالم والقاسم وعبيد اللَّه يصومون الدهر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد بن ابی بکر فرماتے ہیں کہ حضرت سالم، حضرت قاسم اور حضرت عبید اللہ دہر کا روزہ رکھا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 9815
٩٨١٥ - حدثنا وكيع عن شعبة عن أبي جعفر (الفراء) (١) عن عبد اللَّه بن شداد قال: (قال) (٢) نبي اللَّه ﷺ: "لا صام من صام الدهر" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن شداد فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے صوم دہر رکھا اس کا روزہ نہیں ہوا۔