کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: رمضان کے آخری عشرے کا بیان
حدیث نمبر: 9762
٩٧٦٢ - حدثنا أبو (الأحوص) (١) (٢) عن أبي يعفور عن أبي الصلت عن أبي عقرب الأسدي قال: أتينا ابن مسعود (في) (٣) داره فوجدناه فوق البيت فسمعناه ⦗٥٨⦘ يقول: (قبل أن ينزل) (٤) (صدق) (٥) اللَّه ورسوله، فلما نزل قلنا: يا أبا عبد الرحمن سمعناك تقول: (صدق) (٦) اللَّه ورسوله، فقال: ليلة القدر في النصف من السبع (الأواخر) (٧)، وذلك أن الشمس تطلع يومئذ (بيضاء) (٨) لا شعاع لها، فنظرت إلى الشمس فوجدتها كما (حدثت) (٩) فكبرت (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عقرب اسدی کہتے ہیں کہ ہم حضرت ابن مسعود کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہم نے انہیں کمرے کی چھت پر موجود پایا، ہم نے سنا کہ وہ نیچے اترنے سے پہلے کہہ رہے تھے کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا۔ ہم نے ان سے کہا کہ ہم نے آپ کو سنا کہ آپ نے نیچے اترنے سے پہلے کہا اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ شبِ قدر رمضان کے دوسرے نصف کے سات دنوں میں ہے، اس کی علامت یہ ہے کہ اس رات میں سورج جب طلوع ہوتا ہے تو سفید ہوتا ہے اور کرنوں کے بغیر ہوتا ہے۔ جب میں نے سورج کو دیکھا تو اسے اسی حالت میں پایا جس حالت میں مجھے بتایا گیا تھا، چناچہ میں نے خوشی سے اللہ کی کبریائی بیان کی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9762
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9762، ترقيم محمد عوامة 9602)
حدیث نمبر: 9763
٩٧٦٣ - (حدثنا) (١) ابن إدريس عن عاصم بن كليب عن أبيه عن ابن عباس عن عمر قال: لقد علمتم أن رسول اللَّه ﷺ قال في ليلة القدر: "اطلبوها في العشر الأواخر" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر فرماتے ہیں کہ کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ شبِ قدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9763
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ وتقدم ٢/ ٥١٣ برقم (٨٩٠٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9763، ترقيم محمد عوامة 9603)
حدیث نمبر: 9764
٩٧٦٤ - حدثنا الثقفي عن حميد عن أنس عن عبادة بن الصامت قال: خرج علينا رسول اللَّه ﷺ وهو يريد أن يخبرنا (بليلة) (١) القدر، فتلاحى رجلان فقال: "إني خرجت وأنا أريد أن أخبركم بليلة القدر، فتلاحى فلان وفلان لعل ذلك (أن يكون) (٢) خيرا، (التمسوها) (٣) في التاسعة والسابعة والخامسة" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبادہ بن صامت فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کو شبِ قدر کے بارے میں بتانے کے لئے باہر تشریف لائے تو دو آدمی لڑ رہے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ میں تمہیں شبِ قدر کی اطلاع دینے کے لئے آیا تھا، لیکن فلاں اور فلاں دونوں لڑ رہے تھے، شاید اسی میں خیر ہوگی، تم اسے نویں، ساتویں اور پانچویں رات میں تلاش کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9764
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (٤٩) وأحمد (٢٢٦٦٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9764، ترقيم محمد عوامة 9604)
حدیث نمبر: 9765
٩٧٦٥ - حدثنا شبابة بن سوار عن ليث بن سعد عن يزيد بن (أبي) (١) حبيب عن عبد اللَّه (بن عبد اللَّه) (٢) بن (خبيب) (٣) عن عبد اللَّه بن (أنيس) (٤) صاحب رسول اللَّه ﷺ أنه سئل عن ليلة القدر فقال: إني سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "التمسوها الليلة"، وتلك الليلة ليلة (ثلاث) (٥) وعشرين (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن انیس فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شبِ قدر کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اسے آج کی رات میں تلاش کرو۔ وہ تیئسویں رات تھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9765
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9765، ترقيم محمد عوامة 9605)
حدیث نمبر: 9766
٩٧٦٦ - حدثنا وكيع عن سفيان عن الأوزاعي عن مرثد بن أبي مرثد عن أبيه قال: كنت مع أبي (ذر) - (١) (عند) (٢) الجمرة الوسطى (فسألته) (٣) عن ليلة القدر فقال: كان (أسأل) (٤) الناس عنها رسول اللَّه ﷺ أنا، قلت: يا رسول اللَّه أخبرنا بها (فقال) (٥): "لو أذن لي فيها لأخبرتكم، ولكن التمسوها في إحدى السبعَيْنِ ثم لا ⦗٦٠⦘ (تسألْني) (٦) عنها بعد مقامك أو مقامي هذا" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مرثد فرماتے ہیں کہ میں جمرۂ وسطیٰ کے پاس حضرت ابو ذر غفاری کے پاس تھا۔ میں نے ان سے شبِ قدر کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شب قدر کے بارے میں سب سے زیادہ سوال میں کیا کرتا تھا۔ ایک دن میں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! شبِ قدر انبیاء کے زمانوں میں ہوتی ہے، جب انبیاء دنیا سے تشریف لے جاتے تو یہ رات بھی اٹھا لی جاتی تھی، کیا ایسا ہوتا ہے ؟ آپ نے فرمایا نہیں، بلکہ شبِ قدر قیامت تک باقی رہے گی۔ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! پھر مجھے اس کے بارے میں بتادیجئے۔ آپ نے فرمایا کہ اگر مجھے اس کے بتانے کی اجازت ہوتی تو میں تمہیں ضرور بتادیتا۔ البتہ میں اتنا کہوں گا کہ تم اسے رمضان کی آخری سات راتوں میں سے ایک میں تلاش کرو۔ اب تم مجھ سے اس بارے میں سوال مت کرنا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9766
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9766، ترقيم محمد عوامة 9606)
حدیث نمبر: 9767
٩٧٦٧ - حدثنا مروان بن معاوية (عن) (١) (قنان) (٢) بن عبد اللَّه (النهمي) (٣) (٤) قال: سألت زر بن حبيش عن ليلة القدر فقال: كان عمر وحذيفة [وناس من أصحاب النبي ﷺ] (٥) لا يشكون فيها (أنها) (٦) ليلة سبع وعشرين، قال زر: فواصلها (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قنان بن عبد اللہ نہمی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت زر سے شبِ قدر کے بارے میں سوال کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ حضرت عمر، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ اور بہت سے صحابہ کرام کو اس بارے میں کوئی شک نہیں تھا کہ شبِ قدر رمضان کی ستائیسویں رات ہے۔ جب رمضان کے تین دن باقی رہ جائںّ ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9767
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ قنان صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9767، ترقيم محمد عوامة 9607)