کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر وضو کرتے ہوئے روزہ دار کے حلق میں پانی چلا جائے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 9735
٩٧٣٥ - حدثنا وكيع عن ابن أبي ليلى عن عطاء قال مرة عن ابن عباس (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ اگر نماز کے علاوہ کسی اور مقصد کے لئے وضو کررہا تھا تو اس روزے کی قضا کرے گا۔ اگر نماز کے لئے وضو کررہا تھا تو اس پر قضا لازم نہیں۔
حدیث نمبر: 9736
٩٧٣٦ - وعن حريث عن الشعبي قالا؛ إن كان لغير الصلاة قضى وإن كان للصلاة فلا قضاء عليه.
حدیث نمبر: 9737
٩٧٣٧ - حدثنا عبد الأعلى عن هشام عن الحسن أنه كان يقول: إذا (مضمض) (١) وهو صائم فدخل حلقه شيء لم يتعمده فليس عليه شيء، يتم صومه.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرمایا کرتے تھے کہ اگر کسی نے روزے کی حالت میں کلی کی اور اس کے حلق میں بلا قصد پانی چلا گیا تو اس پر کوئی چیز لازم نہیں۔ وہ روزہ پورا کرے گا۔
حدیث نمبر: 9738
٩٧٣٨ - حدثنا غندر عن شعبة (عن عبد الخالق) (١) عن حماد (في) (٢) الصائم (تمضمض) (٣) فدخل الماء (٤) حلقه، (قال) (٥): إن كان وضوء واجب فليس عليه شيء، وإن كان مضمص (من) (٦) غيره فإنه يعيد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد فرماتے ہیں کہ اگر کلی کرتے ہوئے روزہ دار کے حلق میں پانی چلا گیا، تو اگر وضو واجب تھا تو اس پر کچھ لازم نہیں۔ اگر وہ کسی اور وجہ سے کلی کررہا تھا تو وہ روزے کا اعادہ کرے گا۔
حدیث نمبر: 9739
٩٧٣٩ - حدثنا (مخلد) (١) (عن) (٢) ابن جريج قال إنسان لعطاء: (استنثرت) (٣) ⦗٥٢⦘ (فدخل) (٤) الماء حلقي؟ (٥) (قال: لا) (٦) بأس (٧) لم تملك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت عطاء سے عرض کیا کہ میں ناک صاف کررہا تھا کہ پانی میرے حلق میں چلا گیا، اس میں کوئی حرج تو نہیں ؟ انہوں نے فرمایا نہیں اس میں کوئی حرج نہیں، تم اس کا اختیار نہیں رکھتے۔
حدیث نمبر: 9740
٩٧٤٠ - حدثنا وكيع عن أبي حنيفة عن حماد عن إبراهيم في الصائم يتوضأ فيدخل (الماء) (١) حلقه من وضوئه قال: إن كان ذاكرًا لصومه فعليه القضاء وإن كان ناسيًا فلا شيء عليه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اس روزہ دار کے بارے میں جس کے حلق میں وضو کا پانی چلا جائے فرماتے ہیں کہ اگر اسے روزہ یاد ہو تو وہ قضاء کرے گا اور اگر اسے روزہ یاد نہ ہو تو اس پر کچھ لازم نہیں۔
حدیث نمبر: 9741
٩٧٤١ - حدثنا يزيد بن هارون عن حبيب عن عصرو بن هرم قال: سئل جابر ابن زيد عن رجل كان صائمًا فتوضأ فسبقه الماء إلى حلقه (أ) (١) يفطر قال: لا، وليتم صيامه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن ہرم فرماتے ہیں کہ حضر ت جابر بن زید سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی آدمی روزے سے ہو اور وضو کرتے ہوئے اس کے حلق میں پانی چلا جائے تو کیا اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا ؟ انہوں نے فرمایا نہیں، وہ روزے کو پورا کرے۔