٩٧٢٩ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ابن جريج عن عطاء قال: إذا أمنى الصائم فقد أفطر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اگر روزہ دار کی منی نکل آئی تو اس کا روزہ ٹوٹ گیا۔
٩٧٣٠ - حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج عن عطاء قال: إذا أمنى الصائم أفطر. قلت: فيكفر كفارة المني. قال: نعم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ اگر روزہ دار کی منی نکل آئی تو اس کا روزہ ٹوٹ گیا۔ میں نے کہا کہ کیا وہ منی نکلنے کا کفارہ دے گا ؟ انہوں نے کہا ہاں۔
٩٧٣١ - [حدثنا يزيد بن هارون عن هشام عن الحسن قال: إذا قبل أو لمس وهو صائم فأمنى فهو بمنزلة المجامع] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اگر کسی نے روزہ کی حالت میں بیوی کا بوسہ لیا یا اسے چھوا اور اس کی منی نکل آئی تو یہ جماع کے درجہ میں ہے۔
٩٧٣٢ - حدثنا يزيد بن هارون عن حبيب عن عمرو بن هرم قال: سئل جابر بن زيد عن رجل نظر إلى امرأته في رمضان فأمنى من شهوتها (هل يفطر؟) (١) قال: لا، ويتم صومه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن زید سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی آدمی رمضان میں اپنی بیوی کو دیکھے اور شہوت کی وجہ سے اس کی منی نکل آئے تو کیا اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا ؟ انہوں نے فرمایا نہیں، وہ اپنے روزے کو پورا کرے۔
٩٧٣٣ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن عامر في الصائم يلاعب امرأته حتى يمذي أو يودي؟ قال: لا يوجب عليه القضاء إلا ما أوجب عليه الغسل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ اگر کسی آدمی نے روزے کی حالت میں اپنی بیوی سے ملاعبت کی اور اس کی مذی یاودی نکلی تو اس پر قضاء اس وقت تک واجب نہ ہوگی جب تک وہ چیز نہ نکلے جو غسل کو واجب کرتی ہے یعنی منی۔
٩٧٣٤ - حدثنا يحيى بن سعيد عن ابن جريج عن عطاء قال: إن أمنى الصائم أفطر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اگر روزہ دار کی منی نکل آئی تو اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا۔